Updated: February 06, 2026, 4:06 PM IST
| New Delhi
ہیومن رائٹس واچ کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو غیر قانونی اقدامات کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلمانوں، بنگالی بولنے والے مسلمانوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کو جبری بے دخلی، املاک کی مسماری اور قانونی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے قوانین کا غلط استعمال کیا گیا۔
بین الاقوامی حقوقِ انسانی تنظیم ہیومن رائٹس واچ Human Rights Watch نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں اور حکومت پر تنقید کرنے والے افراد کو غیر قانونی اور امتیازی اقدامات کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاستی اداروں نے بعض قوانین اور انتظامی اختیارات کو ایسے طریقے سے استعمال کیا جو بنیادی حقوق سے متصادم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں کو مختلف ریاستوں میں املاک کی مسماری، گرفتاریوں، اور بے دخلی جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ادارے کے مطابق کئی معاملات میں ان کارروائیوں سے قبل مناسب قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا، جس سے متاثرہ افراد کو مؤثر قانونی تحفظ حاصل نہ ہو سکا۔ رپورٹ میں خاص طور پر بنگالی بولنے والے مسلمانوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کا ذکر کیا گیا ہے، جنہیں ’’غیر قانونی تارکین وطن‘‘ قرار دے کر مختلف علاقوں سے بے دخل کیا گیا۔ تنظیم کے مطابق بعض متاثرین نے ہندوستانی شہریت یا قانونی رہائش کی دستاویزات پیش کیں، اس کے باوجود انہیں حراست، دھمکیوں یا جبری نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: متھرا: نماز کے الزام میں معطل کئے گئے ٹیچر کو گاؤں کی حمایت
ایچ آر ڈبلیو نے کہا ہے کہ گھروں اور دکانوں کی مسماری کو بعض ریاستوں میں قانون نافذ کرنے کے اقدام کے طور پر پیش کیا گیا، حالانکہ ان کارروائیوں میں انفرادی ذمہ داری کے بجائے اجتماعی سزا کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، اعلیٰ عدالتیں ماضی میں اس طرح کی کارروائیوں پر قانونی سوالات اٹھا چکی ہیں، مگر اس کے باوجود مسماری کے واقعات سامنے آتے رہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں، انسانی حقوق کارکنوں اور سماجی کارکنوں کو قانونی مقدمات، گرفتاریوں اور تفتیش کے ذریعے دباؤ میں رکھا گیا۔ ایچ آر ڈبلیو کے مطابق بعض قوانین کو اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں اظہارِ رائے کی آزادی متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: سو ایف آئی آر کی دھمکی، انسانی حقوق کے محافظوں کوخاموش کرانے کی کوشش: ہرش مندر
تنظیم نے کہا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی امتیاز کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ریاستی ادارے ایسے معاملات میں غیر جانبدارانہ کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس صورتحال نے اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کیا ہے۔ ایچ آر ڈبلیو نے ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق مذہبی آزادی، مساوی تحفظ اور اظہارِ رائے کے حق کو یقینی بنائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ناقدین اور اقلیتوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیوں کا خاتمہ اور قانون کے یکساں اطلاق کے بغیر انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری ممکن نہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ ہندوستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھے اور حکومت کو اپنے آئینی اور بین الاقوامی وعدوں پر عمل درآمد کی ترغیب دے۔