ہندوستان کے ہرمیت دیسائی اور یشسوِنی گھورپڑے نے ایشیائی ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں مکسڈ ڈبلز کا کانسہ کا تمغہ جیت کر ہندوستانی کھیلوں کی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کردیا۔
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 10:08 PM IST | New Delhi
ہندوستان کے ہرمیت دیسائی اور یشسوِنی گھورپڑے نے ایشیائی ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں مکسڈ ڈبلز کا کانسہ کا تمغہ جیت کر ہندوستانی کھیلوں کی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کردیا۔
ہندوستان کے ہرمیت دیسائی اور یشسوِنی گھورپڑے نے ایشیائی ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں مکسڈ ڈبلز کا کانسہ کا تمغہ جیت کر ہندوستانی کھیلوں کی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کردیا۔ اس ہندوستانی جوڑی نے ازبکستان کے شہر تاشقند میں منعقدہ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۷۲؍ سال بعد اس چیمپئن شپ کے مکسڈ ڈبلز مقابلے میں ہندوستان کے لیے تمغہ یقینی بنایا۔ جنوبی کوریا کے پارک گینگ ہیون اور لی ڈائی اُن کے خلاف سخت مقابلے میں کامیابی حاصل کرکے سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے ساتھ ہی ہندوستانی جوڑی نے کم از کم کانسہ کا تمغہ پکا کرلیا تھا۔ بعد ازاں سیمی فائنل میں جاپان کی مضبوط جوڑی سے شکست کے باعث ان کا سفر کانسہ کے تمغے پر ختم ہوا۔
ہرمیت دیسائی اور یشسوِنی گھورپڑے نے کوارٹر فائنل میں جنوبی کوریا کے پارک گینگ ہیون اور لی ڈائی اُن کا سامنا کیا۔ یہ مقابلہ انتہائی سخت اور دلچسپ رہا، لیکن ہندوستانی کھلاڑیوں نے دباؤ کے لمحات میں بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے ۲۔۳؍ سے کامیابی حاصل کی۔ پانچ گیمز پر مشتمل اس مقابلے میں دونوں جوڑیوں کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ ہندوستانی جوڑی نے۶۔۱۱، ۸۔۱۱، ۱۱۔۸، ۹۔۱۱؍ اور ۹۔۱۱؍ کے اسکور سے کامیابی حاصل کی۔ تقریباً ۴۲؍ منٹ تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں ہندوستانی کھلاڑیوں نے اہم مواقع پر حوصلہ برقرار رکھا اور فیصلہ کن گیمز جیت کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی ہندوستان کا۷۲؍ سالہ انتظار ختم ہوا اور مکسڈ ڈبلز میں تمغہ یقینی ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے:رجنی کانت کی’ ’جیلر۲‘‘نے دنیا بھر میں ۶۰۰؍ کروڑ روپے کا ہندسہ عبور کرلیا
کوارٹر فائنل میں تاریخی کامیابی کے بعد بھارتی جوڑی کا مقابلہ سیمی فائنل میں جاپان کے سورا ماتسوشیما اور میوا ہاریموتو سے ہوا۔ جاپانی جوڑی نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستانی کھلاڑیوں کو۹۔۱۱، ۹۔۱۱؍ ۸۔۱۱؍ سے شکست دی۔ اس طرح ہرمیت دیسائی اور یشسوِنی گھورپڑے کا سفر سیمی فائنل میں ختم ہوگیا، لیکن وہ کانسہ کا تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ایشین ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ کے مکسڈ ڈبلز مقابلے میں ہندوستان کو آخری مرتبہ ۱۹۵۴ء میں تمغہ حاصل ہوا تھا۔ اس وقت یتین ویاس اور مینا پرانڈے کی ہندوستانی جوڑی نے چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ اس سے قبل ۱۹۵۲ء میں گول ناسک والا اور کلیان جینت نے سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ ان کامیابیوں کے بعد بھارتی کھلاڑیوں کو اس مقابلے میں دوبارہ تمغہ جیتنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا۔ اب ۷۲؍ سال بعد ہرمیت دیسائی اور یشسوِنی گھورپڑے نے کانسہ کا تمغہ جیت کر اس انتظار کو ختم کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہیری بروک کی ڈبل سنچری رائیگاں، سری لنکا کی انگلینڈ پر سنسنی خیز جیت
چیمپئن شپ میں ہندوستان کی ایک اور مکسڈ ڈبلز جوڑی پایس جین اور سنڈریلا داس بھی میدان میں اتری، لیکن وہ کوارٹر فائنل سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ چینی کھلاڑی یی چن اور ہوانگ یوزینگ نے ہندوستانی جوڑی کو ۰۔۳؍ سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ اس طرح ہرمت اور یشسوِنی ہی ہندوستان کے لیے اس مقابلے میں تمغہ جیتنے میں کامیاب رہے۔ ہرمیت دیسائی اور یشسوِنی گھورپڑے کی یہ کامیابی ہندوستانی ٹیبل ٹینس کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے مضبوط ایشیائی حریفوں کے خلاف اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف تمغہ حاصل کیا بلکہ اس کھیل میں ہندوستان کی طویل انتظار کے بعد واپسی بھی یقینی بنائی۔ ایشیائی سطح پر چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ انتہائی سخت ہوتا ہے، ایسے میں ہندوستانی جوڑی کی کامیابی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔اس تاریخی کانسہ کے تمغے کے ساتھ ہرمیت دیسائی اور یشسوِنی گھورپڑے نے ہندوستانی ٹیبل ٹینس میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ان کی کامیابی مستقبل میں ہندوستانی کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بن سکتی ہے اور ایشیائی مقابلوں میں مزید بہتر کارکردگی کی امید بھی بڑھاتی ہے۔