فلمساز واشو بھگنانی اور پی وی آر آئی نوکس پکچرز کے درمیان جاری تنازع سے متعلق بحث کے درمیان، جیکی بھگنانی نے اس معاملے پر ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 01, 2026, 8:07 PM IST | Mumbai
فلمساز واشو بھگنانی اور پی وی آر آئی نوکس پکچرز کے درمیان جاری تنازع سے متعلق بحث کے درمیان، جیکی بھگنانی نے اس معاملے پر ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے۔
جیکی بھگنانی نے ان خبروں پر ردِعمل دیتے ہوئے ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پی وی آر آئی نوکس پکچرز تجربہ کار فلم ساز واشو بھگنانی کے خلاف مبینہ مالی واجبات کے سلسلے میں قانونی کارروائی شروع کر رہا ہے۔
تنازع کیا ہے؟
خبروں میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ تجربہ کار فلم ساز ایک اور قانونی تنازع کی دہلیز پر ہیں، جس میں سنیما چین پی وی آر آئی نوکس پکچرز شامل ہے اور یہ معاملہ واشو بھگنانی کی پروڈکشن ہاؤس پوجا انٹرٹینمنٹ کے ساتھ تین فلموں کے معاہدے سے جڑا ہوا ہے۔ مبینہ سمجھوتے کے مطابق پی وی آر نے پروڈکشن ہاؤس کو ۱۰۰؍کروڑ روپے بطور قابلِ واپسی ایڈوانس دیے تھے اور یہ طے پایا تھا کہ وہ فلمیں ’’مشن رانی گنج’’، ’’گنپتھ‘‘ اور ’’بڑے میاں چھوٹے میاں‘‘ ریلیز کرے گا۔ معاہدے کے مطابق اگر یہ فلمیں متوقع نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہیں تو پوجا انٹرٹینمنٹ کو باقی رقم واپس کرنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:’’اونچا لمبا قد فار ایور‘‘میں دِشا پٹانی اور اکشے کمارکا نیا دھماکہ خیز انداز
جیکی بھگنانی کا بیان
یکم جون کو ان خبروں پر ردِعمل دیتے ہوئے جیکی بھگنانی نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا’’گزشتہ کئی دہائیوں سے پوجا انٹرٹینمنٹ نے میڈیا کے ساتھ ایک ایسا رشتہ قائم کیا ہے جو باہمی احترام، شفافیت اور ہندوستانی سنیما سے مشترکہ محبت پر مبنی ہے۔ ہم اپنے سفر کے دوران ہماری ٹیم کو دی جانے والی مسلسل حمایت کے لیے بے حد شکر گزار ہیں۔‘‘
بیان میں مزید وضاحت کی گئی’’حال ہی میں پی وی آر آئی نوکس پکچرز اور پوجا انٹرٹینمنٹ کے درمیان مبینہ قانونی کارروائی سے متعلق رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ رپورٹس مکمل طور پر غلط ہیں۔ پی وی آر پکچرز نے ایک سرکاری وضاحت جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یہ دعوے ہماری مضبوط پیشہ ورانہ شراکت داری کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا نے فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ءکے لئے حتمی ٹیم کا اعلان کر دیا
پوجا انٹرٹینمنٹ نے ان رپورٹس کے مسلسل پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’اگرچہ ہم ڈیجیٹل میڈیا کی تیز رفتار نوعیت کا احترام کرتے ہیں، لیکن غیر مصدقہ خبروں کا مسلسل پھیلاؤ اس معاملے میں فریقین اور کمپنی کی برسوں سے قائم نیک نامی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘‘