• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کی رمضان سے قبل مغربی کنارے میں آنسو گیس والے ڈرون تعیناتی کی تیاری

Updated: February 15, 2026, 10:05 PM IST | Jerusalem

اسرائیل رمضان سے قبل مقبوضہ مغربی کنارے میں آنسو گیس والے ڈرون تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے، ٹینڈر دستاویزات میں ان ڈرون کی خریداری کو رمضان کے دوران ’’متوقع واقعات‘‘ کے پیش نظر فوری قرار دیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مقبوضہ بیت المقدس سمیت مقبوضہ مغربی کنارے میں رمضان المبارک کے دوران فلسطینیوں پر آنسو گیس چھوڑنے والے ڈرون تعینات کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی چینل۱۲؍ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی نیشنل گارڈ ماہ رمضان کی سیکورٹی تیاریوں کے تحت یہ اقدام اٹھا رہی ہے۔پولیس ٹینڈر کمیٹی نے آنسو گیس کے کیپسول گرانے والے تین ڈرون سسٹم کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔ اس معاہدے کی مالیت تقریباً ۴۹۰۰۰؍ ڈالر ہے۔رپورٹ کے مطابق، ’’سرپرائز ایگ‘‘ کے نام سے مشہور یہ نظام میٹرائس قسم کے ڈرونز پر نصب کیے جاتے ہیں اور فضا سے آنسو گیس چھوڑ کر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں کم و بیش ۸؍ ہزار لاشیں اب بھی ملبے میں دبی ہیں: حکام

بعد ازاں چینل۱۲؍ کے مطابق، اسرائیلی پولیس پہلے ہی۱۹؍ ایسے نظام استعمال کر رہی ہے۔ٹینڈر دستاویزات میں اس خریداری کو رمضان کے دوران متوقع واقعات کے پیش نظر فوری قرار دیا گیا ہے۔اسرائیل کی نیشنل گارڈ کی تشکیل انتہائی دائیں بازو کے وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر  نے کی تھی۔ اپوزیشن نے سے بنگویر کا عسکری گروہ قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ اس ہفتے کے شروع میں، چینل۱۲؍ نےخبر دی تھی کہ اسرائیلی فوج نے رمضان کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ایک کمانڈو بریگیڈ کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لندن، رمضان کا استقبال: شہر روشنیوں سے منور، میئر صادق خان کی اتحاد کی اپیل

مزید برآں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں موجودہ ۲۲؍بٹالین کے علاوہ اضافی یونٹ بھیجے جائیں گے۔مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں ہزاروں نمازیوں کے داخلے سے قبل چیک پوسٹس پر مزید دستے تعینات کیے جائیں گے۔ساتھ ہی چینل ۱۲؍ کے مطابق، فوج نے  اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے سفارش کی ہے کہ رمضان کے دوران جمعہ کے دن۱۰؍ ہزار تک نمازیوں کو مسجد میں داخلے کی اجازت دی جائے۔ اس کے ساتھ۵۵؍ سال سے زائد عمر کے مردوں اور۵۰؍ سال سے زائد عمر کی خواتین کو داخلے کی اجازت دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
بعد ازاں مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے جمعہ کو کہا کہ انہیں رمضان میں رسائی پر پابندی لگانے کے اسرائیل کے فیصلے پر افسوس ہے اور خبردار کیا کہ اسرائیلی حکومت مقدس مقام کو نشانہ بنانے والا جارحانہ منصوبہ نافذ کر رہی ہے۔یاد رہے کہ ہر سال رمضان المبارک میں، لاکھوں فلسطینی مقبوضہ مغربی کنارے سے مقبوضہ بیت المقدس کا سفر کرتے ہیں تاکہ مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کر سکیں۔جبکہ اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے آغاز سے، اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے کے رہائشیوں کے مقبوضہ بیت المقدس میں فوجی چیک پوسٹس عبور کرنے پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران،اسرائیلی اجازت نامہ حاصل کرکے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے والوں کی تعداد انتہائی قلیل ہے، فلسطینی اسے حاصل کرنا مشکل قرار دیتے ہیں۔تاہم اسرائیل نے اس سال رمضان کے لیے کسی خاص رعایتی اقدامات کا اعلان نہیں کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK