Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے

Updated: May 19, 2026, 1:02 PM IST | New Delhi

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے چار دن کے اندر دوسری بار پیٹرول اور ڈیزل کے قیمتیں بڑھائے جانے کے حکومت کے فیصلے پر حیرانی ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس بارے میں عوام کو جواب دینا چاہیے۔

kharge.Photo:INN
کھرگے۔ تصویر:آئی این این

 کانگریس صدر ملکارجن کھرگے  نے چار دن کے اندر دوسری بار پیٹرول اور ڈیزل کے قیمتیں  بڑھائے جانے کے حکومت کے فیصلے پر حیرانی ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس بارے میں عوام کو جواب دینا چاہیے۔
کھرگے نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ حکومت نے آج صبح اچانک پھر پیٹرول اور ڈیزل کے قیمتیں بڑھا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب واضح ہو گیا ہے کہ ہندوستان بحران میں ہے اور مودی کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ کانگریس صدر نے تیل کے دام چار دن میں دوسری بار بڑھانے کے فیصلے کو حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ بتایا اور کہا کہ مودی حکومت ناکامیوں کا بوجھ عوام کے سر پر ڈال رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود تیل کمپنیوں کو روزانہ۷۵۰؍ کروڑ کا نقصان


انہوں نے کہا کہ دام بڑھے چار ہی دن ہوئے کہ مودی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کے دام پھر بڑھا دیے۔ پوری تمہید باندھ کر، بچت کی نصیحت کرکے اپنی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا کام جاری ہے۔ کانگریس صدر نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں کی لوٹ اور صنعت کار گوتم اڈانی کو امریکہ سے چھوٹ ، یہی مودی جی کا کمپرومائزڈ ماڈل  ہے۔ وزیر اعظم نے امریکہ سے ہاتھ پیر جوڑ کر روسی تیل خریدنے کی اجازت کی مدت ایک مہینے کے لیے بڑھوائی ہے اور اس سے ہندوستان کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے مطابق روسی تیل خریدنے کی اجازت مل گئی ہے، تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا بوجھ عام لوگوں  پر کیوں ڈالا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:امیشا پٹیل نے کہا کہ ہندوستان میں اداکاروں کو اپنے ہی لوگ بری طرح ٹرول کرتے ہیں


کھرگے نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں دوراندیشی اور قیادت کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے وقت حکومت انتخابات میں مصروف رہی اور بعد میں `چکنی چپڑی باتیں کر کے لوٹ کا پلان بنایا گیا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ صرف بیرون ملک میں اسپانسر شدہ تعلقات عامہ کی سرگرمیاں کرنے سے کوئی وشو گرو نہیں بن جاتا، عوام کے تئیں جوابدہی بھی یقینی بنانی پڑتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے ہندوستان کے سامنے موجود سوالوں کا جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کیا کر رہی ہے، یہ ہندوستان کو بتایا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK