Updated: August 02, 2026, 1:58 PM IST
| Mumbai
مہاراشٹر نے امتحانی بدعنوانی اور پرچہ لیک کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت کیلئے۲۳؍ خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرتے ہوئے۲۰۳؍ زیرِ التوا مقدمات ان کے سپرد کر دیئے ہیں۔ یہ اقدام امتحانی نظام میں شفافیت اور جلد انصاف کی فراہمی کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ملک میں امتحانی جرائم کی سماعت کیلئے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں عملی طور پر قائم کرنے والی اولین ریاستوں میں شامل مہاراشٹر نے۲۳؍ نامزد عدالتوں میں سماعت کیلئے۲۰۳؍زیر التوا مقدمات کی نشاندہی کی ہے۔ دی انڈین ایکسپریس کو حاصل معلومات کے مطابق ان مقدمات میں نہ صرف مرکزی پبلک ایگزامینیشنز (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، ۲۰۲۴ء کے تحت درج مقدمات شامل ہیں بلکہ مہاراشٹر پریوینشن آف مال پریکٹسز ایٹ یونیورسٹی، بورڈ اینڈ ادر اسپیسفائیڈ ایگزامینیشنز ایکٹ، ۱۹۸۲ء کے تحت درج کیسز بھی شامل کئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سرکاری نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے کی فریب دہی، ۳؍ ملزمین گرفتار
اس فیصلے سے خصوصی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کا دائرہ نمایاں طور پر وسیع ہو گیا ہے۔ نشاندہی کئے گئے مقدمات کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ ان میں صرف پرچہ لیک کے کیسز ہی نہیں بلکہ امتحانات میں نقل، ہائر سیکنڈری سرٹیفکیٹ (HSC) امتحانات میں دھوکہ دہی، اور سرکاری ملازمتوں، بشمول پولیس اور بلدیاتی اداروں کی بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں۔ یہ مقدمات۱۹۸۲ءکے ریاستی قانون، ۲۰۲۴ءکے مرکزی قانون، نیز انڈین پینل کوڈ (IPC) یا بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: وکھرولی الیکشن آفس میں ایس آئی آر کے تعلق سے میٹنگ
بامبے ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رویندر گھُگے نے جمعہ کو گزشتہ ہفتے اورنگ آباد اور ناگپور میں دو خصوصی عدالتوں کے قیام کے بعد باقی عدالتوں کو بھی نامزد کر دیا۔ عدالتوں کے ججوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ چارج شیٹ داخل ہونے کے تین ماہ کے اندر مقدمات نمٹانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ نشاندہی کئےگئے بیشتر مقدمات میں چارج شیٹ پہلے ہی داخل کی جا چکی ہے۔ یہ پیش رفت اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے نیٹ پرچہ لیک تنازع اور اس کے بعد ملک گیر طلبہ احتجاج کے تناظر میں امتحانی بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت کیلئے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد مرکزی وزارتِ قانون نے ریاستوں کو ہدایت دی کہ وہ پبلک ایگزامینیشنز (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، ۲۰۲۴ءکے تحت جرائم کی سماعت کیلئے خصوصی عدالتیں فعال کریں۔
یہ بھی پڑھئے: منترالیہ کی کینٹین ۹۸؍ فیصد صاف ستھری، ہائی کورٹ مطمئن نہیں
خصوصی عدالتوں کیلئے منتخب کئے گئے مقدمات میں سب سے پرانا مقدمہ۲۰۰۲ء کا ہے، جو ممبئی کی ایک عدالت میں زیر التوا ہے۔ یہ مقدمہ مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے امتحانات، جن میں پولیس سب انسپکٹر سمیت مختلف عہدوں کی بھرتی شامل تھی، میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی سے متعلق ہے۔ عدالتوں کا قیام ہر ضلع میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اورنگ آباد میں سب سے زیادہ۴۶؍ مقدمات ہیں، اس کے بعد تھانے (۲۲)، پونے (۱۸)، جلگاؤں (۱۵)، ممبئی (۱۲)، جبکہ ناگپور اور پربھنی میں ۱۱، ۱۱؍مقدمات موجود ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مقدمات امتحانات میں مختلف طریقوں سے نقل، خصوصاً الیکٹرانک آلات کے استعمال، سے متعلق ہیں۔ جن اضلاع میں ان قوانین کے تحت کوئی مقدمہ زیر التوا نہیں ہے وہاں فی الحال خصوصی عدالتیں قائم نہیں کی گئی ہیں۔ ان اضلاع میں لاتور (جو داخلہ امتحانات کی کوچنگ کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے)، امراوتی، ناندیڑ، رائے گڑھ، اکولا اور بلڈھانہ شامل ہیں۔ گزشتہ ہفتے نامزد کی گئی ناگپور کی خصوصی عدالت نے مقدمات کی سماعت بھی شروع کر دی ہے۔ ہائر سیکنڈری بورڈ کے ایک مبینہ پرچہ لیک کیس میں، جس کا باقاعدہ ٹرائل ابھی شروع نہیں ہوا، عدالت نے فوری سماعت کا حکم دیا ہے۔