• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایمباپے کے متنازع بیان نے فٹ بال کی دنیا میں ہلچل مچا دی، لالیگا کی معذرت

Updated: October 28, 2026, 4:09 PM IST | Madrid

اسپینش فٹ بال لیگ لا لیگا نے فرانسیسی سپر اسٹار اور ریئل میڈرڈ کے فارورڈ کیلین ایمباپے کے ایک متنازع بیان پر چین کے عوام اور فٹ بال شائقین سے باضابطہ معذرت کر لی ہے۔ اس معاملے نے چین میں شدید ردعمل کو جنم دیا۔

Mbappe.Photo:X
کیلین ایمباپے۔ تصویر:ایکس

اسپینش فٹ بال لیگ لا لیگا نے فرانسیسی سپر اسٹار اور ریئل  میڈرڈ کے فارورڈ کیلین ایمباپے کے ایک متنازع بیان پر چین کے عوام اور فٹ بال شائقین سے باضابطہ معذرت کر لی ہے۔ اس معاملے نے چین میں شدید ردعمل کو جنم دیا، جبکہ چینی کمپنیوں نے ایمباپے کے ساتھ تجارتی معاہدے ختم کرنے کا اعلان کیا اور چینی سرکاری ٹیلی ویژن کی جانب سے لا لیگا کے میچوں کی نشریات معطل کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
لا لیگا کے صدر خاویر تی ایباس نے کہا ہے کہ ایمباپے کے ذاتی بیان کو پوری لیگ یا ہسپانوی فٹ بال سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، لا لیگا چین کے ساتھ برسوں سے قائم تعلقات، اعتماد اور باہمی احترام کو نقصان نہیں پہنچنے دینا چاہتی۔
 تنازع کی ابتدا ایک ویڈیو کلپ سے ہوئی، جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا۔ اس میں ایمباپے سے ان کے پسندیدہ انٹرنیٹ میم کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ جواب میں انہوں نے ایک ایسی مزاحیہ تصویر کا ذکر کیا جس میں ان کا چہرہ چین کے سابق رہنما ماؤ زے تنگ کی تصویر پر لگا ہوا تھا۔رپورٹس کے مطابق، ایمباپے نے اس تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جسے انہوں نے چینی آمر قرار دیا۔ ان کا یہ تبصرہ بظاہر انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے ایک میم سے متعلق تھا، جس میں ان کے چہرے کو ماؤ زے تنگ کی تصویر کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:ابھیشیک کی طوفانی سنچری، ہندوستان کی ٹی ۲۰؍ سیریز میں ناقابل تسخیر برتری

یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد چین میں متعدد افراد نے اس تبصرے کو اپنے قومی جذبات، تاریخ اور سابق رہنما کی توہین قرار دیا۔ تاہم، خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس   کے مطابق، اس ویڈیو کلپ کی صداقت کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔ ماؤ زے تنگ عوامی جمہوریہ چین کے بانی لیڈر تھے اور چین کی سرکاری تاریخی و سیاسی شناخت میں ان کی اہم حیثیت ہے۔ اسی وجہ سے ان کی شخصیت سے متعلق طنزیہ یا توہین آمیز سمجھے جانے والے تبصرے وہاں خاصی حساسیت پیدا کر سکتے ہیں۔ تنازع بڑھنے اور چینی کمپنیوں کی جانب سے تجارتی تعلقات ختم کیے جانے کے بعد ایمباپے نے ۲۷؍اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر معافی نامہ جاری کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ ان کا تبصرہ نامناسب تھا اور اس سے چین اور دنیا بھر میں چینی برادری کے لوگوں کو تکلیف پہنچی۔
ایمباپے نے اپنے بیان میں کہا: ’’ایک حالیہ انٹرویو کے دوران میں نے ایک تصویر پر ردعمل دیا۔ میرا تبصرہ نامناسب تھا اور اب مجھے احساس ہے کہ اس سے چین اور دنیا بھر کی چینی برادری کے بہت سے لوگوں کو تکلیف پہنچی۔ میں ان تمام افراد سے معذرت کرتا ہوں جنہیں میری بات سے دکھ پہنچا۔ میرا مقصد ہرگز ایسا کرنا نہیں تھا۔ میں چینی عوام اور ان کی تاریخ کا گہرا احترام کرتا ہوں اور دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘‘ ان کا معافی نامہ فرانسیسی، چینی اور انگریزی زبانوں میں جاری کیا گیا۔ اس کے باوجود فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کی معذرت سے چینی عوام کے غصے یا تجارتی اداروں کے فیصلوں پر کیا اثر پڑے گا۔
 لا لیگا کے صدر خاویر تی ایباس نے لیگ کی جانب سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ایمباپے کے تبصرے سے چینی شائقین کو پہنچنے والی تکلیف پر انہیں گہرا افسوس ہے۔لا لیگا کے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ایمباپے کے تبصرے ان کی ذاتی حیثیت میں کیے گئے تھے اور ان سے لیگ کے مؤقف کی عکاسی نہیں ہوتی۔ تاہم، اپنی ادارہ جاتی ذمہ داری کے تحت لا لیگا اور اس کے تمام کلبوں کی جانب سے معذرت کی جاتی ہے۔  لا لیگا نے یہ بھی اعلان کیا کہ کلبوں اور کھلاڑیوں کے تعاون سے ثقافتی حساسیت اور ابلاغ سے متعلق ایک نیا ضابطہ تیار کیا جائے گا، تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے:’’اسٹوڈنٹ آف دی ایئر: آفٹر ڈارک‘ ‘کا ٹریلر ریلیز

اس تنازع کے اثرات صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے بلکہ ایمباپے کے تجارتی معاہدے بھی اس کی زد میں آ گئے۔رپورٹس کے مطابق، چین کی کم از کم تین بڑی کمپنیوں نے فرانسیسی فٹ بالر کے ساتھ اپنے تعاون کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔  مشروبات بنانے والی کمپنی نے ایمباپے کے ساتھ اپنا تجارتی تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا۔ کمپنی نے کہا کہ وہ قومی جذبات کو مجروح کرنے والے رویے کی مخالفت کرتی ہے اور ایسے معاملات پر عدم برداشت کی پالیسی رکھتی ہے۔ چین کی بڑی ڈیری کمپنی مینگ نیو نے بھی ایمباپے کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی تصدیق کی۔ پنیر اور ڈیری مصنوعات بنانے والی کمپنی نے بھی ایمباپے سے تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلے اس کھلاڑی کے لیے ایک بڑا تجارتی دھچکا سمجھے جا رہے ہیں جس کی تصاویر چین میں اشتہارات اور مصنوعات کی تشہیر کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر اس معاملے نے نمایاں توجہ حاصل کی اور بعض صارفین نے کمپنیوں سے ایمباپے کی تشہیری تصاویر ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK