Updated: February 06, 2026, 12:56 PM IST
|
Agency
| Mumbai
لتامنگیشکربرصغیر کی سب سے عظیم اور بااثر گلوکاراؤں میںشمار کی جاتی ہیں۔ تقریباً ۶؍دہائیوں سے اپنی جادوئی آوازکےذریعہ۲۰؍سے بھی زائد زبانوں میں ۵۰؍ہزارسےبھی زیادہ نغموں کو اپنی آواز دے کرگنیزبک آف ورلڈ ریکارڈمیں نام درج کرانے والی موسیقی کی دیوی لتا منگیشکر آج بھی مداحوں کے دلوں پر راج کررہی ہیں۔
لتا منگیشکر۔ تصویر:آئی این این
لتامنگیشکربرصغیر کی سب سے عظیم اور بااثر گلوکاراؤں میںشمار کی جاتی ہیں۔ تقریباً ۶؍دہائیوں سے اپنی جادوئی آوازکےذریعہ۲۰؍سے بھی زائد زبانوں میں ۵۰؍ہزارسےبھی زیادہ نغموں کو اپنی آواز دے کرگنیزبک آف ورلڈ ریکارڈمیں نام درج کرانے والی موسیقی کی دیوی لتا منگیشکر آج بھی مداحوں کے دلوں پر راج کررہی ہیں۔ اندور میں ۲۸؍ ستمبر ۱۹۲۹ءکوپیدا ہوئی لتا منگیشکر کے والد دینا ناتھ منگیشکرمراٹھی اسٹیج سے جڑے ہوئے تھے۔ ۵؍ سال کی عمرمیںلتا نے اپنے والد کے ساتھ ڈراموںمیں کام کرنا شروع کردیا تھااس کےساتھ ہی لتاموسیقی کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کرنے لگی تھیں۔ ۱۹۴۲ءمیں۱۳؍برس کی عمر میں لتا کے سر سے باپ کاسایہ اٹھ گیا اور خاندان کی ذمہ داری لتا منگیشکر کے اوپر آگئی۔ اس کے بعد ان کا پورا خاندان پونے سے ممبئی آگیا۔ حالانکہ لتا کو فلموں میں کام کرنا بالکل پسند نہ تھا،اس کے باوجود اپنے گھر والوں کی مالی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے لتا نے فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا۔لتا منگیشکر نے ۳۶؍سے زائد ہندستانی زبانوں اور چند غیر ملکی زبانوں میں بھی گیت گائے، تاہم ان کی گائیکی کا زیادہ تر حصہ ہندی، بنگالی اور مراٹھی زبانوں پر مشتمل ہے۔ اپنی غیر معمولی نظم و ضبط کی وجہ سے مشہور، لتا منگیشکر ہمیشہ ریکارڈنگ اسٹوڈیو میں ننگے پاؤں گانے ریکارڈ کیا کرتی تھیں، کیونکہ وہ اسٹوڈیو کو عبادت گاہ (مندر)کا درجہ دیتی تھیں۔ اپنی کامل پسندی کے باوجودیہ بات مشہور ہے کہ گانے جاری ہونے کے بعد وہ انہیں دوبارہ نہیں سنتی تھیں، کیونکہ ان کے مطابق وہ اپنی گائیکی میں صرف خامیاں ہی تلاش کرتیں۔
یہ بھی پڑھئے:بنگلہ دیش کے کئی وزراء بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کررہے ہیں
لتا منگیشکر نے ہندی، اردو، مراٹھی، بنگالی، تمل، تیلگو، گجراتی اور کئی دیگر زبانوں میں ہزاروں گانے گائے۔ ان کی آواز کی مٹھاس، پاکیزگی اور جذباتی گہرائی نے انہیں’سُروں کی ملکہ‘کاخطاب دلوایا۔ انہوں نے لتا جی کے نام سے بھی بے پناہ شہرت حاصل کی۔ ۱۹۴۰ء سے ۱۹۷۰ءکی دہائی تک لتا منگیشکر نے آشا بھوسلے، ثریا، شمشاد بیگم، اوشا منگیشکر، کشور کمار، محمد رفیع، مکیش، طلعت محمود، منّا ڈے، گیتا دت، ہیمنت کمار، جی۔ ایم۔ درّانی اور مہندر کپور جیسے نامور گلوکاروں کے ساتھ ڈیوٹس گائے۔مکیش کا انتقال ۱۹۷۶ءمیںہوا، جبکہ ۱۹۸۰ء کی دہائی میںمحمد رفیع اور کشور کمار بھی انتقال کر گئے۔ ان عظیم گلوکاروں کے بعد بھی لتا منگیشکر نے شیلندر سنگھ، شبیر کمار، نتن مکیش،منہر ادھاس، امیت کمار ، محمد عزیز، سریش واڈیکر، ایس پی بالاسبرامنیم اور ونود راٹھوڑ کے ساتھ گائیکی جاری رکھی۔ ۱۹۹۰ءکی دہائی میں انہوں نے روپ کمار راٹھور، ہری ہرن، پنکج ادھاس، ابھیجیت، ادت نارائن اور کمار سانوکے ساتھ گانے شروع کیے۔اس دور میں ان کا سب سے نمایاں کام فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ تھا، جس کے مشہور گیتوں میں’’میرے خوابوں میں جو آئے‘‘،’’ہو گیا ہے تجھ کو تو پیار سجنا‘‘،’’تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم‘‘ اور’’مہندی لگا کے رکھنا‘‘ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:راجپال یادو کا چیک باؤنس معاملہ:پانچ کروڑ کا قرض، چھ ماہ کی جیل اور اب خود سپردگی
لتا کو ان کےفلمی کرئیر میں ۴؍مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔لتا کو ان کے گائے نغموں کے لئے ۱۹۷۲ءمیں فلم پریچے، ۱۹۷۵ءمیں کورا کاغذ او ر ۱۹۹۰ءمیںفلم لیکن کےلئے نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس کے علاوہ لتا کو ۱۹۶۹ءمیں پدم بھوشن، ۱۹۸۹ءمیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے، ۱۹۹۹ءمیںپدم وبھوشن، ۲۰۰۱ءمیں بھارت رتن جیسے کئی اعزازات سے نوازا گیا۔۶؍فروری ۲۰۲۲ءکو موسیقی کی دنیا کایہ سورج ہمیشہ کے لئے ڈوب گیا،مگر ان کی آواز آج بھی کروڑوں دلوں میں زندہ ہے۔لتا منگیشکر نہ صرف ایک عظیم گلوکارہ تھیں بلکہ موسیقی کی دنیا کا ایک ناقابلِ فراموش باب بھی ہیں۔