Updated: July 07, 2026, 1:01 PM IST
|
Inquilab News Network
| Mumbai
بارش کی دُعائیں مانگی جارہی تھیں اور بارش ہوئی تو یہ صورت حال ہے کہ کہیں پیڑ گررہے ہیں اور انسانی جانیں جارہی ہیں تو کہیں دیوار یا مکان منہدم ہورہا ہے اور اس کی وجہ سے ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔
بارش کی دُعائیں مانگی جارہی تھیں اور بارش ہوئی تو یہ صورت حال ہے کہ کہیں پیڑ گررہے ہیں اور انسانی جانیں جارہی ہیں تو کہیں دیوار یا مکان منہدم ہورہا ہے اور اس کی وجہ سے ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ ٹریفک کے نظام کا شدید طور پر متاثر ہونا تو عام بات ہے۔ وسئی اور پال گھر جیسے شہر بُری طرح متاثر ہیں جبکہ پونے سے ممبئی آنے والی موٹر گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔پونے ممبئی ایکسپریس وے بند کردیا گیا ہے جبکہ اولڈ ممبئی پونے روڈ سے آنا جانا بھی مشکل ہے۔ مختلف واقعات میں تیرہ جانیں جاچکی ہیں۔ اہل ممبئی اور اہل مہاراشٹر کیلئے ہر سال کی ایک جیسی کہانی ہے۔ مکان گرتے ہیں، چٹانیں کھسکتی ہیں، سڑکیں بیٹھ جاتی ہیں، مین ہول کھلے ہونے کی وجہ سے کوئی راہ گیر بے چارہ دوسرے قدم پر موت کی آغوش میں پہنچ جاتا ہے، درخت یا درختوں کی شاخیں ٹوٹ کر جانی و مالی نقصان کا سبب بنتی ہیں، جگہ جگہ پانی بھر جاتا ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر لے جانا پڑتا ہے، ٹرینیں منسوخ ہوتی ہیں یا تاخیر سے چلتی ہیں وغیرہ۔ ان میں سے کوئی ایسا حادثہ یا واقعہ نہیں ہے جو نیا ہو۔
آگے بڑھنے سے قبل ہم یہ تسلیم کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ممبئی میں تین چار دن کی شدید بارش کے باوجود نہ تو ٹرینیں رُکیں نہ ہی مختلف علاقوں میں غیر معمولی طور پر پانی بھرا۔ خدا کرے کہ آئندہ ہفتوں میں بھی ایسا ہو تاکہ اس رواں دواں شہر کے کسی بھی حصے کو تھمنا نہ پڑے۔ اس شہر کے پیروں میں زنجیر پڑتی ہے تو بُرا لگتا ہے۔ اہل ممبئی اکثر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہر سال مانسون شروع ہونے سے پہلے بڑے پیمانے پر مانسونی تیاری کے دعوے کئے جاتے ہیںمگر جب بارش اپنی آمد کا ثبوت دینے لگتی ہے اور اس کے تیور بگڑنے لگتے ہیں تو ممبئی شہر بھی لڑکھڑانے لگتا ہے۔ اس کیلئے شہری اور ریاستی انتظامیہ سے کئے جانے والے سوالات اپنی جگہ درست ہیں مگر اس کا ایک وسیع منظرنامہ بھی ہے۔ ’’شہریانے‘‘ کا عمل جتنا منصوبہ بند ہونا چاہئے تھا، آج تک نہیں ہوسکا ہے۔ نہ تو مکانات کی تعمیر میں منصوبہ بندی اور ڈسپلن پایا جاتا ہے نہ ہی انفرا پروجیکٹوں کو وسیع تر مفاد میں تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے۔
دراصل شہروں کا بے ڈھنگے طریقے سے بڑھنا اور اپنا رقبہ وسیع کرنا، ممبئی جیسے شہر میں مینگرووز کا تلف کیا جانا، کھلے میدانوں کا ختم کیا جانا، تالابوں اورکنوؤں کا پاٹ دیا جانا، سڑکوں کا چوڑا نہ ہونا، اکثر علاقوں میں تنگ گلیوں کا جال بچھا ہونا، نالیوں اور گٹروں کا صاف نہ ہونا، صارف کلچر کی وجہ سے ٹنوں کے وزن سے کوڑا کرکٹ نکلنا، گندے اور سیلابی پانی کی نکاسی کا معقول انتظام نہ ہونا، یہ اصل مسائل ہیں جن کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ورنہ کیا وجہ ہے کہ سیٹلائٹ سسٹم کی وجہ سے موسم کے تیور قبل از وقت معلوم ہوجانے اور عمارتوں کی خستگی یا سڑکوں کی شکستگی کا مکمل علم ہونے کے باوجود موسم برسات کے الوداع کہنے تک خطرہ کی تلوار لٹکی رہتی ہے؟ کیا اُن ملکوں میں، جہاںبے پناہ بارش ہوتی ہے، ایسا ہی ہوتا ہے؟ہم اُن سے کیوں نہیں سیکھتے؟
بارانی حادثات کے ان اسباب کے پیش نظر بلدیہ یا ریاستی و مرکزی حکومت کو نہ تو بارش کو دوش دینا چاہئے نہ ہی یہ تاثر دینے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اس میں ان کا قصورنہیں ہے، مسئلہ کم وقت میں زیادہ بارش کا ہے۔ کاش یہ نکتہ سمجھا جائے۔