• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برازیل کے خلاف فٹبال دوستانہ میچ کے بعد ہندوستان پر ۱۹۰ ؍ملین روپے کی ادائیگی باقی

Updated: November 06, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

گزشتہ ماہ کولکاتا میں پانچ مرتبہ فیفا ورلڈ کپ جیتنے والی برازیل کی ٹیم کے خلاف دوستانہ بین الاقوامی میچ منعقد کرنے والی ہندوستانی فیڈریشن تاحال برازیل کو تقریباً ۱۹ کروڑ روپے (۱۹۰ ملین روپے) کی مکمل ادائیگی نہیں کرسکی ہے۔

India And Brazil.Photo:X
ہندوستان اور برازیل۔ تصویر:ایکس

ہندوستانی فٹ بال کی تاریخ کے ایک بڑے اور یادگار مقابلے کے انعقاد کے بعد اب آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن (AIFF) کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ کولکاتا میں پانچ مرتبہ فیفا ورلڈ کپ جیتنے والی برازیل کی ٹیم کے خلاف دوستانہ بین الاقوامی میچ منعقد کرنے والی ہندوستانی فیڈریشن تاحال برازیل کو تقریباً ۱۹ ؍کروڑ روپے (۱۹۰ ملین روپے) کی مکمل ادائیگی نہیں کرسکی ہے۔ اس کے علاوہ یوروگوئے کی ٹیم کے تقریباً ۴ء۷ ؍کروڑ روپے بھی واجب الادا ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دونوں جنوبی امریکی ٹیموں کو ان کے طے شدہ معاوضے کا صرف ۵۰ ؍فیصد ادا کیا گیا ہے، جبکہ فیڈریشن نے بقایا رقم کی ادائیگی کے لیے مزید مہلت طلب کی ہے۔ 
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن نے برازیل اور یوروگوئے کی ٹیموں کو ہندوستان مدعو کرکے دو بڑے بین الاقوامی دوستانہ مقابلوں کا انعقاد کیا تھا۔ برازیل کے خلاف مقابلہ ۳ ؍ اکتوبر کو کولکاتا کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جبکہ یوروگوئے کے خلاف بھی اسی مقام پر مقابلہ منعقد ہوا۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے بنگلورو میں پاناما کے خلاف بھی ایک دوستانہ میچ کھیلا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:راجیہ سبھا کے رکن بننے کے بعد بھی تھرڈ کلاس میں سفر کرتے تھے پرتھوی راج کپور

رپورٹ کے مطابق پناما کی ٹیم کو اس کا مکمل معاوضہ ادا کردیا گیا ہے، لیکن برازیل اور یوروگوئے کی ادائیگیاں ابھی باقی ہیں۔ برازیل کے تقریباً ۱۹؍ کروڑ روپے اور یوروگوئے کے تقریباً ۴ ؍کروڑ ۷۰ ؍لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ بقایا رقم کی ادائیگی کے لیے فیڈریشن کے صدر کلیان چوبے نے تقریباً ۲۰ ؍کروڑ روپے کی فکسڈ ڈپازٹ  وقت سے پہلے توڑنے کی تجویز پیش کی تھی، تاکہ برازیل اور یوروگوئے کی ٹیموں کو ان کا باقی معاوضہ ادا کیا جاسکے۔ تاہم فیڈریشن کی جنرل باڈی کے ارکان نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ اراکین  کا کہنا تھا کہ فکسڈ ڈپازٹ کی رقم صرف ہنگامی حالات میں استعمال کی جانی چاہیے۔ فیڈریشن کے نائب صدر این اے حارث نے بھی یاد دلایا کہ ایگزیکٹیو کمیٹی پہلے ہی فکسڈ ڈپازٹ سے رقم نکالنے کے خلاف فیصلہ کرچکی ہے۔
سابق صدر پرفل پٹیل نے بھی اس تجویز کی مخالفت کی۔ بعد ازاں فیصلہ کیا گیا کہ بقایا ادائیگیوں اور مالی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے این اے حارث کی سربراہی میں ایک خصوصی گروپ تشکیل دیا جائے گا۔   فیڈریشن کی مالی مشکلات کی ایک بڑی وجہ برازیل اور یوروگوئے کے مقابلوں کے دوران ٹکٹوں کی توقع سے کم فروخت بتائی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فیڈریشن کو امید تھی کہ ان مقابلوں کے ٹکٹوں کی فروخت سے تقریباً ۳۰؍ سے ۴۰ ؍کروڑ روپے کی آمدنی ہوگی، لیکن ٹکٹوں کی زیادہ قیمتوں کے باعث شائقین کی دلچسپی توقع کے مطابق نہیں رہی۔صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فیڈریشن نے کولکاتا کے بڑے فٹ بال کلبوں موہن بگان سپر جائنٹ، ایسٹ بنگال اور محمڈن اسپورٹنگ کے حامیوں کے لیے رعایتی ٹکٹوں کا انتظام کیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور برازیل کے مقابلے کے لیے ایک ٹکٹ خریدنے پر دوسرا ٹکٹ مفت دینے کی پیشکش بھی کی گئی۔فیڈریشن کو اپنے ٹکٹنگ پارٹنر کی جانب سے پیشگی رقم کے طور پر حاصل کیے گئے تقریباً ۲۵؍ کروڑ روپے میں سے بھی کچھ رقم واپس کرنی پڑسکتی ہے، کیونکہ یہ رقم قابلِ واپسی پیشگی ادائیگی (Recoupable Advance) کے طور پر دی گئی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے:AMU طلبہ یونین انتخابات: نعمان اشرف صدر، نشریٰ نعیم پہلی خاتون نائب صدر منتخب

برازیل کی ٹیم اپنے مکمل اور مضبوط اسکواڈ کے ساتھ ہندوستان پہنچی تھی، جس میں عالمی شہرت یافتہ فٹ بال کھلاڑی شامل تھے۔ ٹیم میں ریئل میڈرڈ کے فارورڈ ونیسیئس جونیئر، پیرس سینٹ جرمین کے کپتان مارکینیوس، آرسنل کے دفاعی کھلاڑی گیبریل میگالیس، ریئل میڈرڈ کے اینڈرک اور چیلسی کے ایسٹیواؤ جیسے نامور کھلاڑی شامل تھے۔ پانچ مرتبہ فیفا ورلڈ کپ جیتنے والی برازیل کی ٹیم کو ہندوستان بلانے کا مقصد قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو عالمی معیار کے فٹ بال کا تجربہ فراہم کرنا اور ملک میں اس کھیل کی مقبولیت بڑھانا تھا۔ 
برازیل اور یوروگوئے کے واجبات کی عدم ادائیگی نے آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن کی مالی منصوبہ بندی اور بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے انعقاد سے متعلق حکمت عملی پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ ایک جانب ایسے مقابلوں سے ہندوستانی کھلاڑیوں کو عالمی سطح کے تجربات حاصل ہوتے ہیں، تو دوسری جانب ان کے انعقاد پر ہونے والے بھاری اخراجات اور متوقع آمدنی کے درمیان توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ اب تمام نظریں فیڈریشن کی جانب سے بقایا ادائیگیوں کے انتظام اور خصوصی گروپ کے جائزے پر مرکوز ہیں۔ اگر مالی وسائل کا مناسب انتظام نہیں کیا گیا تو اس کے اثرات مستقبل میں ہندوستانی فٹ بال کے دیگر مقابلوں، گھریلو لیگزاور نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی کے پروگراموں پر بھی پڑسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK