Updated: March 12, 2026, 1:01 PM IST
|
Agency
| Tehran
وزیر کھیل احمد دنیامالی نےکہا’’ امریکہ ایک کرپٹ حکومت ہے اور موجودہ حالات میں وہاں اپنی ٹیم بھیجنا ممکن نہیں ‘‘ انہوں نے واضح طورپر کہا ’’ چونکہ امریکہ نے ہمارے لیڈر کو شہید کیا ہے اسلئے ہم کسی بھی صورت ورلڈ کپ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ‘‘
ایران کی فٹ بال ٹیم ممکن ہے اس بار فٹ بال ورلڈ کپ میں نظر نہ آئے۔ تصویر:آئی این این
ایرانی وزیر کھیل احمد دنیامالی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران۲۰۲۶ء میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرے گا۔ یہ فیصلہ امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔وزیر ِ کھیل احمد دنیامالی نے واضح کیا کہ’’ امریکہ ایک کرپٹ حکومت ہے اور موجودہ حالات میں وہاں اپنی ٹیم بھیجنا ممکن نہیں ہے۔ چونکہ اس حکومت (امریکہ) نے ہمارے لیڈر کو شہید کیا ہے، اس لیے ہم کسی بھی صورت ورلڈ کپ کا حصہ نہیں بن سکتے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہمارے کھلاڑی وہاں محفوظ نہیں ہیں اور اصولی طور پر شرکت کے لیےحالات سازگار ہی نہیں ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر زبردستی جنگ مسلط کی گئی ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔دوسری جانب، فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے سوشل میڈیا پر اطلاع دی ہے کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی ہے جس میں ورلڈ کپ کی تیاریوں اور ایران کی شرکت پر بات کی گئی۔انفینٹینو کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ایرانی ٹیم کا ٹورنامنٹ میں خیر مقدم کیا جائے گا اور انہیں امریکہ میں کھیلنے کی مکمل اجازت ہوگی۔ ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے۲۰۲۶ء کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا لیکن اب سیاسی اور جنگی حالات کی وجہ سے ان کی شرکت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔
۲۸؍ فروری سے جاری امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع نے خطے کے کھیلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے بھی گزشتہ ہفتے شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ایسے حالات میں کون اپنی قومی ٹیم کو وہاں بھیجنا چاہے گا؟ایران کی دستبرداری فیفا ورلڈ کپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ ایشیا کی صفِ اول کی ٹیم ہے۔
اس سے قبلفیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری شدید جنگ کے باوجود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی فٹ بال ٹیم کو شمالی امریکہ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے خوش آمدید کہا ہے۔ورلڈ کپ کی تیاریوں کے حوالے سے ہونے والی ایک ملاقات میں جیانی انفانٹینو اور صدر ٹرمپ نے ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انفانٹینو کے مطابق صدر ٹرمپ نے اعادہ کیا کہ ایرانی ٹیم امریکہ میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کیلئے خوش آمدید ہے۔یہ بیان ٹرمپ کے اس سابقہ بیان سے مختلف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ایرانی ٹیم کی شرکت یا عدم شرکت سے ’کوئی فرق نہیں پڑتا‘۔یاد رہے کہ۲۸؍فروری سے شروع ہونے والی جنگ نے ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا ۔ اگر ایران دستبردار ہوتا ہے تو۱۹۵۰ء کے بعد یہ کسی بھی ملک کی ورلڈ کپ سے پہلی دستبرداری ہوگی۔ ایران کے گروپ مرحلے کے تمام میچز لاس اینجلس اور سیئٹل (امریکہ) میں شیڈول ہیں۔ایران کی حکومت کی جانب سےورلڈ کپ سے دست برداری کے اعلان کے بعداب سوال سامنے ہےکہ ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (اےایف سی)کی کون سی ٹیم ورلڈ کپ میں شامل ہوگی ۔ یو اے ای یا عراق میںسے کوئی ٹیم ورلڈ کپ میں شامل ہوسکتی ہے۔عراق کا ایک کوالیفائنگ پلے آف میچ باقی ہےجسے جیتنے کی صورت میںوہ براہ راست کوالیفائی کرلے گا ۔ کوالیفائی نہ کرپانے کی صورت میںایران کی جگہ اسے شامل کیاجاسکتا ہے کیونکہ درجہ بندی میںوہ یواے ای سے اوپر ہے۔اس کے علاوہ اٹلی کا بھی امکان ہےکیونکہ ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی نہ کرپانے وا لی وہ سب سے اونچے رینک کی ٹیم ہے۔