Inquilab Logo Happiest Places to Work

آن لائن نازیبا زبان استعمال کرنے والے شخص نے شویتا تیواری سے معافی مانگی

Updated: August 28, 2026, 7:59 PM IST | Mumbai

اداکارہ شویتا تیواری نے سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف استعمال کی جانے والی انتہائی نازیبا اور گالی گلوچ پر مبنی زبان کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ معاملے میں پیش رفت اس وقت ہوئی جب ایک شخص، جس پر مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرے کرنے کا الزام تھا، نے شویتا تیواری سے معافی مانگ لی۔

Shweta Tiwari.Photo:INN
شویتا تیواری۔ تصویر:آئی این این

اداکارہ شویتا تیواری  نے سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف استعمال کی جانے والی انتہائی نازیبا اور گالی گلوچ پر مبنی زبان کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ معاملے میں پیش رفت اس وقت ہوئی جب ایک شخص، جس پر مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرے کرنے کا الزام تھا، نے شویتا تیواری سے معافی مانگ لی۔

یہ بھی پڑھئے:نِمرِت کور اہلووالیا نے ڈیڈ لفٹ کے دوران ہونے والی تکلیف دہ زخم پر بات کی

چند روز قبل شویتا نے سوشل میڈیا پر ایسے کمنٹس اور پیغامات کے اسکرین شاٹس شیئر کیے تھے، جن میں خواتین کے لیے انتہائی توہین آمیز زبان استعمال کی گئی تھی۔ انہوں نے متعلقہ افراد کے انسٹاگرام اکاؤنٹس کا بھی حوالہ دیا اور سوال اٹھایا تھا کہ خواتین کے ساتھ اس طرح کا سلوک کب تک جاری رہے گا۔
شویتا کی پوسٹ کے بعد  مہاراشٹر نونرمان سینا (منسے)  کی رکن  اسنیہل اڈارکر  نے اداکارہ سے رابطہ کیا۔ شویتا کے مطابق، اسنیہل نے انہیں بتایا کہ پارٹی خواتین کے خلاف اس طرح کے رویے کی حمایت نہیں کرتی۔ شویتا نے بتایا کہ ا سنیہل نے معاملے میں ملوث شخص تک پہنچنے کی کوشش کرنے کے لیے کچھ دن کا وقت مانگا تھا۔ تاہم، تقریباً  تین دن کے اندرا سنیہل نے مبینہ طور پر متعلقہ شخص کا فون نمبر شویتا کے ساتھ شیئر کیا۔ اس کے ساتھ اس شخص کی جانب سے  ہاتھ سے لکھا ہوا معافی نامہ  بھی سامنے آیا، جس میں اس نے اپنے رویے پر معذرت کی۔

یہ بھی پڑھئے:خواتین ہاکی ورلڈ کپ فائنل میں نیدرلینڈز اور ارجنٹائنا آمنے سامنے

شویتا تیواری نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے اور متعلقہ شخص تک پہنچنے کی کوشش کرنے پر اسنیہل اڈارکر اور منسے ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ اداکارہ نے کہا کہ انہیں اس بات کی قدر ہے کہ کسی نے خواتین کے خلاف ہونے والی آن لائن توہین کو سنجیدگی سے لیا۔ اسنیہل نے انہیں یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ اگر مستقبل میں انہیں اس طرح کی کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ان کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔ شویتا کے مطابق، جن افراد کا ان کی اصل پوسٹ میں ذکر کیا گیا تھا، وہ  منسے کے رکن نہیں تھے ، حالانکہ وہ خود کو منسے سربراہ راج ٹھاکرے کے حامی بتاتے تھے۔شویتا نے معاملے کے وسیع تر پہلو پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک یا دو افراد کو تلاش کرکے کارروائی کرنا اچھی بات ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان  ہزاروں یا لاکھوں افراد  کا کیا ہوگا جو سوشل میڈیا کی اسکرین کے پیچھے چھپ کر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اداکارہ کے مطابق، اصل مسئلہ ایسی ذہنیت ہے جس میں کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آن لائن خواتین کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور انہیں اس کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کے خلاف  آن لائن ہراسانی اور بدسلوکی ایک سنگین مسئلہ  ہے اور اس کے خاتمے کے لیے صرف کارروائی کافی نہیں بلکہ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK