• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجپال یادو کا چیک باؤنس معاملہ:پانچ کروڑ کا قرض، چھ ماہ کی جیل اور اب خود سپردگی

Updated: February 06, 2026, 12:03 PM IST | New Delhi

مشہور کامیڈین اور اداکار راجپال یادو نے آج دہلی کی تہاڑ جیل میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ معاملہ برسوں پرانے چیک باؤنس کیس سے جڑا ہوا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ یہاں پڑھیں کہ اس کیس کی شروعات کیسے ہوئی۔

Rajpal Yadav.Photo:INN
راج پال یادو۔ تصویر:آئی این این

فلموں میں اپنے مزاحیہ انداز سے ناظرین کو ہنسانے والے اداکار راجپال یادو اس وقت قانونی پیچیدگیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ معاملہ کافی پرانا ہے، لیکن دہلی ہائی کورٹ کی سختی کے بعد انہوں نے آج جمعرات کو تہاڑ جیل میں سرینڈر کر دیا ہے۔ اس کیس کا تعلق راجپال یادو کی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ سے ہے، جس کے ذریعے انہوں نے بطور ہدایت کار اپنے کیریئر کی شروعات کی تھی  لیکن حالات ایسے بدلے کہ بات تہاڑ جیل تک جا پہنچی۔
 پورا معاملہ کیا ہے، شروعات کیسے ہوئی؟
مختصراً معاملہ یہ ہے کہ راجپال یادو نے بطور ہدایت کار اپنی پہلی فلم بنائی۔ فلم بنانے کے لیے انہوں نے کروڑوں روپے کا قرض لیا۔ جب وہ قرض واپس نہ کر سکے تو جس کمپنی سے قرض لیا تھا اس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا۔ اداکار نے کمپنی کو کچھ چیک دیے، لیکن وہ سب باؤنس ہو گئے۔
تفصیل سے سمجھیں تو بات سال ۲۰۱۰؍ کی ہے، جب راجپال یادو نے اپنی ڈائریکٹوریل ڈیبیو فلم ’اتا پتا لاپتا‘ بنانے کے لیے مرگلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈنامی کمپنی سے پانچ کروڑ روپے بطور قرض لیے تھے۔
فلم ناکام  ہوئی، راجپال یادو کو نقصان
فلم  ’اتا پتا لاپتا‘  باکس آفس پر کامیاب نہیں ہو سکی۔ مبینہ طور پر راجپال یادو کو مالی نقصان اٹھانا پڑا اور وہ کمپنی سے لیا گیا قرض واپس نہ کر سکے۔ اس کے بعد قانونی کارروائی شروع ہوئی۔ کمپنی نے ان کے خلاف کیس دائر کیا اور الزام لگایا کہ قرض کی واپسی کے لیے جو چیک جاری کیے گئے تھے وہ سب باؤنس ہو گئے۔ اداکار کے خلاف چیک باؤنس کا مقدمہ درج ہوا۔ یہ چیک فلم کی پروڈکشن کے لیے دیے گئے تھے، مگر کمپنی کو رقم موصول نہیں ہوئی۔

راجپال یادو نے بار بار عدالت کا بھروسہ توڑا
چیک باؤنس کیس میں نچلی عدالت نے راجپال یادو کو قصوروار ٹھہرایا اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ معاملہ ہائی کورٹ پہنچا تو ابتدا میں عدالت نے ان کی سزا پر عارضی روک لگا دی، مگر شرط یہ رکھی کہ وہ کمپنی کی رقم ادا کریں گے۔ عدالت میں کئی بار وعدے کیے گئے، لیکن راجپال یادو بار بار رقم ادا کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے کہا کہ ان کا رویہ انتہائی غلط ہے اور وہ عدالت کے اعتماد کو مسلسل ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:جوہو:فلمساز روہت شیٹی کی رہائش گاہ پر فائرنگ معاملے میں ایک اور ملزم گرفتار

ہائی کورٹ کا سخت رویہ
عدالت میں کئی مرتبہ سمجھوتے کی بات ہوئی، اور ہر بار راجپال یادو نے رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا، لیکن مقررہ وقت پر ادائیگی نہیں کی۔ عدالت نے انہیں متعدد مواقع دیے، مگر ہر بار وعدہ توڑا گیا۔ ۲؍فروری کو جسٹس سوارنا کانتا شرما نے سختی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب مزید کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ ہائی کورٹ نے۲؍ فروری۲۰۲۶ءکو حکم دیا کہ راجپال یادو بدھ ۴؍ فروری ۲۰۲۶ء کو خود کو حکام کے حوالے کریں۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی تنقید کی گئی کہ انہوں نے بار بار عدالت کا اعتماد توڑا اور یقین دہانی کے باوجود رقم ادا نہیں کی۔

یہ بھی پڑھئے:آر سی بی چیمپئن: دہلی کیپیٹلز کو شکست دے کر ڈبلیو پی ایل کا تاج سر پر سجا لیا

مزید مہلت کی درخواست مسترد
ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود راجپال یادو نے۴؍ فروری کو سرینڈر نہیں کیا اور مزید مہلت کی درخواست کی، لیکن عدالت نے ان کی عرضی مسترد کر دی۔ ہائی کورٹ کی سختی اور مزید وقت نہ ملنے کے بعد بالآخر راجپال یادو نے آج جمعرات کو تہاڑ جیل میں خود سپردگی اختیار کر لی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK