آسٹریلیا کے تیز گیند باز مچل اسٹارک کے پاس بنگلہ دیش کے خلاف ۱۳؍ اگست سے شروع ہونے والی ۲؍ میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں ایک بڑا ریکارڈ اپنے نام کرنے کا موقع ہوگا۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 12:38 PM IST | Dhaka
آسٹریلیا کے تیز گیند باز مچل اسٹارک کے پاس بنگلہ دیش کے خلاف ۱۳؍ اگست سے شروع ہونے والی ۲؍ میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں ایک بڑا ریکارڈ اپنے نام کرنے کا موقع ہوگا۔
آسٹریلیا کے تیز گیند باز مچل اسٹارک کے پاس بنگلہ دیش کے خلاف ۱۳؍ اگست سے شروع ہونے والی ۲؍ میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں ایک بڑا ریکارڈ اپنے نام کرنے کا موقع ہوگا۔ اگر اسٹارک اس سیریز میں ۷؍ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہندوستان کے عظیم آل راؤنڈر کپل دیو اور جنوبی افریقہ کے لیجنڈری فاسٹ بولر ڈیل اسٹین کو وکٹوں کے معاملے میں پیچھے چھوڑ دیں گے۔
اسٹارک نے اب تک ٹیسٹ کرکٹ میں ۴۳۳؍وکٹیں حاصل کی ہیں۔ دوسری طرف کپل دیو کے نام ۴۳۴؍ اور ڈیل اسٹین کے کھاتے میں ۴۳۹؍ٹیسٹ وکٹیں درج ہیں۔اس طرح ۷؍ وکٹیں حاصل کرتے ہی اسٹارک دونوں لیجنڈز سے آگے نکل جائیں گے۔ تاہم اسٹارک کا کہنا ہے کہ ان کے لئے ذاتی کامیابیوں سے زیادہ ٹیم کی کامیابی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کا بنیادی ہدف اگلے سال اوول میں ہونے والے ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) کے فائنل کے لئے زیادہ سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دھرمندر سنگھ جڈیجا سوراشٹر چھوڑ دیں گے، ششانک سنگھ پڈوچیری سے کھیلیں گے
اسٹارک نے آئی سی سی سے کہا’’اس کا مطلب ہے کہ میں نے کافی کرکٹ کھیلی ہے۔ کپل دیو اور ڈیل اسٹین جیسے عظیم کھلاڑیوں کے ساتھ میرا نام جڑنا اعزاز اور فخر کی بات ہے۔ لیکن جب آپ میدان پر کھیل رہے ہوتے ہیں، تب ذاتی ریکارڈز زیادہ معنی نہیں رکھتے۔ آپ اتنا آگے کا نہیں سوچتے۔‘‘آسٹریلیائی ٹیم فی الحال ڈبلیو ٹی سی پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے ساتھ ٹیم کے ۷؍ ماہ کے مصروف اور چیلنجنگ ٹیسٹ شیڈول کا آغاز ہوگا۔ اس کے بعد آسٹریلیا کو ہوم گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ کی میزبانی کرنی ہے پھرنیوزی لینڈ اور ہندوستان کے دورے پر ٹیسٹ سیریز کھیلنی ہے۔
موجودہ ڈبلیو ٹی سی سائیکل میں اسٹارک بہترین فارم میں نظر آئے ہیں۔ انہوں نے اب تک ۸؍ ٹیسٹ میچوں میں ۴۶؍وکٹیں لے کر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ وہیں انگلینڈ کے خلاف حالیہ ایشز سیریز میں انہوں نے ۳۱؍ وکٹیں اپنے نام کی تھیں۔ ۳۶؍ سالہ اسٹارک نے اپنے طویل اور کامیاب کرکٹ سفر کا سہرا مسلسل خود کو بہتر بنانے، فٹنس پر کام کرنے اور کھیل کے مطابق حکمت عملی میں تبدیلی کو دیا ہے۔انہوں نے کہا’’جب آپ ۳۶؍ سال کے ہوتے ہیں اور ۱۶؍ سال سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہوتے ہیںتو آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ نے اپنے کھیل میں کافی بہتر کیا ہے۔ طویل عرصے تک برقرار رہنے کے لئے مسلسل سیکھنا، خود کو پروان چڑھانا اور مزید بہتر بنتے رہنا ضروری ہے۔‘‘
۴۳۳؍ ٹیسٹ وکٹ مچل اسٹارک اب تک حاصل کر چکے ہیں۔