Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی ایم اے کا ریاستی سطح پر ہڑتال کا اعلان، پیر کو طبی خدمات معطل رہیں گی

Updated: July 19, 2026, 10:27 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

شندے سینا کےکارپوریٹر رمیش مہاترے کی جانب سے شاستری نگر سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں پر مبینہ تشدد اور نرسوں کے ساتھ نازیبا سلوک کے واقعہ نے ریاست بھر کی طبی برادری میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

Indian Medical Association officials addressing reporters at a press conference. Photo: INN
انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کے عہدیدارن پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

شندے سینا کےکارپوریٹر رمیش مہاترے کی جانب سے شاستری نگر سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں پر مبینہ تشدد اور نرسوں کے ساتھ نازیبا سلوک کے واقعہ نے ریاست بھر کی طبی برادری میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس واقعہ کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے انڈین میڈیکل اسوسی ایشن (آئی ایم اے) مہاراشٹر برانچ نے پیر کی صبح ۶؍ بجے سے منگل کی صبح ۶ ؍بجے تک ایمرجنسی خدمات کے علاوہ ریاست بھر میں تمام طبی خدمات ۲۴؍ گھنٹوں کیلئے معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ 
آئی ایم اے اور دیگر طبی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں پر حملہ کسی ایک فرد پر نہیں بلکہ پوری طبی برادری کے وقار اور تحفظ پر حملہ ہے لہٰذا ملزمین کے خلاف فاسٹ ٹریک کورٹ میں مقدمہ چلا کر انہیں سخت ترین سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ 
سنیچر کو آئی ایم اے کے مقامی صدر ڈاکٹر راجیش راگھو نے سنڈیکیٹ ہال میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر کی تمام بڑی طبی تنظیمیں بشمول نیما، آیوروید ویاس پیٹھ، آئی ڈی اے اور فزیوتھراپی برانچ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئی ہیں۔ پیر کی صبح ۶ ؍بجے سے۲۴ ؍گھنٹے تمام مہاراشٹر بھر کی طبی خدمات معطل رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اسی روز صبح ۱۰؍ بجے کلیان کے مرباڈ روڈ پر واقع پورنیما چوک میں آئی ایم اے کے دفتر سے ایک عظیم احتجاجی مورچہ نکالا جائے گا۔ تنظیموں نے تمام ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے روایتی سفید کوٹ یونیفارم پہن کر اس پُرامن احتجاج کا حصہ بنیں۔

یہ بھی پڑھئے: شہر و مضافات میں فضائی آلودگی پر نگرانی رکھنے کا کام نجی کمپنی کو سونپا جائے گا

یہ مارچ شہر کے مختلف چوک جیسے سبھاش چوک، مہاتما پھلے چوک، محمد علی چوک اور چھترپتی شیواجی مہاراج چوک سے ہوتا ہوا کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کے ہیڈ کوارٹر پر ختم ہوگا جہاں ایک میمورنڈم پیش کیا جائے گا۔ دوسری جانب آئی ایم اے اور دیگر طبی تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداران نے مقامی پولیس سمیت وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور وزیر صحت پرکاش آبٹکر کو باضابطہ میمورنڈم ارسال کیا ہے۔ 
مکتوب میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ شاستری نگر اسپتال کے واقعہ کی تحقیقات فوری طور پر مکمل کر کے عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جائے اور کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلائی جائے تاکہ سیاسی اثر و رسوخ کے باعث کیس پر کوئی اثر نہ پڑے۔ عیاں رہے کہ شاستری نگر اسپتال کے ملازمین اور نرسوں نےانتہائی تشویشناک انکشافات کئے ہیں۔ 
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسپتال کا عملہ گزشتہ ۳۰؍ برسوں سے چند مقامی سیاسی غنڈوں کے خوف کے سائے میں فرائض انجام دے رہا ہے۔ ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اسپتالوں کے احاطے میں تربیت یافتہ پولیس فورس اور جدید سیکوریٹی نظام تعینات کرے تاکہ وہ خوف سے پاک ماحول میں مریضوں کی خدمت کر سکیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK