Updated: March 17, 2026, 3:03 PM IST
| Riyadh
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث فارمولا ون نے اپریل میں شیڈول بحرین (۱۰؍ تا۱۲؍ اپریل) اور جدہ (۱۷؍ تا۱۹؍ اپریل) کی ریسیز منسوخ کر دی ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں جاپانی گرینڈ پرکس اور میامی گرینڈ پرکس کے درمیان تقریباً پانچ ہفتوں کا غیر متوقع وقفہ آ گیا ہے۔
فارمولاون۔ تصویر:آئی این این
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث فارمولا ون نے اپریل میں شیڈول بحرین (۱۰؍ تا۱۲؍ اپریل) اور جدہ (۱۷؍ تا۱۹؍ اپریل) کی ریسیز منسوخ کر دی ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں جاپانی گرینڈ پرکس اور میامی گرینڈ پرکس کے درمیان تقریباً پانچ ہفتوں کا غیر متوقع وقفہ آ گیا ہے، جس سے ٹیموں کے تربیتی ڈیٹا اور اپ گریڈ پلانز پر گہرا اثر پڑے گا۔رپورٹس کے مطابق، ان منسوخی کے باعث فارمولا ون کو تقریباً ۲۰۰؍ ملین ڈالر سالانہ ریونیو کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک بڑی رقم ہے، مگر کھیل کی مجموعی آمدنی کے مقابلے میں اسے قابلِ برداشت قرار دیا جا رہا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں فارمولا ون نے تقریباً ۹ء۳؍ ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:ایران کے ساتھ جاری تنازع کے درمیان ٹرمپ نے اپنا بیجنگ کا دورہ ملتوی کردیا
سب سے بڑا مالی نقصان پروموٹر فیس کی مد میں ہوگا، جو میزبان ممالک یا سرکٹس فارمولا ون کو ادا کرتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق بحرین اور سعودی عرب مل کر سالانہ تقریباً ۱۱۵؍ملین ڈالر ادا کرتے ہیں، جو اب ضائع ہو سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ فارمولا ون کے لیے ایک انتہائی منافع بخش خطہ بن چکا ہے، جہاں طویل مدتی معاہدے کیے گئے ہیں۔ بحرین کا معاہدہ ۲۰۳۶ء تک جبکہ سعودی عرب کا معاہدہ ۲۰۳۰ء تک جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امتیاز علی کی ’’مَیں واپس آؤں گا‘‘ کا ٹیزر ریلیز
جنگی حالات کے باعث سفری مشکلات بھی سامنے آئی ہیں، جہاں ٹیموں کو بند فضائی حدود کی وجہ سے متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ فی الحال سیزن کے باقی مقابلے متاثر نہیں ہوئے، اور منتظمین کو امید ہے کہ سال کے آخر تک حالات بہتر ہو جائیں گے، جب قطر اور ابوظہبی میں ریسز شیڈول ہیں۔ریسوں کی منسوخی کے ساتھ ساتھ ٹیموں کو لاجسٹکس میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ کئی فضائی راستے بند ہونے کی وجہ سے چارٹرڈ پروازوں کو متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔ فارمولا ون کا مشرقِ وسطیٰ میں اگلا پڑاؤ ستمبر میں باکو (آذربائیجان) میں ہوگا، جبکہ سیزن کا اختتام قطر اور ابوظہبی کی ریسوں پر ہونا ہے۔ منتظمین کو امید ہے کہ تب تک حالات میں بہتری آ جائے گی۔