Updated: January 14, 2026, 7:23 PM IST
|
Agency
| Doha
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تنازع کو روکنےکی خواہش ظاہر کی ،اس دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ٹرمپ کو سبق سکھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری۔ تصویر: آئی این این
ایران میں عوامی احتجاج کی لہر کے درمیان قطر نےاس خطے میں کسی بھی ممکنہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تباہ کن اثرات کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ ادھر واشنگٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے لیے سفارتی راستوں پر غور کر رہا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی جانچ رہا ہے کہ آیا ایسا فوجی حملہ کیا جائے جو ایرانی قیادت کو مظاہرین پر ’جبر‘ جاری رکھنے سے روک سکے۔ یہ بات امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمس ‘نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری سے جب فرانس پریس ایجنسی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی خطرات سے متعلق سوال کیا تو ان کا جواب تھا ’’ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی کشیدگی... خطے اور اس کے باہر تباہ کن نتائج رکھ سکتی ہے اور ہم اسے ممکن حد تک روکنا چاہتے ہیں۔‘‘
نیو یارک ٹائمس کے مطابق واشنگٹن کے پاس ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کیلئے مختلف راستے موجود ہیں جن میں ایرانی جوہری پروگرام کے اہداف پر حملے اور بیلسٹک میزائلوں کی تنصیبات پر حملے شامل ہیں۔دریں اثنا ایران کے دارالحکومت تہران میں پیر کی شام ایک نئی احتجاجی لہر دیکھنے میں آئی اور مظاہرین نے فارس صوبے کے شہر مُشکان میں فورسیز کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔پچھلے چند دنوں میں بڑےمظاہروں کے جواب میں حکام نے ایرانی حکومت کے حق میں مظاہروں کی اپیل کی ہے جس کے بعد تہران کے ایک بڑے چوک پر ہزاروں افراد نے حکومت کے حق میں مظاہرہ کیا اور احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے سیکوریٹی اہل کاروں کی یاد میں سوگ منایا۔اس دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تہران میں حکومت کے حق میں نکالی جانے والی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آج سے اعلان جنگ ہے، دشمن کبھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ آپ سے جو جھوٹ بولے جا رہے ہیں اُن پر یقین نہ کریں۔ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران کی فوج صدر ٹرمپ کو ناقابل فراموش سبق سکھائے گی اور خطے میں موجود تمام امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔