Updated: June 16, 2026, 1:32 PM IST
|
Agency
| Jerusalem
اسرائیلی سرحدوں اور بستیوں کے تحفظ کیلئے لبنان، شام اور غزہ کےعلاقوں میں طویل عرصے تک تعینات رہنے کی پالیسی بنائی جائیگی ۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز-تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل سے لبنان پر حملے روکنے کے واضح مطالبے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی افواج لبنان، شام اور غزہ پٹی کےسیکوریٹی علاقوں سے انخلا نہیں کریں گی اور غیر معینہ مدت تک وہاں موجود رہیں گی۔کاٹز نے پیر کو ایک بیان میں زور دیا کہ وہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایک واضح پالیسی اپنا رہے ہیں جس کے تحت فوج اسرائیلی سرحدوں اور بستیوں کے تحفظ کیلئے لبنان، شام اور غزہ کے سیکوریٹی علاقوں میں غیر معینہ مدت تک تعینات رہے گی۔
مزید برآں اسرائیلی وزیر نے اشارہ دیا کہ اس علاقے کو مقامی آبادی سے خالی کرایا جائے گا اور تمام’ دہشت گرد‘ بنیادی ڈھانچوں کو تباہ کر دیا جائے گا، بشمول سرحدی دیہات میں موجود ان گھروں کے جو ان کے مطابق دہشت گردوں کے گڑھ بنے ہوئے تھے۔اسرائیل کی جانب سے لبنان، شام اور غزہ میں موجود سیکوریٹی زونز سے انخلاء نہ کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے زور دیا کہ امریکہ ان کے ملک کے ساتھ گزشتہ روز اعلان کردہ معاہدے پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہے۔عراقچی نے پیر کے روز ترکی، مصر اور عراق کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطوں کے دوران اس بات پر زور دیا کہ لبنان پر اسرائیل کے تمام حملے اور جارحانہ کارروائیاں مکمل طور پر بند ہونی چاہئیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے خاتمے کیلئے طے پانے والے فریم ورک معاہدہ پر عمل در آمد کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے ۔ یہ بات ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کو تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی حملے بند ہونے سے مشروط قرار دیا تھا۔
گزشتہ ڈھائی برس کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کے وسیع علاقوں، لبنان کی سرحد کے اندر واقع درجنوں دیہات اور قصبوں نیز شام کے بعض علاقوں پر کنٹرول قائم کیا ہے۔ان تمام زیر ِ قبضہ علاقوں کا مجموعی رقبہ تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر بنتا ہے جو امریکی شہر نیویارک کے رقبے سے کچھ کم ہے ۔ دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان اس ہفتے دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات متوقع ہیں جن کے بعد آئندہ جمعہ کو جنیوا میں اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کئے جانے کا امکان ہے۔ یہ معلومات ایک باخبر سفارت کار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو فراہم کیں۔واضح رہےکہ ایران سے جنگ بندی کے معاہدہ کے امریکہ کے اعلان کے بعداسرائیل اضطراب کاشکار ہے ا وروہ معاہدہ قبول کرنے سے گریز کر رہا ہے اور جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملے تیز کردئیے ہیں۔