Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: جنگ بندی کے بعد نیتن یاہو کے خلاف عوامی غصہ، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

Updated: April 09, 2026, 10:14 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے خلاف اسرائیل میں عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد۔ سوشل میڈیا پر اسرائیلی شہریوں نے حکومت کی پالیسیوں اور جنگ کے فیصلوں پر کھل کر تنقید کی ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ یہ جنگ غیر ضروری تھی جبکہ دیگر کے مطابق اس نے صرف نیتن یاہو کو سیاسی فائدہ پہنچایا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیل میں حالیہ جنگ بندی کے بعد وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے خلاف عوامی غصہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، اور یہ غصہ خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد اسرائیلی عوام کے ایک بڑے طبقے نے نہ صرف جنگ کے جواز پر سوال اٹھائے ہیں بلکہ سرکاری فیصلوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
جنگ کے دوران حکومتی بیانیہ یہ تھا کہ یہ کارروائیاں قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں، تاہم جنگ بندی کے بعد سامنے آنے والی آراء اس بیانیے سے مختلف تصویر پیش کر رہی ہیں۔ کئی اسرائیلی شہریوں کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے ایران، حزب اللہ اور حماس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے باوجود عملی نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ ایک اسرائیلی کارکن امیت مزارہی نے لکھا کہ ’’تیس سال سے ہمیں ایران کے بارے میں گمراہ کیا جا رہا ہے، جب عملی قدم اٹھانے کا موقع آیا تو وہ (نیتن یاہو) ناکام رہے۔ ۲۰؍ سال سے حزب اللہ کے خلاف شکایتیں سن رہے ہیں، لیکن نتیجہ صفر ہے۔ ۱۷؍ سال سے حماس کے خاتمے کے وعدے کیے گئے، مگر کچھ حاصل نہیں ہوا۔ سچ یہ ہے کہ نیتن یاہو ناکام ثابت ہوئے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران جنگ بندی کو لیپڈ نے نیتن یاہو کی ’اسٹریٹجک ناکامی‘ کہا، جرمنی میں اسرائیل مخالف مظاہرے

اسی طرح اسرائیلی صارف لزی فینگن نے جنگ کے نتائج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس جنگ میں نہ حکومت کا تختہ الٹا، نہ جوہری پروگرام ختم ہوا، نہ میزائل سسٹم تباہ ہوا۔ البتہ دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات بدترین سطح پر پہنچ گئے، بچے متاثر ہوئے، معیشت کو نقصان ہوا اور جمہوریت کمزور ہوئی۔‘‘
اسرائیلی مبصر عمر نہمینی نے سخت الفاظ میں لکھا کہ ’’ہم ایران سے ہارے، حماس سے ہارے، حزب اللہ سے ہارے، عالمی رائے عامہ میں ہارے، اور اب اپنے ہی ملک میں بھی ہار رہے ہیں۔‘‘
معروف تجزیہ کار ڈین ایڈن نے اس صورتحال کو ایک موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ شکست ہمیں سبق دے سکتی ہے۔ اسرائیل کو ایک خود پسند وزیر اعظم اور غیر متوازن حکومت سے نجات حاصل کرنی چاہیے، اور عوام کو اپنی غلط فہمیوں سے باہر آنا ہوگا۔‘‘
صحافی آئریس لیل نے تاریخی تناظر میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’’نیتن یاہو نے امریکہ کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو کر ایران کے ساتھ معاہدہ ختم کروایا اور حالیہ جنگ میں بھی غلط اندازے لگائے۔ اس کے نتائج اسرائیل کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ تحفظ سے زیادہ سیاسی بقا کی جنگ تھی، جس میں عوام کو قیمت ادا کرنی پڑی۔‘‘
اسی طرح سیاسی تجزیہ کار رولا داؤد نے کہا کہ ’’چھ ہفتوں کی غیر ضروری جنگ کے بعد بھی وزیر اعظم نے عوام سے کوئی واضح بات نہیں کی۔ ایسا لگتا ہے کہ جنگیں اب سیاسی بقا کا ذریعہ بن چکی ہیں۔‘‘
ایک اور اسرائیلی شہری مریم کزاک نے جذباتی انداز میں لکھا کہ ’’اس جنگ کا خون ہمارے اپنے ہاتھوں پر ہے۔ شمالی علاقوں کے لوگ تنہا چھوڑ دیے گئے، فوجی مشکلات کا شکار ہیں، اور حکومت ذمہ داری لینے سے گریز کر رہی ہے۔ یہ داغ ہمیشہ باقی رہے گا۔‘‘
اسی طرح ایک اور شہری نے طنزیہ انداز میں جنگ کے ’’ماحصل‘‘ کی فہرست پیش کرتے ہوئے کہا کہ نہ حکومت کا تختہ الٹا، نہ جوہری پروگرام ختم ہوا، بلکہ عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ مزید متاثر ہوئی۔ اس نے مزید لکھا کہ ’’ہم نے صرف اپنی ساکھ کھوئی ہے اور دنیا میں تنہائی بڑھا لی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسپین کا مطالبہ: لبنان حملوں پر اسرائیل سے یورپی معاہدہ معطل کیا جائے

سوشل میڈیا پر کئی پوسٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس جنگ نے اسرائیلی معاشرے کو اندرونی طور پر مزید تقسیم کر دیا ہے۔ ایک تبصرے میں کہا گیا کہ ’’ہم ایران سے نہیں، بلکہ اپنی قیادت کی غلطیوں سے ہارے ہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’’ہم نے حماس، حزب اللہ اور ایران سب کے خلاف لڑائی کی، لیکن اصل نقصان ہماری عالمی ساکھ اور اندرونی اعتماد کو ہوا ہے۔‘‘
مزید برآں، بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عوامی غصہ اسی طرح بڑھتا رہا تو اس کے سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومت پہلے ہی اندرونی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک معروف اسرائیلی مبصر نے لکھا کہ ’’یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے، اگر ہم نے سبق نہ سیکھا تو مستقبل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔‘‘
ان تمام ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی معاشرے میں نہ صرف جنگ کے نتائج بلکہ قیادت کی حکمت عملی پر بھی شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود بے چینی برقرار ہے اور عوامی سطح پر یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ تنازع واقعی قومی سلامتی کے لیے تھا یا محض سیاسی مفادات کے لیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK