Updated: August 12, 2026, 5:25 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ کے معروف نغمہ نگار اور شاعر منوج منتشر نے معروف موسیقار اے آر رحمان کے فلم’’چھاوا‘‘ سے متعلق بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ منوج منتشر نے سوال اٹھایا کہ اگر رحمان کو فلم میں مذہبی یا سماجی تقسیم کا پہلو نظر آیا تھا تو انہوں نے اس فلم کی موسیقی ترتیب دینے پر رضامندی کیوں ظاہر کی؟
منوج منتشراور اے آر رحمان۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ کے معروف نغمہ نگار اور شاعر منوج منتشر نے معروف موسیقار اے آر رحمان کے فلم’’چھاوا‘‘ سے متعلق بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ منوج منتشر نے سوال اٹھایا کہ اگر رحمان کو فلم میں مذہبی یا سماجی تقسیم کا پہلو نظر آیا تھا تو انہوں نے اس فلم کی موسیقی ترتیب دینے پر رضامندی کیوں ظاہر کی؟فلم ’’چھاوا‘‘ چھترپتی سمبھاجی مہاراج کی زندگی اور مغل بادشاہ اورنگزیب کے ساتھ ان کے تنازع پر مبنی ہے۔ فلم میں وکی کوشل نے سمبھاجی مہاراج اور اکشے کھنہ نے اورنگزیب کا کردار ادا کیا ہے۔اے آر رحمان نے ایک حالیہ گفتگو کے دوران فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں محسوس ہوا کہ فلم میں بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو لوگوں کے درمیان تقسیم پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق تاریخی موضوعات پر فلم بناتے وقت حساسیت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو اور جارجینا روڈریگز نے پرتگال میں شادی کرلی
رحمان نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ فلم بنانے والوں کے نقطۂ نظر کو سمجھتے ہیں، لیکن ان کے خیال میں فنکاروں کو ایسے موضوعات پیش کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ معاشرے میں مزید تقسیم پیدا نہ ہو۔ رحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے منوج منتشر نے سوال کیا کہ اگر فلم انہیں تقسیم کرنے والی محسوس ہوئی تو انہوں نے اس منصوبے کا حصہ بننے کا فیصلہ کیوں کیا۔ منوج نے بنیادی طور پر سوال اٹھایا’’اگر آپ کو فلم تقسیم کرنے والی لگی تو آپ نے اس کی موسیقی کیوں ترتیب دی؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ کسی فلم کی موسیقی تیار کرنا صرف ایک تکنیکی کام نہیں بلکہ اس کے موضوع اور کہانی کے ساتھ تخلیقی طور پر جڑنے کا عمل بھی ہے۔
’’چھاوا‘‘ چھترپتی سمبھاجی مہاراج کی زندگی، ان کی بہادری اور مغلیہ سلطنت کے خلاف ان کی مزاحمت کو پیش کرتی ہے۔ فلم کی ریلیز کے بعد تاریخی واقعات کی پیشکش، کرداروں اور خاص طور پر سمبھاجی مہاراج اور اورنگزیب کی تصویر کشی پر بھی مختلف حلقوں میں بحث ہوئی۔منوج منتشر فلم کے گیتوں اور مکالموں سے وابستہ رہے ہیں اور انہوں نے سمبھاجی مہاراج کی شخصیت کو ایک عظیم تاریخی ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی حمایت کی ہے۔
منوج منتشر کا کہنا ہے کہ تاریخی شخصیات اور واقعات کو فلم کے ذریعے نئی نسل تک پہنچانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی تاریخی کردار کی زندگی میں قربانیاں اور جدوجہد رہی ہوں تو اسے پردے پر دکھانے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے ’’چھاوا‘‘ کے حوالے سے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلم کا مقصد کسی مخصوص طبقے کے خلاف نفرت پیدا کرنا نہیں بلکہ سمبھاجی مہاراج کی بہادری اور قربانی کی کہانی بیان کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’حیوان‘‘ ٹیزر: اکشے کمار کا خطرناک روپ، نابینا سیف علی خان کوجان کا خطرہ
اس معاملے میں دونوں فنکاروں کے خیالات مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ اے آر رحمان نے فلم کے ممکنہ تقسیم پیدا کرنے والے اثرات پر تشویش ظاہر کی، جبکہ منوج منتشر نے فلم کے تاریخی اور قومی جذبے والے پہلو کا دفاع کرتے ہوئے رحمان سے ان کے اپنے تخلیقی کردار پر سوال کیا۔’’چھاوا‘‘ کے حوالے سے یہ بحث ایک مرتبہ پھر اس سوال کو سامنے لاتی ہے کہ تاریخی واقعات پر بننے والی فلموں میں فنکارانہ آزادی اور تاریخی حساسیت کے درمیان توازن کس طرح قائم کیا جائے۔