آبنائے ہرمز ان دنوں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اسی دوران ایک شخص جن کا نام ’’الیکسی مورداشوف‘‘ ہے سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سخت پابندی کے باوجود آبنائے ہرمز پار کر لی ہے۔
EPAPER
Updated: April 30, 2026, 1:01 PM IST | Moscow
آبنائے ہرمز ان دنوں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اسی دوران ایک شخص جن کا نام ’’الیکسی مورداشوف‘‘ ہے سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سخت پابندی کے باوجود آبنائے ہرمز پار کر لی ہے۔
ایک سپر یاٹ کے روس کی طرف روانہ ہو کر آبنائے ہرمز سے گزرنے کے ایک دن بعد، تمام نظریں اس کے مالک الیکسی مورداشوف پر مرکوز ہو گئیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ۲۸؍ فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد نازک جنگ بندی کے دوران امریکہ اور ایران کی دوہری ناکہ بندی کے باوجود یہ سپر یاٹ آبنائے ہرمز سے گزری۔ ۱۴۲؍ میٹر (۴۶۵؍ فٹ) لمبی کثیر منزلہ لگژری کشتی، جس کا نام ’’نورڈ‘‘ ہے، ہفتے کے آخر میں دبئی سے مسقط، عمان گئی اور حالیہ مہینوں میں آبنائے سے گزرنے والی چند نجی کشتیوں میں شامل ہو گئی۔ مالک الیکسی مورداشوف خاص توجہ کا مرکز بن گئے کیونکہ یوکرین پر حملے کے بعد ۲۰۲۲ء کے شروع میں یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ نے ان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کے باوجود ان کا جہاز دنیا کی سب سے کشیدہ بحری گزرگاہوں میں سے ایک سے گزر گیا۔
A 500 million dollar superyacht linked to Russian billionaire Alexey Mordashov crossed the Strait of Hormuz after maintenance in Dubai.
— Clash Report (@clashreport) April 28, 2026
The vessel, Nord, sailed under a Russian flag on an approved route, with neither Iran nor the United States objecting.
Source: Reuters pic.twitter.com/tv7ZXPF88o
الیکسی مورداشوف کون ہیں؟
الیکسی مورداشوف کو مبینہ طور پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے اہم اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ فولاد کی صنعت کے ایک بڑے کاروباری ہیں اور روس کے امیر ترین شخص سمجھے جاتے ہیں، جن کی مجموعی دولت تقریباً ۳۷؍ ارب ڈالر (۳؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار کروڑ روپے) بتائی جاتی ہے۔ اگرچہ وہ باضابطہ طور پر یاٹ کے مالک کے طور پر درج نہیں ہیں، لیکن شپنگ ڈیٹا اور ۲۰۲۵ء کے روسی کارپوریٹ ریکارڈز کے مطابق ’’نورڈ‘‘ ایک روسی کمپنی کے نام رجسٹرڈ ہے جو ان کی اہلیہ کی ملکیت ہے۔ یہ کمپنی شیروپویٹس میں قائم ہے، جہاں ان کی کمپنی سیورسٹال بھی رجسٹرڈ ہے۔ فوربز کے مطابق مورداشوف اسٹیل کمپنی سیورسٹال کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں اور تقریباً دو دہائیوں تک کمپنی کے سربراہ رہے، یہاں تک کہ ۲۰۱۵ء میں انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: صدر کی نیتن یاہو کی معافی پر وکلاء اور استغاثہ کو مذاکرات کی دعوت
بلومبرگ کے مطابق الیکسی مورداشوف کئی بڑی کمپنیوں میں شیئرز کے مالک ہیں، جن میں کان کنی کی کمپنی نورڈگولڈ، پاور آلات بنانے والی کمپنی پاور مشینز، یورپی ٹور آپریٹر TUI، ہائپر مارکیٹ چین لینٹا، اور ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹر روسٹیلیکوم شامل ہیں۔ فوربز نے رپورٹ کیا کہ مورداشوف ایک سادہ پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والدین ایک مل میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے نارتھمبریا یونیورسٹی سے ایم بی اے اور لینن گراڈ انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس سے ماسٹر آف سائنس اِن انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی ترقی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ ایک اسٹیل پلانٹ کے فنانس ڈائریکٹر بنے، جہاں انہیں بیرونی قبضے سے بچانے کیلئے شیئرز خریدنے کا کام سونپا گیا—ایسے شیئرز جو بعد میں مورداشوف نے خود اپنے پاس رکھ لئے۔