• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عمر خالد نے بین الاقوامی انسانی حقوق ایوارڈ جیتا

Updated: October 08, 2026, 9:30 PM IST | New Delhi

فرنٹ لائن ڈیفینڈرز نے دہلی فسادات ۲۰۲۰ء کی سازش کے مقدمے میں چھ سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ایکٹیوسٹ عمر خالد کو ۲۰۲۶ء کے ’’ایوارڈ فار ہیومن رائٹس ڈیفینڈرز ایٹ رسک‘‘ سے نوازا ہے۔ ڈبلن میں منعقدہ تقریب میں اعلان کیا گیا ایوارڈ عمر خالد کی غیر موجودگی میں دیا گیا، جبکہ ان کی ضمانت کی درخواست بھی حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ نے مسترد کردی تھی۔

Umar Khalid. Photo: INN
عمر خالد۔ تصویر: آئی این این

دہلی فسادات ۲۰۲۰ء کی سازش کے مقدمے میں چھ سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ایکٹیوسٹ عمر خالد نے ۲۰۲۶ء ایوارڈ فار ہیومن رائٹس ڈیفینڈرز ایٹ رسک (خطرہ زدہ انسانی حقوق کے محافظین کیلئے ایوارڈ) جیتا ہے۔ یہ ایوارڈ آئرلینڈ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم فرنٹ لائن ڈیفینڈرز کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ ڈبلن میں منعقدہ ایک تقریب میں اس ایوارڈ کا اعلان کیا گیا، جس میں جیل میں قید ہونے کی وجہ سے عمر خالد شرکت نہ کر سکے۔ واضح رہے کہ عمر خالد کو ۱۳؍ستمبر ۲۰۲۰ء کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے بغیر کسی ٹرائل کے جیل میں بند ہیں۔ عمر خالد کے علاوہ اس سال کے ایوارڈ کے دیگر حاصل کنندگان میں ایران سے سزائے موت کے خلاف مہم چلانے والے احمد رضا حائری، انگولا سے جمہوریت اور خواتین کے حقوق کی کارکن لورینڈا مینوئل گوویا اور سربیا سے خواتین کے امن کیلئے کام کرنے والی لجلجانا نیشچ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایم ایل سی انتخاب: دونوں ہی اتحاد کے اندر گھمسان

دہلی پولیس نے عمر خالد کو فروری ۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ اس تشدد میں ۵۳؍ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ عمر خالد، طلبہ رہنما شرجیل امام اور اس معاملے کے دیگر ملزمان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون (یو اے پی اے)، پریوینشن آف ڈیمیج ٹو پبلک پراپرٹی ایکٹ، آرمز ایکٹ اور انڈین پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمے درج کئے گئے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ تشدد مودی حکومت کو بدنام کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ تھا اور اسے ترمیم شدہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج منظم کرنے والوں نے طے کیا تھا۔

فرنٹ لائن ڈیفینڈرز نے کہا کہ عمر خالد کی مسلسل قید ’’ہندوستان میں ایک وسیع تر صورتحال کا ثبوت ہے‘‘، جس کی نشاندہی ’’اختلافِ رائے کو دبانے کیلئے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے بڑھتے ہوئے استعمال، عوام کی سوچ کو متاثر کرنے میں ہم نوا میڈیا کے کرداراور کسی سزا کے بغیر یا اس سے پہلے ضمانت کی سخت شقوں کو بطورِ سزا استعمال کرنے کے پیٹرن‘‘ سے ہوتی ہے۔ تنظیم نے مزید کہا کہ اس پالیسی سے انسانی حقوق کے محافظ، صحافی اور طلباء غیر متناسب طور پر متاثر ہو رہے ہیں جو پرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کے اپنے حق کا استعمال کرتے ہیں۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ فروری ۲۰۲۰ء میں امراوتی میں عمر خالد کی دی گئی تقریر، جسے ایک ’’پیشگی منصوبہ بند‘‘ سازش کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، کسی صورت بھی اشتعال انگیزی کے زمرے میں نہیں آتی۔ اپنی اس تقریر میں عمر خالد نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرامن احتجاج کرنے پر بھیڑ کی تعریف کرتے ہوئے ’’انقلابی سلام‘‘ اور’’ کرانتی کاری استقبال‘‘ جیسے الفاظ استعمال کئے تھے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کا حوالہ بھی دیا تھا اور اسی سال فروری میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر پرامن اور عدم تشدد پر مبنی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ آسرا نگر قبرستان کے اطراف حفاظتی دیوار بنانے کا پھر مطالبہ

قانونی صورتحال کے حوالے سے، ۳۰؍ ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست تیسری بار مسترد کر دی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ ’’عدالتی ڈسپلن کی پابند‘‘ہے اور ان دونوں افراد سے متعلق سپریم کورٹ کے ۵؍ جنوری کے حکم میں عائد کردہ شرائط میں کوئی ترمیم نہیں کر سکتی۔ جنوری میں سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں، لیکن دیگر کارکنوں جیسے گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو راحت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ شرجیل امام اور عمر خالد تحفظ یافتہ گواہوں کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد یا ایک سال کا عرصہ مکمل ہونے پر، جو بھی پہلے ہو، دوبارہ اپنی ضمانت کی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK