ایران نے سیاسی اور لاجسٹک خدشات کے درمیان فیفا ورلڈ کپ کی تیاریاں شروع کر دیں، ایرانی قومی ٹیم اگلے ہفتے امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے ٹورنامنٹ سے پہلے ترکی روانہ ہوگی۔
EPAPER
Updated: May 14, 2026, 2:02 PM IST | Tehran
ایران نے سیاسی اور لاجسٹک خدشات کے درمیان فیفا ورلڈ کپ کی تیاریاں شروع کر دیں، ایرانی قومی ٹیم اگلے ہفتے امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے ٹورنامنٹ سے پہلے ترکی روانہ ہوگی۔
ایران کی قومی فٹ بال ٹیم پیر کو ترکی روانہ ہوگی تاکہ۲۰۲۶ء فیفا ورلڈ کپ کی تیاریاں شروع کر سکے۔ یہ سفر ان سفارتی اور لاجسٹک مشکلات کے درمیان ہو رہا ہے جو امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے اس ایونٹ میں ایران کی شرکت سے وابستہ ہیں۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق، قومی ٹیم کی روانگی سے قبل بدھ کی شام تہران میں ایک رخصتی تقریب منعقد ہوگی۔ یہ تقریب شام۵؍ بجے تہران کے انقلاب اسکوائر پر شروع ہوگی اور رات گئے تک جاری رہے گی، جس میں شائقین کھلاڑیوں کو ترکی روانگی پر رسمی طور پر رخصت کریں گے۔اس تقریب میں قومی ٹیم کے کھلاڑی، کوچنگ اسٹاف، فٹ بال فیڈریشن کے عہدیداران، اعلیٰ کھیلوں کے منتظمین اور سیاسی و کھیلوں کی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے کم از کم ۵؍ ضمانتیں مقرر کیں
بعد ازاں آئی آر این اے نے یہ بھی بتایا کہ اس تقریب میں قومی ٹیم کا خصوصی ترانہ اور۲۰۲۶؍ ورلڈ کپ کے لیے ایران کی سرکاری جرسی کی نقاب کشائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ ایران ترکی کے شہر انطالیہ میں ورلڈ کپ سے قبل اپنا تربیتی کیمپ لگانے کا منصوبہ رکھتا ہے، جہاں ٹیم دو دوستانہ میچ کھیلے گی، جن میں سے ایک۲۹؍ مئی کو گیمبیا کے خلاف ہوگا۔ایران فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج کے مطابق، ایران ٹورنامنٹ شروع ہونے سے قبل امریکہ میں بھی ایک دوستانہ میچ کھیلے گا۔ ایران کو گروپ جی میں بلجیم، مصر اور نیوزی لینڈ کے ساتھ رکھا گیا ہے۔جبکہ ایران اپنا افتتاحی میچ ۱۶؍ جون کو لاس اینجلس کے سوفی اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گا، جبکہ۲۱؍ جون کو اسی مقام پر بلجیم سے مقابلہ کرے گا۔تاہم گروپ مرحلے کا آخری میچ ایران۲۶؍ جون کو سیئٹل کے لیومین فیلڈ میں مصر کے خلاف کھیلے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء: ایریزونا کا شہر ٹوسان ایرانی فٹ بال ٹیم کی میزبانی کے لیے تیار
ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، تاج نے کہا کہ ایران فیفا سے ضمانتیں طلب کر رہا ہے، کیونکہ ایرانی فٹ بال عہدیداران درست ویزا رکھنے کے باوجود گزشتہ ماہ کنیڈا میں فیفا کانگریس میں شرکت نہیں کر سکے تھے۔تاج نے کہا کہ ’’ہمیں امریکہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم ورلڈ کپ میں جا رہے ہیں کیونکہ ہم نے کوالیفائی کیا ہے۔ ہمارا میزبان فیفا ہے، نہ کہ کوئی مخصوص ملک۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران انقرہ میں تمام ٹیم ممبران کے ویزاےحاصل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے اور فنگر پرنٹ کے طریقہ کار سے استثنیٰ کے ساتھ امریکہ کے لیے براہ راست چارٹر پروازوں کی درخواست کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹورنامنٹ کے گرد سیاسی ماحول بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توجہ حاصل کرے گا۔
مزید برآں ایرانی فٹ بال صحافی اور تجزیہ کار سالار علیکاہ کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کا حجم خود بخود نہ صرف ایران بلکہ تمام ٹیموں کے لیے دباؤ پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ٹورنامنٹ کی میزبانی ایران کے میچوں کے گرد میڈیا کی توجہ مزید تیز کرے گی۔