ٹریوس ہیڈ (۱۶۳) اور اسٹیون اسمتھ (ناٹ آؤٹ ۱۲۹؍رن) کی شاندار سنچریوں کی بدولت آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ کے تیسرے دن مقابلے میں اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ میزبان ٹیم نے پورے دن میں ۳۵۲؍ رن جوڑے اور کھیل کے اختتام تک ۱۳۴؍ رن کی برتری حاصل کر لی۔
EPAPER
Updated: January 06, 2026, 4:14 PM IST | Sydney
ٹریوس ہیڈ (۱۶۳) اور اسٹیون اسمتھ (ناٹ آؤٹ ۱۲۹؍رن) کی شاندار سنچریوں کی بدولت آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ کے تیسرے دن مقابلے میں اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ میزبان ٹیم نے پورے دن میں ۳۵۲؍ رن جوڑے اور کھیل کے اختتام تک ۱۳۴؍ رن کی برتری حاصل کر لی۔
ٹریوس ہیڈ (۱۶۳) اور اسٹیون اسمتھ (ناٹ آؤٹ ۱۲۹؍رن) کی شاندار سنچریوں کی بدولت آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ کے تیسرے دن مقابلے میں اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ میزبان ٹیم نے پورے دن میں ۳۵۲؍ رن جوڑے اور کھیل کے اختتام تک ۱۳۴؍ رن کی برتری حاصل کر لی۔ اسٹمپس تک آسٹریلیا کا اسکور ۷؍ وکٹ پر ۵۱۸؍ رن تھا، جس سے انگلینڈ کے لیے ٹیسٹ میچ بچانا ایک بڑا چیلنج بن گیا۔
سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں پنک ڈے کے موقع پر انگلینڈ نے اپنا دوسرا ریویو جلد ہی گنوا دیا، جب نائٹ واچ مین مائیکل نیسر کے کیچ بیہائنڈ کی اپیل میں صرف بلّے کے زمین سے ٹکرانے کی آواز سامنے آئی۔ ہیڈ، جو ۹۱؍رن پر بلے بازی کے لیے آئے تھے، نے ایک شاٹ باؤنڈری لگاکر اسکور ۹۶؍رن تک پہنچایا، پھر جوش ٹنگ کو کورز کے اوپر سے کھیل کر سیریز کی تیسری اور مجموعی طور پر ٹیسٹ میں ۱۲؍ ویں سنچری مکمل کی۔
میچ کے دوسرے دن میتھیو پوٹس کا ہیڈ نے جارحانہ بلے بازی سے استقبال کیا اور دن کی اپنی پہلی تین گیندوں پر لگاتار تین چوکے لگائے۔ اگرچہ ہیڈ کے خلاف شارٹ گیندوں کی حکمتِ عملی تقریباً فوراً کارگر ثابت ہونے لگی، لیکن وِل جیکس نے برائیڈن کارس کی گیند پر ڈیپ مڈ وکٹ پر ایک آسان کیچ چھوڑ دیا، جس سے مہمان ٹیم کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔ نیسر، جنہوں نے پہلے سیشن میں کئی بار شاٹ کھیلنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے، بعد ازاں آف سائیڈ پر چند خوبصورت ڈرائیوز بھی کھیلے، اس سے پہلے کہ انگلینڈ نے نیسر کے خلاف آف اسٹمپ کے باہر ہاک آئی پر اثر کے ساتھ اپنا آخری ریویو استعمال کر لیا۔
آخرکار نیسر کارس کی گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے اور نائٹ واچ مین کی مزاحمت ختم ہو گئی۔ ہیڈ نے لگاتار چوکے لگا کر انگلینڈ کی پریشانیاں بڑھائیں، جن میں پوٹس کی گیند پر ایک شاندار پل شاٹ بھی شامل تھا۔ ہیڈ نے سلپ کورڈن کے اوپر سے ایک طاقتور شاٹ کھیل کر ۱۵۰؍ رن مکمل کیے جبکہ اسمتھ آہستہ آہستہ اپنی اننگز میں جم رہے تھے۔
ہیڈ۱۶۳؍ رن پر جیکب بیتھل کی گیند پر پیڈ سے ٹکرانے کے بعد آؤٹ ہوئے اور انہوں نے ریویو بھی لیا، جس سے ۵۴؍ رن کی شراکت ٹوٹ گئی۔ عثمان خواجہ اپنے آخری ٹیسٹ میں گارڈ لینے میدان میں آئے۔ اسی دوران اسمتھ نے بین اسٹوکس کو لگاتار تین چوکے مار کر میزبان ٹیم کو ۳۰۰؍رن کے پار پہنچایا اور رن بنانے کا سلسلہ جاری رہا۔ انگلینڈ نے دوسری نئی گیند ملتے ہی لے لی، لیکن پوٹس اور کارس کی گیندوں پر کافی چوکے لگے اور اسمتھ ۵۰؍ رن تک پہنچ گئے۔ جیسے ہی دونوں بلے بازوں نے ۵۰؍ رن کی شراکت مکمل کی، کارس نے خواجہ کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔
ایلکس کیری نے ۱۳؍ گیندوں پر۱۶؍ رن کی تیز رفتار اننگز کھیلی، جس میں تین چوکے شامل تھے، جو سب ایکسٹرا کور میں لگے، اس کے بعد وہ ٹنگ کی گیند پر لیگ سلپ میں بیتھل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھئے:سنجے خان نے سنجیدہ فلموں اورتاریخی سیریلوں سے نام کمایا
پوٹس کی مسلسل آسان گیندبازی کے باعث آسٹریلیا انگلینڈ کے۳۸۴؍ رن کے قریب پہنچ گیا اور چائے کے وقفے تک وہ سات رن پیچھے تھے۔ چائے کے بعد پہلے اوور میں کیمرون گرین نے اسٹوکس کو چوکا لگایا، لیکن آخری سیشن مکمل طور پر اسمتھ کے نام رہا۔ ایکسٹرا کور کے ذریعے اسمتھ کا چوکا آسٹریلیا کو برتری دلانے والا ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھئے:’’مہایوتی کی اقتدار کی بھوک جمہوریت کو نگلنے کے قریب پہنچ گئی ہے‘‘
اسمتھ نے بیتھل کی گیند پر سیدھا چھکا لگایا، جبکہ گرین نے اسٹوکس کی گیند پر ۹۴؍ میٹر طویل شاندار چھکا لگایا۔ اسمتھ بیک ورڈ اسکوائر لیگ کے ذریعے چوکا لگا کر نوّے کے ہندسے میں داخل ہوئے، تاہم گرین ایک غلط انداز میں کھیلے گئے پل شاٹ پر بین ڈکٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے اور کارس نے اپنا تیسرا وکٹ حاصل کیا۔بعد ازاں اسمتھ نے فائن لیگ کی جانب تین رن لے کر اپنی ۳۷؍ویں ٹیسٹ سنچری مکمل کی، یوں وہ راہل دراوڑ کو پیچھے چھوڑ گئے۔ یہ ان کی ۱۳؍ویں ایشیز سنچری بھی تھی، جبکہ اس فہرست میں صرف ڈان بریڈمین ۱۹؍ سنچریوں کے ساتھ ان سے آگے ہیں۔ بیو ویب اسٹر اور اسمتھ نے آٹھویں وکٹ کے لیے ۸۱؍ رن کی ناٹ آؤٹ شراکت قائم کی اور دونوں بالترتیب ۱۲۹؍ اور ۴۲؍ رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔