Updated: June 16, 2026, 10:56 AM IST
|
Agency
| Tehran
رجب طیب اردگان نے معاہدہ کو خطے میں قیام امن کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا،متعدد ممالک کا معاہدہ پر مکمل اور موثر عملدرآمد پر زور ،خاتم الانبیاہیڈ کوارٹر کے مطابق امریکہ واسرائیل شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے۔
ایران میزائل۔ تصویر:آئی این این
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق معاہدہ کا اعلان سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کے ممالک اور عالمی لیڈروں نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق پابندیوں میں نرمی سمیت دیگر معاملات پر۶۰؍ روزہ جنگ بندی کے دوران مزید مذاکرات ہوں گے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے معاہدے کو خطے میں امن و سکون کے قیام کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے اسے تنازع کے پُرامن حل کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے جبکہ یورپی یونین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی معاہدہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس دستاویز پر طے شدہ وقت کے مطابق دستخط کئے جائیں گے، تمام متعلقہ فریق مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے پُرامن حل کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ عالمی برادری کے تعاون سے خطے میں جلد از جلد امن بحال ہو گا۔بنگلہ دیش نے بھی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیش رفت دیرپا امن اور کشیدگی میں کمی کا سبب بنے گی۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے معاہدے کو سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے امریکہ اور ایران کو مبارکباد دی ہے، اُنہوں نے قطر، سعودی عرب اور ترکی کی ثالثی اور کوششوں کو بھی سراہا ہے۔قطر نے دونوں ممالک کے مذاکراتی عزم کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں استحکام اور امن کے فروغ کا باعث بنے گا۔
’’امریکہ اسرائیل شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے‘‘
ایران کے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز نے امن معاہدہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے پاس شکست تسلیم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی عوام، مسلح افواج اور علاقائی اتحادیوں کی حمایت نے امریکہ اور اسرائیل کو شکست تسلیم کرنے پر مجبور کردیا۔ذرائع کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا اس معاہدہ کو ایران کی فتح قرار دے رہا ہے جب کہ ملک کے اندر سخت گیر حلقوں کی جانب سے اس معاہدہ پر تنقید کی جا رہی ہے۔
اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ دشمن کبھی بھی مزاحمتی ستونوں کے کسی حصے کو اکیلے نہیں گھیر سکتا، لبنانی جنگجوؤں کی جدوجہد اور ایران کی مضبوط سفارت کاری لبنان کی خودمختاری کی ضمانت ہے۔ انھوں نے کہا ایرانی سفارتکاری اسرائیلی حکومت کے پاگل پن اور جنگی جنون میں خلل ڈال دے گی۔ واضح رہے کہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امن معاہدہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے پر سب کو عمل درآمد کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا معاہدہ کا متن دستخط کے بعد جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا حتمی معاہدہ کیلئے آئندہ ۶۰؍ روز تک مذاکرات جاری رہیں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے، جوہری معاملات، منجمد اثاثوں کی بحالی اور جنگ کے خاتمے جیسے امور زیرِ بحث آئیں گے۔ انھوں نے واضح کیا کہ ایران نے اپنے مطالبات کے متن میںیہ باتیں شامل کرانے کے بعد ہی مفاہمت نامہ پر اتفاق کیا ہے اورواضح کیا ہےکہ معاہدہ کی خلاف ورزی کی صورت میں مناسب ردعمل دیا جائے گا۔
ہم جرائم کو نہیںبھولیں گے: اسماعیل بقائی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ گزشتہ۲۴؍گھنٹوں میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ معاہدہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم جرائم کو معاف کردیں گے یا بھول جائیں گے۔تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم ایرانی عوام پر اسرائیلی اور امریکی مظالم کو نہیں بھولیں گے، ہم نہیں بھولیں گے کہ ہم نے بڑی تعداد میں اپنے قائدین کو کھویا۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت نامہ پر جمعہ کو جنیوا میں دستخط کیے جائیں گے، جنیوا میں دستخط کی تقریب سے پہلے ایرانی حکام پڑوسی ممالک کے دورے کریں گے۔ترجمان نے مزیدکہا کہ عالمی ادارے ایران پر امریکہ اور صہیونی جارحیت کی مذمت کرنے میں ناکام رہے۔انہوں نے کہا کہ لبنان کے خلاف جارحیت کا خاتمہ امریکہ ایران مفاہمت نامہ کا حصہ ہےجس میں لبنان کی خودمختاری کے احترام پر بھی زور دیاگیا ہے۔