Updated: August 28, 2026, 10:02 PM IST
| New Delhi
ایشین گیمز ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کی شرکت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈجاپان میں کھلاڑیوں کے لیے دستیاب سہولیات اور انتظامات سے مطمئن نہیں ہے، جس کے باعث بورڈ مضبوط ٹیم کے بجائے دوسری درجے کی ’بی ٹیم‘ بھیجنے پر غور کر سکتا ہے۔
ایشین گیمز ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کی شرکت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ ( BCCI ) جاپان میں کھلاڑیوں کے لیے دستیاب سہولیات اور انتظامات سے مطمئن نہیں ہے، جس کے باعث بورڈ مضبوط ٹیم کے بجائے دوسری درجے کی ’بی ٹیم‘ بھیجنے پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آن لائن نازیبا زبان استعمال کرنے والے شخص نے شویتا تیواری سے معافی مانگی
رپورٹس کے مطابق جاپان کے آئیچی-ناگویا میں کرکٹ مقابلوں کے لیے کھلاڑیوں کے ڈریسنگ روم مبینہ طور پر ٹینٹ میں بنائے گئے ہیں جبکہ واش روم تقریباً ۵۰۰؍میٹر دور ہیں۔ اس کے علاوہ کھلاڑیوں کے لیے دستیاب ہوٹل کے کمروں کا سائز بھی بی سی سی آئی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔بی سی سی آئی کے ایک ذریعے کے مطابق بورڈ اور ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی )نے جاپان میں انتظامات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ اے سی سی کی میٹنگ کے دوران جاپان کے اولمپک حکام کے سامنے بھی ڈریسنگ روم اور واش روم کے فاصلے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
بی سی سی آئی اب جاپان میں ایک آبزرور بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جو وہاں کھلاڑیوں کے رہنے، کھیلنے اور دیگر سہولیات کا جائزہ لے گا۔ آبزرور کی رپورٹ کے بعد ہی ٹیم کی حتمی تشکیل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر انتظامات معیار کے مطابق نہ ہوئے تو بورڈ دوسری درجے کی ٹیم بھیجنے کے آپشن پر غور کر سکتا ہے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بی سی سی آئی نے ایشین گیمز کے لیے پہلے ہی ایک مضبوط مردوں کی ٹی ۲۰؍ ٹیم کا اعلان کیا تھا۔ ٹیم میں شریاس ایّرکو کپتان اورتلک ورما کو نائب کپتان بنایا گیا ہے۔ ٹیم میں جسپریت بمراہ، عرشدیپ سنگھ، اکشر پٹیل، ابھیشیک شرما، ایشان کشن، سنجو سیمسن اور نوجوان بلے باز ویبھو سوریہ ونشی جیسے اہم کھلاڑی بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:عمران خان کے ساتھ عزت، وقار اور انسانیت سلوک کیا جانا چاہیے: پیٹ کمنز
ہندوستان ایشین گیمز میں مردوں کے کرکٹ مقابلوں کا موجودہ چیمپئن ہے۔ ۲۰۲۳ء کے ہانگژو ایشین گیمز میں ہندوستان نے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ افغانستان کے خلاف فائنل بارش کے باعث مکمل نہ ہو سکا تھا اور بہتر سیڈنگ کی بنیاد پر ہندوستان کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔