شاندار فارم میں چل رہے ہندوستانی کپتان شریاس ایّر ایک بار پھر جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے ٹیم کی برتری مضبوط کرنے کے ارادے سے میدان میں اتریں گے، جبکہ رانچی پہنچنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم سیریز برابر کرنے کی کوشش کرے گی۔
EPAPER
Updated: October 08, 2026, 10:05 PM IST | Ranchi
شاندار فارم میں چل رہے ہندوستانی کپتان شریاس ایّر ایک بار پھر جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے ٹیم کی برتری مضبوط کرنے کے ارادے سے میدان میں اتریں گے، جبکہ رانچی پہنچنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم سیریز برابر کرنے کی کوشش کرے گی۔
شاندار فارم میں چل رہے ہندوستانی کپتان شریاس ایّر ایک بار پھر جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے ٹیم کی برتری مضبوط کرنے کے ارادے سے میدان میں اتریں گے، جبکہ رانچی پہنچنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم سیریز برابر کرنے کی کوشش کرے گی۔ لکھنؤ میں کھیلے گئے پہلے ٹی ۲۰؍ میں ایّر نے ۴۳؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۱۰۲؍ رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی، جس کی بدولت ویسٹ انڈیز کا بڑی محنت سے بنایا گیا ۱۷۱؍ رنز کا اسکور ہندوستان کے لیے معمولی ہدف بن گیا۔ ہندوستان نے ۳۲؍ گیندیں باقی رہتے ہوئے آٹھ وکٹ سے کامیابی حاصل کی۔
https://t.co/P47FFK9drU
— BCCI (@BCCI) October 7, 2026
جمعہ کو جے ایس سی اے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والے دوسرے ٹی۲۰؍ کا حساب بالکل سیدھا ہے۔ ہندوستان ۰۔۲؍کی برتری حاصل کرنا چاہے گا، جبکہ ویسٹ انڈیز نہیں چاہے گا کہ پانچ میچوں کی سیریز اس کے لیے تین میچوں کے بچاؤ کی مہم میں تبدیل ہوجائے۔ لکھنؤ میں ایّر پوری طرح چھائے رہے۔ جب وہ کریز پر آئے تو ہندوستان کا اسکور ۳۵؍ رنز پر دو وکٹ تھا۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کے گیندبازی حملے کا بھرپور مقابلہ کیا اور ۴۲؍ گیندوں میں سنچری مکمل کی، جس میں ۱۰؍ چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔ دوسرے سرے پر ایشان کشن نے ناٹ آؤٹ ۳۷؍ رنز بنائے اور ہندوستان نے ۴ء۱۴؍ اوور میں ہدف حاصل کرلیا۔
ویسٹ انڈیز کے لیے کچھ مثبت پہلو بھی رہے۔ شائی ہوپ اور شیرفین ردرفورڈ نے بالترتیب ۵۲؍ اور ۵۶؍ رنز بناکر خراب شروعات کے بعد اننگز کو سنبھالا، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ انہیں اننگز سنبھالنے کی نوبت ہی کیوں آئی۔ پاور پلے میں ویسٹ انڈیز کا اسکور ۴۴؍ رنز پر تین وکٹ تھا اور ہندوستان کے خلاف ایسی صورتحال سے آسانی سے واپسی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ہندوستانی گیندبازوں نے بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اپنے ڈیبیو میچ میں نمن دھیر نے تین وکٹ لیے، جبکہ کلدیپ یادو اور اکشر پٹیل نے مڈل اوورز میں دباؤ برقرار رکھا۔ مینک یادو نے اپنی تیز گیندبازی سے حملے کو مضبوط کیا اور عرشدیپ سنگھ نئی گیند سے خطرناک ثابت ہوئے۔ اس کے بعد ویسٹ انڈیز کے سامنے دو فوری مسائل ہیں: ہندوستانی بلے بازوں کو کیسے روکا جائے اور اپنے بلے بازوں کو مسلسل وکٹیں گنوانے سے کیسے بچایا جائے۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان نے نانا پاٹیکر کو یاد، کہا: ’’ہیرو بننے کی کوشش میں اداکار کو مت کھونا‘‘
ہندوستان کے پاس بہترین شاٹس کھیلنے والے بلے بازوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ابھیشیک شرما پاور پلے کو اپنی ذاتی بیٹنگ رینج بنا سکتے ہیں، جبکہ ایّر نے دکھایا ہے کہ وہ مشکل ہدف کا تعاقب بھی آسان بنا سکتے ہیں۔ ایشان کشن بھی جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ کے پاس بینچ پر بھی کئی متبادل موجود ہیں۔ نتیش کمار ریڈی، واشنگٹن سندر، تلک ورما، شیوم دوبے، روی بشنوئی اور پرنس یادو انتخاب کے لیے دستیاب ہیں، حالانکہ موجودہ ٹیم میں تبدیلی نہ کرنے کے حق میں بھی مضبوط دلیل موجود ہے۔
اس کے برعکس ویسٹ انڈیز کو جذبات کے بجائے حکمت عملی پر توجہ دینی ہوگی۔ اس کے ٹاپ آرڈر کو ابتدائی چھ اوورز میں وکٹیں بچانی ہوں گی اور مڈل آرڈر کو اس بنیاد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑا اسکور بنانا ہوگا۔ ردرفورڈ کی ۵۶؍ رنز کی اننگز نے ثابت کیا ہے کہ کیریبین ٹیم میں کافی طاقت موجود ہے، ضرورت صرف تھوڑے صبر کی ہے۔ رانچی میں شام کے حالات دونوں ٹیموں کے لیے دلچسپ امتحان ثابت ہوسکتے ہیں۔ پچ پر اچھے شاٹس کھیلنے کا انعام مل سکتا ہے، لیکن اننگز آگے بڑھنے کے ساتھ اسپن گیندباز بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ خاص طور پر کلدیپ کا سامنا کرنا مشکل ہوسکتا ہے، اگر ویسٹ انڈیز انہیں جم جانے کا موقع دے۔ رِسٹ اسپنر سے نمٹنے کا بہترین طریقہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے حملہ کرنے سے پہلے ہی اس پر حملہ کردیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو نے لیونل میسی کو ’گلے لگنے‘ کا پیغام بھیجا
ہندوستان کے نئی گیند کے گیندبازوں اور ہوپ کے درمیان مقابلہ بھی اہم ہوسکتا ہے۔ اگر ویسٹ انڈیز نے ایک بار پھر ابتدائی وکٹیں گنوائیں تو اس کے مڈل آرڈر کو دوبارہ اننگز اور ٹیم دونوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ دوسری طرف ہندوستان کو یہ فرض کرنے کی غلطی سے بچنا ہوگا کہ گزشتہ میچ کی آسان جیت اگلی جیت کی ضمانت بھی ہے۔ ٹی۲۰؍ کرکٹ میں ایک خراب پاور پلے، ایک چھوٹا ہوا کیچ یا کسی بلے باز کی غیر معمولی اننگز مضبوط ٹیم کو بھی دباؤ میں ڈال سکتی ہے۔
اس لیے ویسٹ انڈیز کے لیے جمعہ کا میچ صرف سیریز برابر کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ لکھنؤ کی شکست محض ایک استثنا تھی۔ ہندوستان کے لیے مقصد اپنی رفتار برقرار رکھنا اور اپنی نئی ٹی۲۰؍ ٹیم کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ہندوستان کے پاس مضبوط بیٹنگ لائن اپ، مختلف گیندبازی اور آسان فتح سے حاصل ہونے والا اعتماد موجود ہے۔ویسٹ انڈیز کے پاس مقابلے کا رخ بدلنے کی صلاحیت ہے، لیکن اسے ایّر کے کریز پر آنے سے پہلے ہی میدان میں اپنی گرفت مضبوط کرنی ہوگی۔