تنگ سڑکیں، گڑھے، نامکمل تعمیرات اور بھاری گاڑیوںکی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ۔
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 11:13 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
تنگ سڑکیں، گڑھے، نامکمل تعمیرات اور بھاری گاڑیوںکی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ۔
بھیونڈی میں گوداموں اور لاجسٹک مراکز کی بڑھتی تعداد کے باعث بھاری (ہیوی)گاڑیوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ سڑکوں کی محدود گنجائش، خستہ حالی، گڑھوں، تنگ راستوں اور نامکمل تعمیراتی کاموں کے سبب انجور پھاٹا، مانکولی، پمپلوس، راجنولی، گووے ناکہ اور کونگاؤں سمیت اہم راستوں پر روزانہ گھنٹوں ٹریفک جام رہنے لگا ہے۔ مستقبل کی ضروریات کے مطابق سڑکوں اور ٹریفک نظام کی منصوبہ بندی نہ ہونے سے معمولی رکاوٹ بھی طویل جام کا سبب بن رہی ہے۔ چنچوٹی۔ انجور پھاٹا۔ مانکولی شاہراہ پر جاری کنکریٹ سڑک کے کام اور سڑک کی محدود گنجائش کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ گجرات سے آنے والے ٹرک اور کنٹینر انجور پھاٹا پر طویل قطاریں بناتے ہیں جبکہ ریلوے لائن کے نیچے موجود تنگ راستہ بھی ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بن کر جام کی صورتحال پیدا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان میں آوارہ کتّے کی دہشت، ۷؍ گھنٹے میں ۱۴۰؍ شہریوں کو کاٹ لیا
گودام علاقوں میں ٹریفک کا بڑھتا دباؤ
بھیونڈی۔ تھانے روڈ کے راہنال، پورنا، کوپر، کالہیر اور کاشیلی علاقوں میں واقع گوداموں کے باعث دن بھر بھاری گاڑیوں کی آمدورفت رہتی ہے جبکہ گوداموں کے داخلی راستوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت سے انجور پھاٹا-کالہیر روڈ پر طویل قطاریں لگ جاتی ہیں۔ ولگاؤں اور مانکولی کے قریب نالوں پر موجود تنگپُل بھی بڑی گاڑیوں کی روانی میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جہاں معمولی رکاوٹ بھی طویل ٹریفک جام کا سبب بنتی ہے۔ مانکولی ناکہ پر گاڑیوں کا اژدہام ممبئی اور ناسک کی جانب جانے والی گاڑیوں کا دباؤ مانکولی ناکہ پر پہنچتے ہی مزید بڑھ جاتا ہے۔ مختلف سمت سے آنے والی بھاری گاڑیاں ایک ہی راستے پر جمع ہونے سے ٹریفک کی رفتار انتہائی سست ہوجاتی ہے۔
سست رفتار کام بنی ٹریفک جام کی وجہ
ممبئی۔ ناسک شاہراہ پر پمپلوس میں فلائی اوور کی تعمیر سست رفتاری سے جاری ہونے کے باعث متبادل راستے پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ تنگ راستے پر ناسک سے آنے والی گاڑیوں کی رفتار کم ہوتے ہی پیچھے گاڑیوں کی طویل قطار لگ جاتی ہے، جس سے یہاں بار بار ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ راجنولی ناکہ پر ۴؍ سمتوں کی ٹریفک کا دباؤ ممبئی-ناسک ہائی وے پر راجنولی ناکہ میں ناسک، کلیان، تھانے اور بھیونڈی سے آنے والی ٹریفک ایک مقام پر جمع ہونے کے باعث اکثر بدنظمی اور ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ مؤثر ٹریفک مینجمنٹ کا فقدان مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے جبکہ قریب ہی کونگاؤں ٹریفک پولیس اسٹیشن موجود ہونے کے باوجود یہاں جام کا مستقل حل نہیں نکل سکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: یومِ اساتذہ سے قبل پرانی پنشن اسکیم نافذ کرنے کا مطالبہ
صرف ٹریفک پولیس کی تعیناتی کافی نہیں
ٹریفک جام کے دوران پولیس کی تعیناتی سے وقتی راحت مل سکتی ہے لیکن مستقل حل کے لئے سڑکوں اور پلوں کی توسیع، بھاری گاڑیوں کے متبادل راستے، زیر تعمیر فلائی اوورز کی جلد تکمیل اور اہم ناکوں پر مؤثر ٹریفک مینجمنٹ ضروری ہے۔ گوداموں اور لاجسٹک مراکز میں اضافے کے مقابلے بنیادی ڈھانچے کی مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے سے مسئلہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔
کب تک خاموشی؟
بھیونڈی کی معیشت میں گودام اور لاجسٹک شعبہ اہم کردار ادا کر رہا ہے لیکن اس کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سب سے زیادہ اثر شہر کی سڑکوں پر نظر آرہا ہے۔ اگر سڑکوں اور ٹریفک نظام کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق فوری طور پر اپ گریڈ نہیں کیا گیا تو روزانہ کا یہ جام آنے والے دنوں میں مزید سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ٹریفک جام کو محض روزمرہ کی پریشانی سمجھنے کے بجائے اسے بنیادی شہری مسئلہ تسلیم کرتے ہوئے مستقل اور جامع منصوبہ بندی کی جائے۔