ہندوستانی ٹیم نے اسٹارکھلاڑیوں کی غیرموجودگی میں انگلینڈ میں ۵؍ٹیسٹ میں توقع سے زیادہ کارکردگی کامظاہرہ کیا اور مستقبل کے لئے بہتر ٹیم کا بلیو پرنٹ بھی پیش کیا۔
EPAPER
Updated: August 05, 2025, 5:46 PM IST | London
ہندوستانی ٹیم نے اسٹارکھلاڑیوں کی غیرموجودگی میں انگلینڈ میں ۵؍ٹیسٹ میں توقع سے زیادہ کارکردگی کامظاہرہ کیا اور مستقبل کے لئے بہتر ٹیم کا بلیو پرنٹ بھی پیش کیا۔
شبھ من گل کی قیادت میں ہندوستانی ٹیم جب تقریباً ۲؍ ماہ قبل انگلینڈ پہنچی تو چند اہم سینئر کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں اس سے زیادہ توقعات نہیں کی جا رہی تھیں لیکن اس ٹیم نے پانچوں ٹیسٹ میچوں میں نہ صرف توقع سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا بلکہ مستقبل کے لیے ایک بہترین بلیو پرنٹ بھی پیش کیا۔ وراٹ کوہلی، روہت شرما اور روی چندرن اشون کے ریٹائرڈ ہونے اور اہم تیز گیند باز جسپریت بمراہ کے صرف ۳؍ میچوں کے لیے دستیاب ہونے کی وجہ سے ہندوستانی ٹیم سے زیادہ توقعات نہیں کی جا رہی تھیں، لیکن تبدیلی کے اس مرحلے کے پہلے امتحان میں وہ کامیاب رہی۔
دونوں کپتان گل اور ان کے حریف بین اسٹوکس کے الفاظ میں۴۵؍ دنوں کے سخت مقابلے کے بعد ۲۔۲؍سے ڈرا شاید ایک منصفانہ نتیجہ ہے۔ ہندوستان دو میچ ہارا، پہلا میچ لیڈس میں اور تیسرا ٹیسٹ لارڈس میں۔ ہندوستان ان میچوں میں بھی جیت سکتا تھا لیکن نوجوان کھلاڑیوں کو یہی سبق ملا ہے۔ ہندوستانی ٹیم کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس نے کسی بھی میچ میں آخر تک ہمت نہیں ہاری اور ۲؍ میچوں میں شاندار مقابلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیئے:محمد سراج کو حیدرآباد آنے پر بڑا اعزاز ملنے کا امکان
یہ ٹیم اسپرٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سیریز نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ہندوستانی ٹیم کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ گل نے سیریز میں ۴؍ سنچریوں کی مدد سے سب سے زیادہ۷۵۴؍ رن بنائے جس سے دیگر کھلاڑیوں کو بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب ملی۔ ایک اوپنر کی حیثیت سے اپنے کریئر کا آغاز کرنے والے گل نے بیٹنگ آرڈر میں اہم نمبر ۴؍ پر خود کو قائم کرکے ہندوستان کے بہت سے خدشات کو بھی دور کردیا۔
فاسٹ بولر محمد سراج سیریز کے ہیرو بن کر ابھرے۔ وہ دونوں ٹیموں کی طرف سے پانچوں ٹیسٹ کھیلنے والے واحد تیز گیند باز تھے۔ انہوں نے اوول میں سیریز کا آخری وکٹ لیا اور۲۳؍ وکٹ لے کر سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بولر بن گئے۔ سراج نے جسپریت بمراہ کے کام کے بوجھ کے انتظام کی وجہ سے ۲؍ ٹیسٹ میں نہ کھیلنے کا پورا فائدہ اٹھایا۔
مخالف ٹیم انگلینڈکے کپتان بین اسٹوکس کی طرح، دباؤ کو برقرار رکھنے کے لیے چند اضافی اوورس کی ضرورت پڑنے پر انہوں نے اپنا حصہ ڈالا۔ بمراہ کی فٹنیس پر سوالات برقرار رہیں گے اور طویل فارمیٹ میں ان کا مستقبل بھی غیر یقینی ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ سراج نئے تیز گیند بازوں کو تیار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ پرسدھ کرشنا اور آکاش دیپ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔رویندر جڈیجا نے اس سیریز کو اپنے لیے یادگار بنانے کے لیے اپنے تجربے کا بھرپور استعمال کیا۔۳۶؍ سالہ کھلاڑی نے سیریز میں ایک سنچری اور ۵؍ نصف سنچریوں کے ساتھ ۵۱۶؍ رن بنائے۔ کے ایل راہل دونوں ٹیموں کے سب سے قابل اعتماد بلے باز تھے۔ انہوں نے انگلینڈ کے مشکل حالات میں اپنی مہارت اور ہنر کا شاندار مظاہرہ کیا۔ گل اور جڈیجا کے علاوہ وہ سیریز میں دو سنچریوں کے ساتھ ۵۰۰؍ سے زیادہ رن بنانے والے دوسرے ہندوستانی بلے باز تھے۔
لوئر آرڈر میں واشنگٹن سندر کی کارکردگی قابل ستائش تھی اور انہوں نے مانچسٹر میں اپنے آف اسپن کے ساتھ بھی اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان نے ۸؍ویں نمبر تک بیٹنگ پر اصرار کیا اور واشنگٹن نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ٹیم کو اپنے منتخب کردہ راستے سے ہٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ رشبھ پنت اور کرس ووکس کی دلیرانہ کارکردگی نے بھی سیریز کو مزید دلچسپ بنا دیا جبکہ پنت مانچسٹر میں پہلی اننگز میں اہم رن بنانے کے لیے پیر میں فریکچر ہونے کے باوجود بیٹنگ کے لیے باہر آئے، ووکس کندھے کی چوٹ کے باوجود آخری ٹیسٹ کے پانچویں دن بیٹنگ کے لیے باہر آئے۔