Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی: اپوزیشن جماعتوں نے اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی کا بل پیش کیا

Updated: May 15, 2026, 11:00 AM IST | Rome

اٹلی کی اپوزیشن جماعتوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی کا بل پیش کیا، مجوزہ قانون کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے (بشمول مشرقی یروشلم) میں اسرائیلی بستیوں میں مکمل یا جزوی طور پر تیار کردہ اشیا اور خدمات کی درآمدات پر پابندی لگانا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایمنسٹی انٹرنیشنل اٹلی نے جمعرات کو بتایا کہ اٹلی کی اپوزیشن جماعتوں نے ایک بل پیش کیا ہے جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود اسرائیلی بستیوں کی تیار کردہ اشیا اور خدمات کی درآمد اور تشہیر پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس تجویز پر فائیوا سٹار موومنٹ، ڈیموکریٹک پارٹی، اور گرین اینڈ لیفٹ الائنس کے لیڈروںنے دستخط کیے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ اقدام ایک مہم کے بعد شروع کیا گیا جسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اٹلی اور آکسفیم اٹلی سمیت۲۰؍ سے زائد اطالوی سول سوسائٹی تنظیموں کی حمایت حاصل تھی۔
مجوزہ قانون کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے (بشمول مشرقی یروشلم) میں اسرائیلی بستیوں میں مکمل یا جزوی طور پر تیار کردہ اشیا اور خدمات کی درآمدات پر پابندی لگانا ہے۔مہم کے منتظمین کے مطابق، اٹلی ہر سال اسرائیل سے تقریباًایک بلین یورو مالیت کی اشیا اور خدمات درآمد کرتا ہے، جن میں زرعی مصنوعات، تیار کردہ سامان، اور سلامتی سے متعلق خدمات شامل ہیں۔تاہم مہم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بستیوں سے منسلک تجارت قبضے، بے دخلی اور تشدد کے ذریعے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں میں معاون ہے۔آکسفیم اٹلی کے ترجمان نے کہا کہ "یہ ایک اہم اولین قدم ہے، ہمیں امید ہے کہ یہ سلسلہ اٹلی اور یورپی یونین میں ایسے اقدامات اپنانے تک لے جائے گا جو مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت کو مؤثر طریقے سے روک دیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے ایک بیٹے کو اپنے باپ کی قبر کھود کر لاش لے جانے پر مجبور کیا

مزید براں انہوں نے کہا کہ اسپین اور سلووینیا سمیت متعدد ممالک پہلے ہی ایسے اقدامات اٹھا چکے ہیں، جبکہ بیلجیم، آئرلینڈ اور نیدرلینڈز بھی ایسی ہی قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔اس بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اسرائیلی برآمد کنندگان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اٹلی میں درآمد کی جانے والی اشیا مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار نہیں ہوتیں، جبکہ کسٹم حکام کو جھوٹے دعوے کی صورت میں مصنوعات ضبط کرنے کے اختیارات دینے کی بات کہی گئی ہے۔بعد ازاں اس اقدام کے حامی حقوق گروپوں نے اسرائیلی حکومت پر مغربی کنارے میںغیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع، فلسطینیوں کے مکانوں کی ضبطیاوراہل فلسطین کی جبری بے دخلی تیز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک ٹائمز کی تحقیق: اسرائیل نے یوروویژن کو ’’سافٹ پاور‘‘ ہتھیار بنایا

یاد رہے کہ یہ بل اس وقت پیش کیا گیا ہے جب یورپ میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ معاشی تعلقات پر بحث تیز ہو گئی ہے اور بعض سیاسی جماعتوں اور این جی اوز کی طرف سے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی پالیسیوں کے حوالے سے سخت اقدامات کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں چھاپے، گرفتاریاں، فائرنگ اور طاقت کا بے جا استعمال شامل ہے، ساتھ ہی اسرائیلی آباد کاروں کے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیلی فوج اورغیر قانونی آباد کاروں کے حملوں میں۱۱۵۵؍ فلسطینی شہید ہوئے، تقریباً۱۱۷۵۰؍ زخمی ہوئے، اور تقریباً۲۲۰۰۰؍ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK