• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فنڈ کے کمی، اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزیں ادارے کی خدمات میں ۲۰؍ فیصد کی کمی

Updated: February 06, 2026, 5:06 PM IST | Gaza

اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین کی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے سربراہ نے کہا ہے کہ فنڈز کی شدید قلت کے باعث ایجنسی کو اپنی خدمات میں۲۰؍ فیصد کمی کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے عطیہ دینے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سیاسی حمایت کو ٹھوس مالی تعاون میں بدلیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

 اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین کی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کےکمشنر جنرل فلپ لزارینی نے بدھ کو انادولو سے بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ایجنسی ایک بڑے مالی بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایجنسی کے پاس خطے بھر میں اپنی تمام خدمات جاری رکھنے کے لیے آج بہت بڑی مالی کمی ہے، جو ۲۰۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایجنسی آڈٹ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی۔لزارینی نے کہا، ’’ ۲۰۲۵ء میں ہماری طرف سے اختیار کردہ سختی کے اقدامات کے باوجود، مجھے اپنی خدمات میں۲۰؍ فیصد اضافی کمی کا فیصلہ کرنا پڑا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مثال کے طور پر، اسکول پانچ دنوں کی بجائے چار دن جانا ہوگا۔ ہماری صحت کی کلینک ہفتے میں ۴۰؍ گھنٹوں کی بجائے ۳۲؍ گھنٹے کھلی رہے گی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں نسل کشی ہم سب کا مسئلہ ہے: پیپ گارڈیالا کا عالمی ناانصافی پر دوٹوک مؤقف

غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے لزارینی نے واضح کیا کہ رفح بارڈر کراسنگ پر اسرائیلی پابندیوں کے تحت صرف۵۰؍ افراد کو گزرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’واضح رہے کہ رفح کراسنگ ابھی ابھی کھلی ہے۔ فی الحال ہمارے پاس صرف۵۰؍ افراد کو گزرنے کی اجازت ہے، اور یہ صرف پیدل چلنے والوں کے لیے کھلی ہے۔ لہٰذا یہ غزہ میں سپلائی کا نیا راستہ نہیں ہے۔‘‘انہوں نے تبصرہ کیا کہ غزہ کے لوگ اب بھی جدوجہد کر رہے ہیں اور۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء سے نافذ علامتی جنگ بندی معاہدے کے دوران فلسطینی ہلاک کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’وہ بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس پناہ گاہیں نہیں ہیں۔ سردی بہت سخت ہے۔ صحت کی حالت انتہائی خراب ہے۔ لہٰذا، غزہ میں اب بھی بقا کی روزانہ کی جدوجہد جاری ہے۔‘‘ 
اقوام متحدہ کی رکن ریاستوں کے رضاکارانہ مالی تعاون سےچلنے والی یو این آر ڈبلیو اے۱۹۵۰ء میں اپنے آغاز سے ہی فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد فراہم کرنے والی اہم ایجنسی رہی ہے، جو خوراک، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور رہائش مہیا کرتی ہے۔ ایجنسی ۵۹؍ لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کوامداد فراہم کرتی ہے۔جبکہ ۷۵؍ سال سے زیادہ کے کام کے دوران، یو این آر ڈبلیو اے کی سہولیات بار بار اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، جس میں کئی ٹن خوراک اور دوائیں تباہ ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنوری: الاقصیٰ میں ۲۸؍ مرتبہ اسرائیلی دھاوا، ابراہیمی مسجد میں اذان پر پابندی

بعد ازاں اکتوبر۲۰۲۴ء میں، اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایجنسی کے کچھ ملازمین پر۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کی واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں ایجنسی کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔یو این آر ڈبلیو اے کی خدمات  معطّل ہونے سے فلسطینی علاقوں میں تقریباً۲۵؍ لاکھ پناہ گزینوں کی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں۔اس دوران، متعدد عطیہ دینے والے ممالک نے یو این آر ڈبلیو اے کو اپنی مالی امداد معطّل کر دی، جس نے ایجنسی کو گہرے مالی بحران میں دھکیل دیا۔ واضح رہے کہ۲۰؍  جنوری کو، اسرائیلی فوجوں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں یو این آر ڈبلیو اے کے ہیڈکوارٹرز پر چھاپہ مارا، کمپاؤنڈ پر قبضہ کیا، اور اندر کی سہولیات کو مسمار کر دیاتھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK