• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میں میدان پر بلے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتا تھا: کے ایل راہل

Updated: October 04, 2026, 9:07 PM IST | New Delhi

ہندوستانی مڈل آرڈر کے بلے باز کے ایل راہل نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ون ڈے میں شکست اور سیریز میں کلین سویپ نہ کرپانے پر مایوسی کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ میدان پر بلے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتے تھے۔

K L Rahul.Photo:X
کے ایل راہل۔ تصویر:ایکس

ہندوستانی مڈل آرڈر کے بلے باز کے ایل راہل نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ون ڈے میں شکست اور سیریز میں کلین سویپ نہ کرپانے پر مایوسی کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ میدان پر بلے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتے تھے۔راہل نے اپنی اننگز اور اس بارے میں تفصیل سے بات کی کہ وہ میدان پر کچھ وقت کیوں گزارنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۲۹؍رن بناکر خوش ہوں، لیکن اس بات سے مایوس ہوں کہ ہم سیریز میں کلین سویپ نہیں کرپائے۔ اگر ایسا کرپاتے تو خوشی کی سطح بہت زیادہ ہوتی۔ پھر بھی، میں میدان پر بلے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتا تھا۔ آخری بار جب مجھے ون ڈے کرکٹ میں مڈل آرڈر میں طویل وقت تک بلے بازی کا موقع ملا تھا، تو وہ اس سال جنوری کے شروع میں نیوزی لینڈ کے خلاف تھا اور اس کے بعد سے مجھے لمبی اننگز کھیلنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔ اگلا سال بہت اہم ہے کیونکہ اکتوبر میں ورلڈ کپ شروع ہوگا، اس لیے میرے لیے بلے بازی میں قیمتی وقت گزارنا ضروری ہے۔ میدان سے باہر میں کچھ چیزیں آزما رہا ہوں اور انہیں کھیل میں آزمانا چاہتا ہوں، تب ہی معلوم ہوگا کہ پس پردہ کی جانے والی میری محنت کارآمد ثابت ہورہی ہے یا مجھے کچھ مختلف کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے میرے لیے کچھ وقت تک بلے بازی کرنا ضروری تھا اور میں اس سے خوش ہوں۔ 

یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر یونائیٹڈ نے ۲۵۰؍ویں میچ کو یادگار بنا دیا، لیورپول کو شکست

مڈل آرڈر میں بلے بازی کے چیلنج کے بارے میں راہل نے کہاکہ یہ بہت مختلف ہے، لیکن میں گزشتہ چھ سات برس سے یہ کردار ادا کررہا ہوں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں، جب سے گیند تبدیل کرنے کا ضابطہ آیا ہے، حالات بہت بدل گئے ہیں۔ آخری ۱۰؍ اوورز میں ۸۰۔۹۰؍ رن بنانا آسان نہیں رہا ہے۔ گیند ریورس سوئنگ ہورہی ہے اور اس میچ میں بھی جب گیند پرانی اور نرم ہوگئی اور ریورس سوئنگ ہونے لگی تو ایک بلے باز کے طور پر آپ کو لانگ آن اور ڈیپ مڈ وکٹ فیلڈر کے اوپر سے شاٹ کھیلنے کا اعتماد نہیں ہوتا، خاص طور پر اس وقت جب اس جانب باؤنڈری بڑی ہو۔ 
انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ ٹاپ آرڈر میں بلے بازی کی ہے اور مجھے سخت گیند پسند ہے جو تیزی سے میرے پاس آئے تاکہ میں اس کی رفتار کا فائدہ اٹھاسکوں۔ اسی لیے میں نرم اور پرانی گیند کے ساتھ کھیلنے اور اس پر چھکے لگانے کی کوشش پر کام کررہا ہوں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر میں نے محنت کی ہے۔ میں مسلسل اپنے کھیل کو بہتر بنانے، اپنے کردار کو سمجھنے اور یہ جاننے کی کوشش کررہا ہوں کہ ٹیم کے لیے مستقل اچھی کارکردگی پیش کرنے کے لیے نمبر پانچ اور نمبر چھ کے بلے باز کو کیا کرنا ہوتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سِنگیتَم شری نواس راؤ کے انتقال پر جنوبی ہند کی فلم انڈسٹری سوگوار

ٹیم کی جانب سے ۲۰۲۷ء کرکٹ ورلڈ کپ کی تیاری اور مختلف کھلاڑیوں کو آزمانے کے لیے دو طرفہ سیریز کے استعمال کے بارے میں راہل نے کہا کہ ورلڈ کپ سے قبل ہونے والی تمام سیریز میدان پر کھیلنے کا اچھا موقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم اپنی حکمت عملی سے بہت دور نہیں جانا چاہتی، لیکن بلے بازی یونٹ کے طور پر کچھ تجربات بھی کرنا چاہتی ہے۔
راہل نے کہاکہ اب تک ہمارا ہدف پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ۳۳۰-۳۴۰؍ رن بنانا رہا ہے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ون ڈے کرکٹ میں ۳۴۰؍ اور ۳۵۰؍رن آسانی سے حاصل کیے جارہے ہیں۔ اس لیے جب بلے باز سیٹ ہوجائیں تو وہ کس طرح جارحانہ کھیل جاری رکھتے ہوئے ۳۷۰-۳۸۰؍ رن بناسکتے ہیں یا کسی دن ۴۰۰؍ رن تک پہنچنے کی کوشش کرسکتے ہیں، یہ بھی دیکھنا ہوگا۔ مڈل آرڈر کے بلے باز کے طور پر کریز پر آتے ہی ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہم سیٹ ہونے میں زیادہ وقت نہ لیں، اسٹرائیک روٹیٹ کرنا شروع کریں اور ہر چھ یا سات گیندوں پر باؤنڈری لگاتے رہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ بمراہ اور اکشر جیسے اہم کھلاڑی ٹیم میں نہیں تھے، اس لیے ہمیں دوسرے کھلاڑیوں کو آزمانے کا موقع ملا۔ کوچ اور کپتان ان کھلاڑیوں کے بارے میں بہت واضح ہیں جنہیں وہ ٹیم میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کچھ ایسے کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع دینا چاہتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں لگتا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK