Inquilab Logo Happiest Places to Work

حیدرآباد: بی ایم ڈبلیو میں ’’جیمز بونڈ‘‘ طرز نمبر پلیٹ، ڈاکٹر گرفتار

Updated: April 14, 2026, 2:03 PM IST | Hyderabad

حیدرآباد کے جوبلی ہلز میں ڈرنک ڈرائیونگ چیک کے دوران ایک بی ایم ڈبلیو کار سے ’’فلپ نمبر پلیٹ‘‘ سسٹم برآمد ہوا، جو مختلف رجسٹریشن نمبرز کے درمیان سوئچ کرنے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر گوتم ریڈی نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہے تھے اور ان کا بی اے سی مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ گاڑی پر دہلی اور تلنگانہ دونوں نمبر پلیٹس استعمال کی جا رہی تھیں، جس سے روڈ ٹیکس چوری کا شبہ پیدا ہوا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

حیدرآباد کے پوش علاقے جوبلی ہلز میں ایک معمول کی ڈرنک ڈرائیونگ چیکنگ نے اس وقت غیر معمولی رخ اختیار کر لیا جب پولیس نے ایک لگژری بی ایم ڈبلیو کار میں ’’جیمز بونڈ طرز‘‘ کا فلپ نمبر پلیٹ سسٹم دریافت کیا۔ یہ واقعہ ۱۰؍ اپریل کی رات پیش آیا جب ٹریفک پولیس نے چرنجیوی بلڈ بینک کے قریب چیکنگ کے دوران ڈاکٹر گوتم ریڈی کو روکا۔ ابتدائی جانچ میں وہ نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے پائے گئے، جہاں ان کا بلڈ الکحل لیول (بی اے سی) ۱۳۷؍ ملی گرام پر ۱۰۰؍ ملی لیٹر ریکارڈ کیا گیا، جو قانونی حد ۳۰؍ ملی گرام سے کہیں زیادہ تھا۔ پولیس کے مطابق، ڈاکٹر نے موقع پر مکمل تفصیلات دینے سے انکار کیا جس پر گاڑی کو ضبط کر کے تھانے منتقل کیا گیا۔ تاہم اصل حیران کن انکشاف اس وقت ہوا جب گاڑی کا معائنہ کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: جے پور: متنازع گلابی ہاتھی ’’چنچل‘‘ کی موت، سیاحتی استحصال پر نئی بحث

ایک کانسٹیبل نے غلطی سے ڈرائیور سیٹ کے قریب موجود بٹن دبا دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی کی نمبر پلیٹ پلٹ گئی اور ایک مختلف رجسٹریشن نمبر ظاہر ہو گیا۔ یہ منظر بالکل جیمز بونڈ کی فلموں جیسا تھا، جہاں خفیہ مشن کے دوران گاڑیوں کی شناخت بدل دی جاتی ہے۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ گاڑی میں ایک ایسا مکینیکل سسٹم نصب تھا جو دہلی اور تلنگانہ کے دو مختلف رجسٹریشن نمبرز کے درمیان فوری تبدیلی کی اجازت دیتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم جان بوجھ کر نصب کیا گیا تھا تاکہ اصل رجسٹریشن کو چھپایا جا سکے۔ مزید چھان بین سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹر نے یہ لگژری گاڑی دہلی سے خریدی تھی لیکن اسے تلنگانہ میں باقاعدہ رجسٹر نہیں کرایا۔ اس کے بجائے، انہوں نے ایک اور گاڑی کے تلنگانہ نمبر کو بطور کور استعمال کیا، جو ان کے خاندان کے نام پر رجسٹر تھی۔

یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی: مرحوم آیت اللہ خامنہ ای کا چہلم، ہند ایران تعلقات پر زور

پولیس کے مطابق، ملزم نے مبینہ طور پر یہ فلپ نمبر پلیٹ سسٹم آن لائن خریدا اور تقریباً دو سال قبل مادھا پور میں ایک کار ڈیکوریشن ورکشاپ میں اسے نصب کروایا۔ اب حکام اس ٹیکنیشن سے بھی پوچھ گچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس نے یہ سسٹم انسٹال کیا تھا۔ اگرچہ ڈاکٹر نے دعویٰ کیا کہ یہ تبدیلی محض ’’تفریح‘‘ کے لیے کی گئی تھی، لیکن تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ اس کا اصل مقصد روڈ ٹیکس سے بچنا تھا، جو بین ریاستی گاڑیوں کے لیے لازمی ہوتا ہے۔ پولیس نے ڈاکٹر کے خلاف دھوکہ دہی، جعلسازی اور نقالی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت نشے میں گاڑی چلانے کا کیس بھی قائم کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا اس طریقہ کار کو دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی استعمال کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK