Updated: March 11, 2026, 11:01 AM IST
| Tehran
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کو ایک بڑے سیکوریٹی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران مزید کشیدگی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر حملے جاری رہے تو ایران بھرپور جواب دے گا۔ اسی دوران ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی مدد کرنے والے شہریوں کے اثاثے ضبط کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ایرانی میزائیل سے اسرائیل میں ہونے والی تباہی۔ تصویر: ایکس
(۱) ایران مزید کشیدگی کیلئے مکمل طور پر تیار ہے: وزیر خارجہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’امریکہ ہمارے تیل اور جوہری تنصیبات کے خلاف سازش کر رہا ہے، لیکن ایران کے پاس بہت سے سرپرائز موجود ہیں۔‘‘ عراقچی کے مطابق اگر ایران پر حملے جاری رہے تو تہران بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے قانونی حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کو اقتصادی اور فوجی دباؤ کے ذریعے کمزور کرنا چاہتا ہے لیکن ایرانی قیادت اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس بیان نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا اور عالمی سطح پر اس بات پر بحث شروع ہو گئی کہ آیا یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر ملک تقسیم کرکے تیل پر قبضے کی سازش کا الزام
(۲) امریکہ کے ایران کے خلاف جنگ میں ۳۳۰؍ ملین ڈالر کے ریپر ڈرون تباہ
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی فوج کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام نے کئی امریکی MQ-9 Reaper ڈرون مار گرائے جن کی مجموعی مالیت ۳۳۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ یہ ڈرون جدید نگرانی، انٹیلی جنس جمع کرنے اور درست نشانے والے حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریپر ڈرون جدید جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں کیونکہ وہ طویل وقت تک فضا میں رہ کر ہدف کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ان ڈرونز کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ امریکی حکام نے نقصانات کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے نقصانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے پاس مؤثر دفاعی صلاحیت موجود ہے۔
(۳) ایران امریکہ اور اسرائیل کی مدد کرنے والے شہریوں کے اثاثے ضبط کرے گا
ایران نے اعلان کیا ہے کہ جو شہری امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ تعاون کریں گے ان کے اثاثے ضبط کر لیے جائیں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے دوران دشمن ممالک کی مدد کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین عام طور پر جنگی حالات میں نافذ کیے جاتے ہیں تاکہ جاسوسی یا اندرونی تعاون کو روکا جا سکے۔
(۴) ایران کے دارالحکومت میں رہائشی بلاکس پر امریکی اسرائیلی حملے میں تقریباً ۴۰ افراد ہلاک
رپورٹس کے مطابق تہران میں رہائشی عمارتوں پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تقریباً ۴۰؍ افراد ہلاک ہو گئے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے عام شہری متاثر ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ ایرانی حکومت نے اس واقعے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور عالمی برادری سے اس کی مذمت کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شہری علاقوں میں فوجی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تل ابیب سے حیفا اور دیمونا تک اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں کا قہر
(۵) ایران دنیا بھر میں اپنے ’’سلیپر سیل‘‘ کو فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے: امریکہ کا دعویٰ
امریکی انٹیلی جنس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ممکنہ عالمی ردعمل کے لیے اپنے خفیہ نیٹ ورکس کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق ایران کے مبینہ ’’سلیپر سیل‘‘ مختلف ممالک میں موجود ہو سکتے ہیں جو ضرورت پڑنے پر کارروائی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ان نیٹ ورکس کا مقصد ایران کے خلاف کارروائیوں کا عالمی سطح پر جواب دینا ہو سکتا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے دیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید تنازعات میں خفیہ نیٹ ورکس اور معلوماتی جنگ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، لیکن اس طرح کی رپورٹس نے عالمی سلامتی اداروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
(۶) ایران عالمی جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے: امریکی انٹیلی جنس
امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ممکنہ عالمی ردعمل کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تہران مختلف خطوں میں اپنے اتحادی نیٹ ورکس اور غیر روایتی صلاحیتوں کو فعال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے جواب میں کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ایرانی حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف اپنے دفاع کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ عالمی سلامتی ماہرین اس صورتحال کو انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے بین الاقوامی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
(۷) جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ہم کریں گے: ایران کے پاسداران انقلاب
ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ موجودہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ تہران کرے گا، نہ کہ واشنگٹن یا تل ابیب۔ ایرانی فوجی قیادت کے مطابق ایران کسی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے تحت اپنے دفاعی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ حکام کے مطابق ایران کے پاس دفاعی اور تزویراتی صلاحیتوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو تہران اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی فوجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگ کی سمت اور انجام کا تعین میدانِ جنگ اور سیاسی فیصلوں دونوں سے ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران کسی فوری جنگ بندی کے بجائے طویل مزاحمت کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے لبنان میں سفید فاسفورس استعمال کیا: ہیومن رائٹس واچ
(۸) ایرانی وزیر خارجہ نے ’’انتہائی تلخ تجربے‘‘ کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات مسترد کر دیے
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ موجودہ حالات میں تہران امریکہ کے ساتھ کسی نئے مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ماضی میں سفارتی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے باوجود ایران پر پابندیاں اور دباؤ جاری رہے۔ عراقچی نے اس صورتحال کو ’’انتہائی تلخ تجربہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اب پہلے اپنی سلامتی اور قومی مفادات کو یقینی بنائے گا۔ ان کے مطابق جب تک ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں اور دباؤ ختم نہیں ہوتے، اس وقت تک کسی بامعنی سفارتی عمل کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران مذاکرات کے اصولی طور پر خلاف نہیں، لیکن موجودہ ماحول میں اعتماد کی کمی بہت زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ تنازع کے فوری سفارتی حل کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔