Updated: August 03, 2026, 5:09 PM IST
| Glasgow
خیال کیا جا رہا تھا کہ گلاسگو میں منعقد ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیل ۲۰۲۶ءہندوستان کی کمزوریوں کو بے نقاب کریں گے کیونکہ اس بار کھیلوں کے پروگرام میں نشانہ بازی، کشتی، بیڈمنٹن، ہاکی اور ٹیبل ٹینس جیسے وہ کھیل شامل نہیں تھے جنہوں نے برسوں تک ہندوستان کی میڈل فہرست میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ہندوستان کی خواتین مکے باز۔ تصویر:پی ٹی آئی
خیال کیا جا رہا تھا کہ گلاسگو میں منعقد ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیل ۲۰۲۶ءہندوستان کی کمزوریوں کو بے نقاب کریں گے کیونکہ اس بار کھیلوں کے پروگرام میں نشانہ بازی، کشتی، بیڈمنٹن، ہاکی اور ٹیبل ٹینس جیسے وہ کھیل شامل نہیں تھے جنہوں نے برسوں تک ہندوستان کی میڈل فہرست میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس لیے اندازہ یہی تھا کہ ہندوستان کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن اس کے برعکس ہندوستانی کھلاڑیوں نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔برسوں سے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں ہندوستان کی کامیابی کا ایک مخصوص انداز رہا ہے۔ ہندوستانی نشانہ باز مسلسل تمغے جیتتے تھے، پہلوان کشتی میں کامیابیاں سمیٹتے تھے، ویٹ لفٹرز بھاری وزن اٹھا کر پوڈیم پر پہنچتے تھے اور ترنگا بار بار بلند ہوتا تھا۔ مگر گلاسگو میں ان کھیلوں کی عدم موجودگی نے ہندوستان کو اپنی صلاحیتیں نئے انداز میں منوانے کا موقع دیا۔
یہ بھی پڑھئے:تنوی شرما نے گوئین تھوئی لِنہ کو شکست دے کر اپنا پہلا سپر ۳۰۰؍ خطاب جیت لیا
اس بار کامیابی کی بنیاد نشانہ بازی یا کشتی نہیں بلکہ باکسنگ بنی۔ اگر ہندوستان کی مہم کا کوئی نمایاں عنوان تھا تو وہ باکسنگ رنگ میں ہندوستانی باکسرز کی شاندار کارکردگی تھی۔ ہندوستانی باکسرز نے گلاسگو کو اپنی کامیابیوں کا میدان بنا دیا اور ریکارڈ سات طلائی اور تین نقرئی تمغے اپنے نام کیے۔
مرد اور خواتین دونوں زمرے کے مکے بازوں نے یکساں اعتماد کے ساتھ مقابلے کیے، جس سے واضح ہوا کہ یہ محض ایک سنہری نسل کی کامیابی نہیں بلکہ ایک مضبوط تربیتی نظام اور مسلسل ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کا نتیجہ ہے۔ ایک زمانے میں نشانہ بازی ہندوستان کے لیے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں تمغوں کی ضمانت سمجھی جاتی تھی، لیکن گلاسگو میں یہی کردار باکسنگ نے بخوبی ادا کیا۔
ایتھلیٹکس میں بھی ہندوستان نے اپنی پرانی روایت بدل دی۔ اگرچہ نیرج چوپڑا بدستور سب سے نمایاں نام رہے، لیکن اس بار پورے ملک کی امیدیں صرف انہی تک محدود نہیں رہیں۔ مرلی سری شنکر، سروش کشارے، گل ویر سنگھ، تیجسوِن شنکر اور یش ویر سنگھ نے مسلسل تمغے جیت کر ثابت کیا کہ ہندوستانی ایتھلیٹکس اب صرف چند ستاروں پر انحصار نہیں کرتی۔
خصوصاً گل ویر سنگھ کی دو تمغوں پر مشتمل کارکردگی نے یہ پیغام دیا کہ ہندوستان اب انفرادی کامیابیوں سے آگے بڑھ کر اپنی مجموعی صلاحیت اور گہرائی کو پہچان چکا ہے۔ اسی طرح پیرا ایتھلیٹس نے بھی خود کو صرف ہمدردی کا مرکز بننے سے انکار کرتے ہوئے شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ شرمیلا دھنکھڑ، دلیپ گاوت اور سومن رانا کے طلائی تمغے محض خوش قسمتی کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی محنت، منصوبہ بندی اور ایک ایسے کھیلوں کے نظام کی عکاسی کرتے ہیں جو اب بلاامتیاز بہترین کارکردگی کو اہمیت دے رہا ہے۔
ادھر ویٹ لفٹنگ نے ہمیشہ کی طرح ہندوستان کا اعتماد برقرار رکھا۔ میرابائی چانو ایک بار پھر طلائی تمغہ جیت کر پوڈیم کی سب سے اونچی جگہ پر پہنچیں، جبکہ دیگر ویٹ لفٹرز کے مسلسل نقرئی تمغوں نے ثابت کیا کہ اس کھیل میں ہندوستان کی طاقت صرف ایک کھلاڑی تک محدود نہیں۔ اصل کہانی صرف تمغوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کھیلوں کی تبدیلی ہے جن میں یہ کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ اگرچہ نشانہ بازی، کشتی، بیڈمنٹن اور ہاکی کی عدم موجودگی سے ہندوستان کے تمغے کم ہو سکتے تھے، لیکن اس کے برعکس اس نے نئی طاقتوں کو دریافت کیا۔ باکسنگ نے قیادت سنبھالی، ایتھلیٹکس مزید مضبوط ہوئی، پیرا اسپورٹس کو اپنی حقیقی شناخت ملی اور ویٹ لفٹنگ نے اپنی برتری برقرار رکھی۔
کھیلوں میں ترقی کرنے والے ممالک وہی ہوتے ہیں جو صرف پرانی کامیابیوں پر انحصار نہیں کرتے بلکہ نئی روایات اور نئے ہیرو پیدا کرتے ہیں۔ گلاسگو ۲۰۲۶ء نے دراصل ایک تجربہ کیا کہ کیا ہندوستان اپنے روایتی کامیاب کھیلوں کے بغیر بھی نمایاں کارکردگی دکھا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب بھرپور ’’ہاں‘‘ میں ملا۔
یہ بھی پڑھئے:رام گوپال ورما اور اُرمیلا ماتونڈکر کی ’خفیہ شادی‘ کا دعویٰ، حقیقت کیا ہے؟
یہ کامیابی صرف ایک دولتِ مشترکہ کھیلوں تک محدود نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کوچنگ، اسپورٹس سائنس، نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش اور کھلاڑیوں کی معاونت پر کی گئی سرمایہ کاری اب مختلف کھیلوں میں نتائج دے رہی ہے۔ کامیابی اب چند مخصوص کھیلوں یا چند بڑے ناموں تک محدود نہیں رہی بلکہ تمغے جیتنے کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے، اور یہی مستقبل میں بھارت کے لیے سب سے بڑی طاقت ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر دہلی ۲۰۱۰ء کو اپنے ملک میں ریکارڈ تمغوں کے لیے یاد رکھا جائے گا تو گلاسگو ۲۰۲۶ء کو اس لیے یاد رکھا جائے گا کہ یہاں ہندوستان کی دولتِ مشترکہ شناخت صرف رائفل اور کشتی کے میدان تک محدود نہیں رہی، بلکہ باکسنگ کے دستانے پہننے والے، جیولن پھینکنے والے، ہائی جمپ عبور کرنے والے اور پیرا اسپورٹس کے پوڈیم پر فخر سے کھڑے نئے چیمپئن نے اس شناخت کو ایک نئی جہت دی۔ آخرکار، تمغے یہ بتاتے ہیں کہ کون جیتا، لیکن جن کھیلوں میں وہ تمغے جیتے جاتے ہیں، وہ یہ بتاتے ہیں کہ ایک ملک کس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔