Updated: October 08, 2026, 10:07 PM IST
| New Delhi
ایس آئی آر کے خلاف ملک بھرمیں جاری اپوزیشن کی احتجاجی مہم کے دوران سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے سابق ججوں نے ایک کھلا خط لکھ کر ایس آئی آرکادفاع کیا ۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن اور عدلیہ پر تنقید کرنے والوں کو آئنی اداروں کو بدنام کرنے والا قرار دیا ۔
ووٹ چوری کے خلاف مظاہرے کا ایک منظر۔ تصویر: پی ٹی آئی
ایک کھلے خط میں ۴۲؍ ریٹائرڈ ججوں کے ایک گروہ نے الیکشن کمیشن اور دیگر آئینی اداروں کو کمزور کرنے اور عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی جاری کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ججوں نے اپنے سخت الفاظ پر مشتمل اس خط میں خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی کوششیں عوام کے اعتماد کو مجروح کررہی ہیں اور ’’جب ووٹ اپنی اہمیت کھو دیتا ہےتو سڑکیں اس کی جگہ لے لیتی ہیں۔ ‘‘ یہ خط چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کے جاری شدید احتجاج کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’’بے چینی اور بدامنی کی شروعات ایک بیانیے سے ہوتی ہےجس کے بعد انتہا پسند عناصر اس خلا پر قبضہ کر لیتے ہیںجن میں سے کچھ ملکی ہوتے ہیں اور کچھ سرحد پار سے اشارے لیتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: احتجاج کو روکنے کیلئے دہلی پولیس کی بسوں اور’ پی جی‘ پر نظر
سابق ججوں نے الیکشن کمیشن، عدلیہ اور دیگر آئینی اداروں کو نشانہ بنانے کی مہم پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور بغیر کسی ثبوت کے ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات لگانے پر سوال اٹھاتے ہوئے آئینی حکام کو بار بار ’’چور‘‘ اور ’’سمجھوتہ شدہ‘‘ قرار دینے کے خلاف تنبیہ کی ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ ’’ہم اس لئے لکھ رہے ہیں کیونکہ ایسے موقع پر خاموشی اب کوئی غیر جانبدارانہ انتخاب نہیں رہی۔ ہماری تشویش گہری ہے اور ملک کے آئینی ادارے مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ اس حملے کے مرکز میں الیکشن کمیشن آف انڈیا ہے، جبکہ اعلیٰ عدلیہ اور دیگر قانونی ایجنسیوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔‘‘ ججوں نے زور دے کر کہا کہ یہ حملے معقول تنقید نہیں بلکہ ذاتی سیاسی مفادات سے محرک ایک سوچی سمجھی مہم معلوم ہوتے ہیں، جس کا مقصد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو غیر مستحکم کرنا ہے۔
مزید برآں خط میں ایس آئی آر کا دفاع کرتے ہوئے اسے صاف ستھری اور درست ووٹرلسٹ یقینی بنانے کا ایک قانونی طریقہ کار قرار دیا گیا۔ اور کہا گیا کہ تنقید کرنا جمہوری حق ہے لیکن بدنام کرنا نہیں۔خط میں نام لئے بغیر اپوزیشن جماعتوں پر بھی تیکھے تیر چلائے گئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’’ ووٹ چوری‘‘ کے الزامات پریس کانفرنسوں میں لگائے جاتے ہیں، عدالتوں کے سامنے نہیں۔ جب کمیشن حلف نامہ مانگتا ہے تو کوئی ثبوت جمع نہیں کرایا جاتا۔ ای وی ایم پر الزام صرف شکست کے بعد لگایا جاتا ہے، جبکہ انہی مشینوں سے ملنے والی کامیابیوں پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا۔ ایک ایسی پارٹی جس نے اس ملک پر پانچ دہائیوں سے زیادہ حکومت کی، اب یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ جس نظام نے اسے منتخب کیا تھا وہی خراب ہے۔ اس کے علاوہ، خط میں سرگرم تنظیموں کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ مسلسل عرضیاں دائر کر کے ان دعوؤں کو قانونی جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں، عدالتوں کو ایک ڈرامہ گاہ بناتے ہیں اور جب ان کے مرضی کے فیصلے نہیں آتے تو عدلیہ کے خلاف زہر افشانی کر کے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ اس خط پر دستخط کرنے والوں میں سپریم کورٹ کے سابق جج بشمول جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس پنکج متل اور ہائی کورٹس کے سابق چیف جسٹس شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’حکومت ملک میں خانہ جنگی جیسی کیفیت پیدا کرنا چاہتی ہے‘‘
دوسری جانب، ایس آئی آر، جس کے تحت ۳؍کروڑ سے زائد افراد کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں اور الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی اطلاعات نے عدلیہ کے اندر بھی ایک تقسیم کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اسی ہفتے کے اوائل میں دو اہم ججوں نے اس عمل پر شدید تشویش ظاہر کی تھی۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کا ووٹ دینے کا حق ’’شدید خطرے میں ہے‘‘ اور ملک میں انتہائی تشویشناک واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’مغربی بنگال کے انتخابات میں ۹۰؍ لاکھ ووٹرز کے نام خارج کر دئیے گئے جو کہ ایک حیران کن عددہے، لیکن اس سے سپریم کورٹ پر کوئی اثر نہیں پڑا اور اس عمل پر کوئی روک نہیں لگائی گئی ۔‘‘اسی طرح سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس اجل بھوئیاں نے بھی کہا تھا کہ کوئی بھی ایسا عمل جو اتنی بڑی تعداد میں ملک کے شہریوں سے ووٹ دینے کا حق چھین لےتووہ ’’آئینی نظام کی نفی‘‘ ہے اور کوئی بھی اتھارٹی یا عدالت اسے جائز نہیں قرار دے سکتی۔