Inquilab Logo Happiest Places to Work

مودی سرکار کو اَب لاٹھی چارج پر جوابدہی کا سامنا

Updated: July 27, 2026, 9:27 AM IST | New Delhi

اپوزیشن پارلیمنٹ میں آج اس معاملہ کو پوری شدت سےاٹھائےگا، امیت شاہ نشانہ پر ہوںگے، ذمہ داروں  کےخلاف کارروائی اور وزیراعظم سے طلبہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ۔

Home Minister Amit Shah may face tough questions in Parliament. Photo: INN
وزیر داخلہ امیت شاہ کو پارلیمنٹ میں سخت سوالوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

وزارت تعلیم سے دھرمیندر پردھان  کے استعفیٰ  کے بعد اپوزیشن  کے  اعتماد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور    اس بڑی کامیابی کےبعد وہ احتجاج کرنےوالے طلبہ پر ۲۰؍ جولائی کو دہلی کی سڑکوں پر ڈھائے گئے مظالم کی جوابدہی  طے کرنے کیلئے پیر کو پارلیمنٹ میں پوری شدت سے آواز بلند کریگا۔ کانگریس کی قیادت  میں اپوزیشن اتحاد نے پولیس کریک ڈاؤن کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھانے کی تیاری کرلی ہے۔   وہ ان  زیادتیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور وزیر اعظم نریندر مودی سے طلبہ سے معافی مانگنے  کے  مطالبہ پر اٹل ہے۔ 

وزیرداخلہ سے جوابدہی کی مانگ

اپوزیشن اتحاد’’انڈیا‘‘ کی پارلیمانی حکمت عملی، جس میں دو سال قبل بنائے گئے اینٹی پیپر لیک قانون میں مجوزہ ترمیمی بل پر مؤقف بھی شامل ہے، پیر کی صبح پارلیمنٹ میں راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے کے چیمبر میں ہونے والی میٹنگ میں طے کی جائے گی۔اس ضمن میں راہل گاندھی  پہلے ہی وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھ کر پوچھ چکے ہیں کہ لاٹھی چارج کی اجازت کس نے دی تھی ۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے خط شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ راہل گاندھی نے امیت شاہ سے ۲؍اہم سوال پوچھے ہیںکہ’’کیا وزیر داخلہ کی حیثیت سے آپ نے طلبہ کے خلاف پیلٹ گن سمیت ہلاکت خیز طاقت کے استعمال کی منظوری دی تھی؟ اگر نہیں، تو یہ اجازت کس نے دی؟ جو افراد سادہ لباس میں طلبہ کو لاٹھیوں سے مارتے ہوئے نظر آئے، وہ پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ اور ان کی تعیناتی کی منظوری کس نے دی تھی؟‘‘

رمیش نے کہا کہ وزیر داخلہ کو پیر کو پارلیمنٹ میں ان اہم سوالات کا جواب دینا چاہیے اور وزیر اعظم کو طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔کانگریس نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طلبہ کی فتح قرار دیا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو بھی طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔

’’وزیراعظم کو معافی مانگنی ہوگی‘‘

ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ اب نریندر مودی کی باری ہے کہ وہ معافی مانگیں اور احتجاجی طلبہ پر لاٹھیاں، ڈنڈے اور پیلٹ گن استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔جے رام رمیش نے کہاکہ’’یہ اختتام نہیں ہے۔ ہمیں اب بھی وزیر اعظم کی جانب سے طلبہ سے معافی کا انتظار ہے۔‘‘ 

پیپر لیک کیخلاف قانون کا مسودہ پیش ہوگا

اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تعطل ختم ہوتا ہے اور پارلیمنٹ کی کارروائی چلتی ہے تو  دونوں ایوانوں میں پیپر لیک معاملے پر ہی گرما گرم بحث متوقع ہے۔ حکومت عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل۲۰۲۶ء کو لوک سبھا میں پیش کریگی ۔بل میں پیپر لیک یا امتحانات میں ناجائز ذرائع استعمال کرنے والوں کے لیے کم از کم ۵؍سال اور زیادہ سے زیادہ ۱۰؍ سال قید کے ساتھ۵۰؍ لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز ہے۔منظم جرائم کے معاملات میں کم از کم ۷؍سال قید اور۱۰؍کروڑ روپے تک جرمانےکا التزام نئے قانون میں شامل کیاگیاہے۔ 

امیت شاہ کو راہل کا خط،۲؍ اہم سوال

۱۔ کیا وزیر داخلہ کی حیثیت سے آپ نے طلبہ کے خلاف پیلٹ گن  اور  ہلاکت آمیز طاقت کے استعمال کی منظوری دی تھی؟ اگر نہیں، تو کس نے دی؟

۲۔ سادہ لباس میں لاٹھیوں سے طلبہ کو مارتے ہوئے جو افراد نظر آئے، وہ پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ ان کی تعیناتی کی منظوری کس نے دی؟

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے  طلبہ پر لاٹھی چارج کیلئے مرکزی وزیر داخلہ امیت  شاہ کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے انہیں خط لکھ کر   دہلی پولیس  کے مظالم کا جواب مانگا ہے۔  انہوں نے لکھا ہےکہ’’ہمارے طلبہ  منصفانہ اور جوابدہ تعلیمی نظام کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کی بات سننے کے بجائے سیکوریٹی فورسیز نے ان پر اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا، جس میں مہلک ہتھیار اور آنسو گیس بھی شامل تھے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’سیکڑوں افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور  خاتون طالبات پر مرد  پولیس اہلکاروں نے تشدد کیا  یہاں تک کہ جان بوجھ کر ان کے جسم کے مخصوص حصوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا، "سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات پیلٹ گن کا استعمال تھا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی رپورٹس موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک صحافی سمیت متعدد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔‘‘ امیت شاہ کو راہل گاندھی نے یاد دہانی کرائی ہے کہ ’’پرامن احتجاج کسی بھی جمہوریت کی کلید ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظاہرین کا تحفظ کرے اور بات چیت کے ذریعے ان کے مسائل کا حل نکالے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK