Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنجا رانی ہندوستان کی پہلی بین الاقوامی خاتون ویٹ لفٹر

Updated: March 01, 2026, 9:21 AM IST | New Delhi

قومی ویٹ لفٹنگ میں حصہ لینے والے ویٹ لفٹرز کی فہرست پر ایک نظر ڈالیں تو کچھ دلچسپ اعدادوشمار ہمارے سامنے آتےہیں۔

Kunja Rani doing weightlifting during the world competition. Photo: INN
عالمی مقابلے کے دوران کنجا رانی ویٹ لفٹنگ کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی کھیلوں کی تاریخ میں ویٹ لفٹنگ ہمیشہ ایک اہم حصہ رہی ہے اور اس شعبے میں ہمارے ملک کے کھلاڑیوں نے بہت شہرت بھی حاصل کی ہے۔ چاہے و ہ مرد کھلاڑی ہوں یا پھر خواتین، دونوں نے ملک کا نام ملک اور بیرون ملک روشن کیا ہے۔ قومی ویٹ لفٹنگ میں حصہ لینے والے ویٹ لفٹرز کی فہرست پر ایک نظر ڈالیں تو کچھ دلچسپ اعدادوشمار ہمارے سامنے آتےہیں۔ مجموعی طورپر ویٹ لفٹنگ سرکٹ میں، منی پور ایتھلیٹس کےبغیریہ فہرست نامکمل رہےگی۔ منی پور ہی ہندستان کی ایسی ریاست ہے جس نے اب تک کئی اعلیٰ درجےکے ویٹ لفٹرزتیار کیےہیں جنہوں نے ہندوستان کیلئےبہترین خدمات پیش کی ہیں۔ ہندوستان میں ویٹ لفٹنگ ایک کھیل کے طور پر ۱۹۳۵ء میں شروع ہوا۔ لیکن خواتین کو پہلی بار ۱۹۸۹ءمیں عالمی چیمپئن شپ میں شرکت کا موقع دیا گیا۔ 
یکم مارچ۱۹۶۶ءکوامپھال، منی پور میں پیدا ہوئی ایک پستہ قد لڑکی کنجارانی مینی راکپم نے ویٹ لفٹنگ کےشعبے میں ہندستان کو بین الاقوامی سطح پر شہرت دلائی۔ ۲۰؍برس ہی کی عمر میں کنجا رانی نے ملک نام پوری دنیا میں روشن کردیا۔ اس طرح کنجارانی دیوی ہندوستانی ویٹ لفٹنگ کی پہلی سپر اسٹار بن گئیں۔ اپنی نوعمری میں قومی سطح پر نام کمانے کےبعد، کنجارانی دیوی نے بین الاقوامی سطح پر قدم رکھا۔ انہوں نےمانچسٹر میں منعقدہ ۱۹۸۹ءکی عالمی چیمپئن شپ میں چاندی کاتمغہ جیتا۔ اس کامیابی کے ساتھ، کنجارانی دیوی محض ۲۰؍ برس کی عمرمیں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی ویٹ لفٹر بن گئیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: کرسن گھاوری ٹیسٹ کرکٹ میں ۱۰۰؍وکٹ لینے والے پہلے ہندوستانی

کنجارانی دیوی نے منی پور میں ویٹ لفٹنگ کو فروغ دینے کیلئے ایک محرک کے طور پر کام کیا۔ ۸۰ءکی دہائی کے اوائل میں، پاور لفٹنگ میں ۱۹۸۵ء کے قومی کھیلوں کے دوران، کنجارانی نے ۴۴؍ کلوگرام زمرےمیں سونے کا تمغہ جیتا۔ کنجارانی نے اس چیمپئن شپ میں کل ۳؍ چاندی کےتمغے جیتے۔ اس کےبعد وہ مسلسل ۷؍ سال تک عالمی چیمپئن شپ میں حصہ لیتی رہیں۔ کنجارانی دیوی نے ۱۹۹۷ءتک عالمی چیمپئن شپ میں مزید ۶؍ تمغے جیتے۔ یہ تمام تمغے چاندی کےتھے، جس سے ان کے تمغوں کی تعداد ۷؍ہو گئی۔ کھیلوں سے ریٹائر ہونے کے بعد کنجارانی نےکوچنگ شروع کی۔ انہوں نے کھیلوں کو ڈوپنگ سے پاک بنانے کی مہم بھی شروع کی۔ کنجارانی نے کھلاڑیوں کی اگلی نسل کو تیار کرنے میں بہت مدد کی۔ ان کی لگن اور کوچنگ کے نتائج نے ہندوستانی ویٹ لفٹنگ پلیٹ فارم کو آگے بڑھایا ہے۔ کنجارانی کی کوششوں کی وجہ سے آج ملک میں تقریباً ۸۰؍سے۱۰۰؍ویٹ لفٹر ہیں، جن میں سے اکثر جونیئر سطح پر مقابلہ کرتےکرتے جلد ہی اعلیٰ درجے کےبین الاقوامی مقابلوں کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ ان سےتربیت حاصل کرنے والے ویٹ لفٹنگ میں ہی نہیں بلکہ دیگر کھیلوں کے شعبوں میں بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ریاستی سطح پر کھیلتے ہوئے انہوں نے منفرد شناخت بنائی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK