Inquilab Logo Happiest Places to Work

امام الحق کی لارڈز ٹیسٹ میں آگے کھیلنے کی گنجائش کم

Updated: August 30, 2026, 10:04 PM IST | London

امام الحق کے لارڈز ٹیسٹ میں آگے کھیلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہیں بائیں پیر کی پنڈلی میں گریڈ- وَن ٹیر ہوا ہے اور ڈاکٹروں نے انہیں ۱۰؍ دن آرام کا مشورہ دیا ہے۔ اطلاع کے مطابق بائیں ہاتھ کے اس ٹاپ آرڈر بلے باز کو پہلے دن کا کھیل ختم ہونے کے بعد اسکین کے لیے لے جایا گیا تھا۔

Imam Ul Haq.Photo:INN
امام الحق۔ تصویر:آئی این این

امام الحق کے لارڈز ٹیسٹ میں آگے کھیلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہیں بائیں پیر کی پنڈلی میں گریڈ- وَن ٹیر ہوا ہے اور ڈاکٹروں نے انہیں ۱۰؍ دن آرام کا مشورہ دیا ہے۔ کرک انفو کو ملی معلومات کے مطابق بائیں ہاتھ کے اس ٹاپ آرڈر بلے باز کو پہلے دن کا کھیل ختم ہونے کے بعد اسکین کے لیے لے جایا گیا تھا۔ اسی جانچ کے بعد ان کی چوٹ کی شدت کا پتہ چلا۔
پہلے دن چائے کے بعد امام میدان پر نہیں اترے اور اس کے بعد سے اس ٹیسٹ میں انہوں نے کوئی رول ادا نہیں کیا ہے۔ ان کی جگہ سلمان علی آغا متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان پر ہیں۔ دوسرے دن پاکستان کی پہلی اننگز میں بھی امام بلے بازی کرنے نہیں آئے تھے۔ جبکہ انگلینڈ کی پہلی اننگز میں بنائے گئے ۲۹۰؍ رن کے جواب میں پاکستان کی پہلی اننگز صرف ۳۸؍ اوور میں ۱۱۰؍ رن پر سمٹ گئی تھی۔ دوسرے دن لارڈز میں کھیل شروع ہونے سے پہلے پاکستان نے کہا تھا کہ امام کا اس میچ میں آگے کھیلنا ان کی ’بائیں پنڈلی کے پٹھے میں کھنچاؤ‘ کے علاج پر منحصر ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:ہندو اور مسلم انتہا پسند جاوید اختر اور مجھے برداشت نہیں کر سکتے: شبانہ اعظمی

تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے کے بعد جب تیز گیند باز محمد علی سے امام کی چوٹ کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے سوال کو ٹالتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں آپ کو اس کے بارے میں کچھ نہیں بتا پاؤں گا۔ مجھے ان کی حالت کے بارے میں معلوم ہے، لیکن ٹیم کا میڈیکل پینل آپ کو اس کے بارے میں بہتر معلومات دے سکتا ہے۔‘‘
امام کو یہ پنڈلی کی چوٹ ہیڈنگلے ٹیسٹ میں بلے بازی کرتے وقت لگی تھی۔ پاکستان وہ ٹیسٹ اننگز اور ۱۰۳؍ رن سے ہار گیا تھا۔ اس ٹیسٹ کی پہلی اننگز کے دوران ٹیم کے میڈیکل پینل نے امام کا علاج کیا تھا۔ ۴۲؍ رن کی اپنی اننگز کے دوران ان کی بائیں پنڈلی پر پٹی بھی باندھی گئی تھی۔ اسی اننگز میں انہوں نے عبداللہ شفیق کے ساتھ تیسرے وکٹ کے لیے ۹۱؍ رن کی شراکت داری کی تھی۔ تاہم، اس کے بعد پاکستان کی پوری ٹیم صرف ۱۷۱؍ رن پر ڈھیر ہوگئی تھی۔دوسری اننگز میں امام کا دستیاب نہ ہونا پاکستان کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہوگا۔ ٹیم اس وقت سیریز برابر کرنے کے لیے ایک انتہائی مشکل ہدف کا تعاقب کر رہی ہے۔ تیسرے دن بارش کے سبب کھیل متاثر ہونے کے باوجود انگلینڈ نے ڈین لارنس کی شاندار ۶۶؍ گیندوں میں ناٹ آؤٹ ۵۰؍ رن کی اننگز کی بدولت  ۳۵۷؍ رن کی برتری حاصل کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:لاوز اور کارٹی کی مدد سے جمائیکا کنگز مین نے بارش سے متاثرہ میچ میں ٹی کے آر کو شکست دی

اگر پاکستان لارڈز ٹیسٹ ہار جاتا ہے، تو انگلینڈ دسمبر  ۲۰۲۴ء کے بعد پہلی بار کوئی ٹیسٹ سیریز جیتے گا۔ وہیں پاکستان کی یہ گزشتہ ۱۰؍ غیر ملکی ٹیسٹ میچوں میں نویں شکست ہوگی۔ یہ انگلینڈ میں پاکستان کی مسلسل دوسری ٹیسٹ سیریز شکست بھی ہوگی۔ اس سے پہلے  ۲۰۲۰ء میں کووڈ۱۹؍ سے متاثرہ دورے پر پاکستان  ۰۔۱؍سے سیریز ہار گیا تھا۔ سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ ۹؍ ستمبر سے برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔ یعنی امام کے پاس اپنی پنڈلی کی چوٹ سے صحت یاب ہونے کے لیے کافی وقت ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK