Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند بمقابلہ پاکستان: ایشیاکپ میں آج ’عالمی جنگ‘

Updated: September 02, 2023, 12:09 PM IST | Agency | Pallekele

ہندوستانی بلے بازوں کے سامنے پاکستان کا تیز گیندبازی حملہ۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق پلیکل میں بارش کے امکانات زیادہ ہیں ۔

Rohit Sharma ready to face traditional rival. Photo: INN
روہت شرما روایتی حریف سے ٹکر کیلئے تیار۔تصویر:آئی این این

 ایشیا کپ میں سنیچر کو جب ہندوستان اور پاکستان کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی تو یہ ورلڈ کپ کی ریہرسل کی طرح ہوگا جس میں وراٹ کوہلی اور روہت شرما جیسے لیجنڈ بلے باز پاکستان کے زبردست پیس اٹیک کا سامنا کریں گے جس کی قیادت حارث رؤف اور شاہین شاہ آفریدی کررہے ہیں ۔ 
 ایشیا کپ۵۰؍ اوور کے فارمیٹ میں منعقد کیا گیا ہے جو اکتوبر نومبر میں ہندوستان میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شریک ٹیموں کی تیاری کیلئے اہم ہوگا۔ منتظمین اور کرکٹ کے شائقین کیلئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والا میچ دوسرے تمام میچوں سے بڑا رہاہے۔ ہندوستانی کرکٹ شائقین کو آج بھی یاد ہوں گے کوہلی کا گزشتہ سال ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں میلبورن میں رؤف کی گیند پر شاندار شاٹ۔ پاکستانی شائقین اس وقت کو بھی نہیں بھولے ہوں گے جب شاہین کی تیز گیندوں کا سامنا کرنے میں ناکام رہنے والے روہت ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔ ان کے جیسی پرفارمنس ہی کھلاڑیوں کو لیجنڈ بناتی ہے اور ایشیا کپ میں دونوں ٹیموں کے اسٹارس کو اپنے اپنے ممالک میں مقبولیت کے عروج پر پہنچنے کا ایک اور موقع ملے گا تاہم محکمہ موسمیات نے سنیچر کو بارش کی پیش گوئی کی ہے جس کے باعث دونوں ٹیموں کے شائقین کی امیدوں پر پانی پھرنے کا امکان ہے۔
 ہندوستانی کیمپ دعا کرے گا کہ وراٹ، روہت اور شبھمن گل کی تینوں کا مقابلہ رؤف، شاہین اور نسیم شاہ سے ہو۔ موسم کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے تینوں گیندبازپاور پلے میں خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں ۔ دونوں ٹیموں کے مڈل آرڈر کے حوالے سے اب بھی تذبذب برقرار ہے۔ پہلے دو میچوں سے باہر ہونے والے کے ایل راہل کی غیر موجودگی نے ہندوستان کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایسی صورت حال میں وکٹ کیپر بلے باز ایشان کشن کو مڈل آرڈر میں میدان پر اتارا جا سکتا ہے، لیکن چوتھے اور پانچویں نمبر کے بارے میں کچھ بھی طے نہیں ہوا ہے۔
 کشن نے کبھی پانچویں نمبر پر بیٹنگ نہیں کی اور مڈل آرڈر میں ان کا اوسط صرف۲۲ء۷۵؍ ہے۔ دوسری جانب پاکستانی ٹیم میں فٹنیس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم کھلاڑیوں کے پاس ون ڈے کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ ورلڈ کپ۲۰۱۹ء کے بعد سے پاکستان نے صرف۲۹؍ ون ڈے کھیلے ہیں جبکہ ہندوستان نے۵۷؍ میچ کھیلے ہیں ۔ پاکستان نے اس سال۲۹؍ میں سے۱۲؍ میچ کھیلے ہیں ۔ اس کے ٹاپ ۳؍ بلے باز بابر اعظم (۶۸۹؍ رن)، فخر زمان (۵۹۳؍ رن) اور امام الحق (۳۶۱؍ رن) مسلسل اسکور کر چکے ہیں ۔
 اسامہ میر، سعود شکیل اور آغا سلمان تاہم مسلسل کھیلنے میں ناکام رہے ہیں ۔ نمبر۷؍ بلے باز افتخار احمد اور۸؍ویں نمبر کے بلے باز شاداب خان اکثر رن ریٹ بڑھانے کے ذمہ دار رہے ہیں ۔ افتخار نے نیپال کے خلاف بھی سنچری بنائی تھی جبکہ شاداب نے گزشتہ ہفتے افغانستان کے خلاف ۴۸؍ رن بنائے تھے۔ مڈل آرڈر کے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کی پوزیشن کم و بیش یکساں ہے۔
 بولنگ میں جسپریت بمراہ اور پرسدھ کرشنا کی واپسی سے ہندوستانی حملہ مضبوط ہوا ہے۔ دونوں نے آئرلینڈ کے خلاف ٹی ۲۰؍ سیریز میں کافی بولنگ کی لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ۵۰؍ اوور کے فارمیٹ میں کیسے کھیلتے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں محمد سمیع کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے شاہین، نسیم اور رؤف نے مل کر اس سال۴۹؍ وکٹ حاصل کئے ہیں ۔ ایسے میں ہندوستانی بلے بازوں کا اصل امتحان باؤنسی پلیکل پچ پر ہوگا۔ اسپن میں رویندر جڈیجا کا انتخاب یقینی ہے، جو ۷؍ویں نمبر پر بیٹنگ کریں گے۔ ہندوستان کو کلدیپ یادو اور اکشر پٹیل کے درمیان سمجھداری سے انتخاب کرنا ہوگا۔ کلدیپ نے اس سال۱۱؍ ون ڈے میچوں میں ۲۲؍  وکٹلئے ہیں جبکہ اکشر نے ۶؍ میچوں میں صرف۳؍ وکٹ لئے ہیں ۔ پاکستان کے شاداب نے ۸؍ میچوں میں ۱۱؍ وکٹ حاصل کئے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK