Updated: February 28, 2026, 10:36 PM IST
| Tehran
سعودی عرب نے ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن پر کیے گئے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان ممالک کی ہر ممکن مدد کا اعلان کیا ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج نے ایران میں میزائل لانچروں سمیت سیکڑوں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ قطر نے اپنی سرزمین پر ایرانی میزائل حملے کو خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر کے جہاز رانی کے راستوں اور اسرائیل پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
تہران میں یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری کے علاقے میں کئی میزائل گرے ہیں۔ تصویر: ایکس
ایران ڈیفنس کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی حملوں میں شہید
ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق،ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے سینیئر مشیر اور ایران کی دفاعی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی امریکہ اسرائیل کے فضائی حملوں میں شہیدہو گئے۔ اس کے علاوہ، سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے بتایا کہ شام کے شہر سویدا کے صنعتی علاقے میں ایک میزائل پھٹنے سے چار افراد ہلاک ہو گئے۔
آبنائے ہرمز بند
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسے خلیج میں موجود بحری جہازوں سے متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے پیغامات ملنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ایجنسی نے کہا کہ وہ ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکتی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سنیچر کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی۔اقوام متحدہ نے بتایا کہ یہ اجلاس شام۴؍ بجے شروع ہوگا، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ روس کے مستقل مشن کے بیان کے مطابق، فرانس، بحرین، چین، روس اور کولمبیا کے مستقل مشنوں کی درخواست پر یہ ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی خلیجی ممالک کو مدد
سعودی عرب نے ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن کو نشانہ بنانے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ان عرب ریاستوں کی حمایت میں ’’کسی بھی اقدام کے لیے اپنے تمام وسائل فراہم کرے گا۔‘‘ سعودی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ تاہم بیان میں ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جن میں ایران کے حملوں کے دوران ریاض میں دھماکے کی خبر سامنے آئی تھی۔
اسرائیلی حملے جاری
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ ایران میں فوجی اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ فوج کے مطابق مغربی ایران میں میزائل لانچروں سمیت سیکڑوں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی افواج ایران کی جانب سے ریاستِ اسرائیل پر فائر کیے جانے والے خطرات کی نشاندہی اور انہیں ناکام بنانے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں۔

قطر نے ایرانی حملے کی مذمت کی
قطر نے بھی اپنی سرزمین پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ دوحہ میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد قطری وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ قطری سرزمین کو نشانہ بنانا قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ قطر نے واضح کیا کہ وہ اس حملے کا جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
حوثی اسرائیل پر حملہ کریں گے
ادھر یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے دو سینئر عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد بحیرۂ احمر کے جہاز رانی کے راستوں اور اسرائیل پر میزائل و ڈرون حملے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایک عہدیدار کے مطابق پہلا حملہ ’’آج رات‘‘ ہی ممکن ہے۔ حوثی گروپ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے راستوں پر حملے روک چکا تھا، جس کے نتیجے میں امریکہ نے بھی ان کے خلاف کارروائیاں معطل کر دی تھیں۔ اسی طرح غزہ میں جنگ بندی کے بعد انہوں نے اسرائیل کے خلاف حملے بھی روک دیے تھے۔ خطے میں جاری ان پیش رفتوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو نہایت کشیدہ بنا دیا ہے اور عالمی برادری کی نظریں آنے والے دنوں پر مرکوز ہیں۔
ایران کا مشرق وسطیٰ میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر شدید حملہ
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ طور پر ایران پر حملے کے چند گھنٹے بعد تہران نے مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کے فوجی اڈوں پر حملہ کرکے سخت جواب دیا۔ اس میں بحرین کے جفیر علاقے میں امریکی بحریہ کا ۵؍ واں فلیٹ ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق بیس کو کئی ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیوز بھی وائرل ہوئے جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی اڈے کو ایران کے متعدد اڈوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم امریکہ نے حملے کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اطلاعات کے مطابق ایرانی میزائلوں نے العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔ جس کے بعد قطر سول ایوی ایشن اتھاریٹی نے ملک کی فضائی حدود میں ایئر نیویگیشن عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ اتھاریٹی نے کہا کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور جلد ہی معطلی کے حوالے سے اپ ڈیٹ فراہم کرے گی۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ابوظہبی اور دبئی میں بھی دھماکے ہوئے۔ ایرانی فورسیز نے کویت میں السلیم ایئر بیس پر بھی حملہ کیا ہے جب کہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ تاہم ابھی تک اس بارے میں کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
یہاں ان ممالک کی فہرست ہے جو ایران کی زد میں آئے: بحرین، قطر، یو اے ای، سعودی عرب، کویت
امریکہ کے ساتھ ایران پر حملوں میں درجنوں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا: اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی میں کیے گئے حملوں میں درجنوں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ کارروائی اتحادیوں کے درمیان کئی ماہ کی مشترکہ منصوبہ بندی کے بعد عمل میں آئی۔ فوج نے ایک بیان میں کہا: ’’اس حملے میں درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور یہ کارروائی حکومت کے خلاف ایک وسیع، مربوط اور مشترکہ آپریشن کا حصہ تھی۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’حملے سے قبل کے مہینوں میں اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) اور امریکی فوج کے درمیان قریبی اور مشترکہ منصوبہ بندی کی گئی، جس کے نتیجے میں دونوں افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور رابطے کے ساتھ اس وسیع حملے کو عملی جامہ پہنایا گیا۔‘‘
اردن کے دارالحکومت عمان میں سائرن کی آوازیں سنی گئیں
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی لہر شروع کیے جانے کے بعد سنیچر کو اردن کے دارالحکومت عمان میں سائرن کی آوازیں سنی گئیں۔ عمان میں محکمۂ تحفظِ عامہ نے کہا کہ ’’سائرن کے معنی درج ذیل ہوں گے: تین وقفے وقفے سے بجنے والے سائرن خطرے کی علامت ہیں، جبکہ ایک سائرن خطرے کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’جب آپ تین سائرن سنیں تو بہتر ہے کہ جہاں ہیں وہیں رُک جائیں اور حرکت نہ کریں۔ اگر آپ گھر سے باہر ہوں تو قریبی عمارت میں پناہ لیں اور سرکاری اعلان تک وہیں قیام کریں۔‘‘
ایران پر حملوں کے بعد بحرین میں ہنگامی سائرن بج اٹھے: وزارتِ داخلہ
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد بحرین میں ہنگامی سائرن بج اٹھے۔ بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا تعینات ہے، جس کی تصدیق وزارتِ داخلہ نے کی۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے شہریوں کے موبائل فون پر بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا کہ ’’خطرے کے باعث سائرن بجایا گیا ہے۔‘‘ منامہ میں اے ایف پی کے نمائندوں نے بھی سائرن کی آواز سننے کی اطلاع دی۔
یروشلم میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
یروشلم میں فضائی حملے کے سائرن بجنے کے بعد اے ایف پی کے صحافیوں نے شہر کے اوپر کئی دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے متعدد میزائل حملوں کا پتا چلا ہے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’’اسرائیل کی ریاست کی جانب مزید میزائل داغے گئے ہیں۔ عوام سے درخواست ہے کہ ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل جاری رکھیں اور سرکاری اعلان تک محفوظ مقامات پر قیام کریں۔‘‘
اسرائیل کی ایران کے خلاف نئی مہم کو ڈرامائی کوڈ نام ’شیر کی دہاڑ‘’لاینس رور‘‘ دیا گیا
اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی تازہ کارروائی کو ’’لاینس رور‘‘ کا نام دیا ہے، یہ عنوان ذاتی طور پر وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے منتخب کیا۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج اس کارروائی کے لیے اندرونی طور پر ایک مختلف نام استعمال کر رہی تھیں۔ دی ٹائمز آف اسرائیل نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ آئی ڈی ایف نے ابتدائی طور پر اپنا ایک عملی نام طے کیا تھا، تاہم نیتن یاہو نے ایسی علامتی اہمیت رکھنے والا نام منتخب کیا جو جون ۲۰۲۵ء میں ایران کے خلاف کیے گئے حملوں کی یاد دلاتا ہے۔ جون ۲۰۲۵ء میں اسرائیل کی سابقہ کارروائی کو ’’رائزنگ لاین‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کی ’قاتل حکومت‘ کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد اسرائیلیوں سے ’’متحد رہنے‘‘ کی اپیل کی۔ ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’اس قاتل دہشت گرد حکومت کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس سے اسے پوری انسانیت کو دھمکانے کی طاقت مل جائے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم مل کر کھڑے ہوں گے، مل کر لڑیں گے اور مل کر اسرائیل کی ابدیت کو یقینی بنائیں گے۔‘‘
ٹرمپ کا ایرانیوں سے حکومت پر قابض ہوجانے کا پیغام
ٹرمپ نے کہا کہ ’’ایران کے عظیم، قابل فخر لوگوں سے، میں آج رات کہتا ہوں کہ آپ کی آزادی کا وقت قریب ہے، پناہ میں رہیں، اپنے گھر سے مت نکلیں، یہ بہت خطرناک ہے باہر ہر طرف بم گرائے جائیں گے۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’’جب یہ ختم ہو جائے تو اپنی حکومت سنبھال لیں، یہ آپ کو سنبھالنا ہے، شاید یہ آپ کی نسلوں کے لیے واحد موقع ہو گا، کئی برسوں سے آپ نے امریکہ سے مدد مانگی ہے، لیکن آپ کو کبھی نہیں ملی، کوئی صدر وہ کرنے کو تیار نہیں تھا جو میں آج رات کر رہا ہوں۔ اب آپ کے پاس ایک صدر ہے جو آپ کو وہ دے رہا ہے جو آپ چاہتے ہیں، تو دیکھتے ہیں کہ آپ کیسا جواب دیتے ہیں، امریکہ طاقت کے زور پر آپ کی پشت پناہی کر رہا ہے۔‘‘
نیتن یاہو نے ایران پر حملوں کے لیے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ میرے بھائیو اور بہنو، اسرائیل کے شہریو، صرف ایک گھنٹہ قبل اسرائیل اور امریکہ نے ایران میں دہشت گرد حکومت کے وجود کو لاحق خطرے کو دور کرنے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ میں اپنے عظیم دوست صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ان کی تاریخی قیادت کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ٹرمپ نے ایرانی پاسداران انقلاب، مسلح افواج اور پولیس کو خبردار کیا
ٹرمپ نے ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ، مسلح افواج اور تمام پولیس کو بھی خبردار کیا کہ وہ لیٹ جائیں یا موت کا سامنا کریں۔اسلامی پاسداران انقلاب، مسلح افواج اور تمام پولیس کے ارکان سے، میں آج رات کہتا ہوں کہ آپ سب اپنے ہتھیار رکھ دیں اور مکمل استثنیٰ حاصل کریں، یا متبادل کے طور پر، یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا، لہٰذا، اپنے ہتھیار رکھ دیں، آپ کے ساتھ مکمل استثنیٰ کے ساتھ مناسب سلوک کیا جائے گا، یا آپ کو یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا کہ ان کے ملک نے ایران پر حملہ کیا ہے اور ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ ہدف کیا تھا، لیکن یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ نے اس خطے میں اپنے لڑاکا طیاروں اور جنگی جہازوں کی ایک بڑا بیڑہ جمع کر رکھا ہے تاکہ ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر معاہدے کیلئے دباؤ ڈال سکے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے ’خطرات کو ختم کرنے کیلئے‘ کیا گیا حملہ قرار دیا۔ انہوں نے فوری طور پر اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں ۳؍ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، شمالی علاقوں میں دھماکے ممکنہ طور پر میزائل حملوں کی وجہ سے ہوئے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران کے مشرق میں ایک دھماکا سنا گیا جبکہ شمالی علاقوں میں مزید دو دھماکے ہوئے، یہ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے۔ ’ رائٹرز‘ نے ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تہران میں یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری کے علاقے میں کئی میزائل گرے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یوکرین جنگ: ہمارے پاس ڈیڈ لائن نہیں، مقاصد ہیں: روس
دوسری جانب اسی وقت اسرائیل کے مختلف حصوں میں بھی سائرن بج اٹھے۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل بھر میں سکول بند کر دیئے گئے ہیں اور عوام کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ملک میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اے پی کے مطابق امریکی فوج نے اس حملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔