Inquilab Logo Happiest Places to Work

مونٹ سینٹ مشیل جزیرہ، فرانس: دن بھر میں دو مرتبہ دنیا سے علاحدہ ہوجاتا ہے

Updated: April 24, 2026, 3:04 PM IST | Normandy

فرانس کا Mont-Saint-Michel روزانہ دو بار بھرتی کے باعث زمین سے مکمل طور پر علاحدہ ہوجاتا ہے۔ ۱۴؍ سے ۱۵؍ میٹر تک بلند لہروں اور چاند کی کشش کے زیرِ اثر چلنے والا یہ قدرتی نظام صدیوں سے جاری ہے، جس نے اسے تاریخی، دفاعی اور سیاحتی لحاظ سے منفرد بنا دیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فرانس کے علاقے Normandy میں واقع مشہور جزیرہ Mont-Saint-Michel آج بھی اپنے منفرد قدرتی مظہر کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہے، جہاں سمندر کی لہریں روزانہ دو بار اسے سرزمین سے الگ کر دیتی ہیں۔ یہ جزیرہ ایک ایسی خلیج میں واقع ہے جہاں یورپ کی بلند ترین لہریں دیکھی جاتی ہیں۔ مد و جزر کے درمیان پانی کی سطح ۱۴؍ سے ۱۵؍ میٹر تک بڑھ سکتی ہے۔ جب پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو سمندر کئی کلومیٹر پیچھے ہٹ جاتا ہے، جس سے ایک وسیع ریتیلا میدان ظاہر ہوتا ہے اور لوگ باآسانی پل کے ذریعے جزیرے تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، چند ہی گھنٹوں میں منظر مکمل طور پر بدل جاتا ہے۔ جیسے ہی سطح آب بڑھنے لگتا ہے، پانی آہستہ آہستہ راستے کو ڈھانپ لیتا ہے، یہاں تک کہ جزیرہ مکمل طور پر پانی میں گھِر جاتا ہے اور عارضی طور پر دنیا سے علاحدہ ہو جاتا ہے۔ یہ چکر تقریباً ہر ۱۲؍ گھنٹے ۲۵؍ منٹ میں دو بار ہوتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ فلوٹیلا کا اعلان: راستے میں ملنے والے ہتھیار بردار اسرائیلی جہاز روکے گا

تاریخی طور پر، Mont-Saint-Michel کی بنیاد ۷۰۸ء میں رکھی گئی تھی، جب یہاں ایک چھوٹا مذہبی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا۔ وقت کے ساتھ یہ ایک عظیم خانقاہ میں تبدیل ہو گیا اور قرونِ وسطیٰ میں ایک اہم زیارت گاہ بن گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جوار کا یہی نظام اس کی قدرتی حفاظت بھی بن گیا۔ صد سالہ جنگ کے دوران، اس جزیرے نے کئی حملوں کو ناکام بنایا کیونکہ اس تک رسائی ہمیشہ آسان نہیں تھی، کبھی راستہ کھلا، کبھی کیچڑ سے بھرا، اور کبھی مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوتا تھا۔ ۱۹؍ ویں صدی میں ایک مستقل کاز وے (پختہ راستہ) بنایا گیا جس نے جزیرے کو مسلسل سرزمین سے جوڑ دیا، لیکن اس سے قدرتی پانی کا بہاؤ متاثر ہوا اور ارد گرد ریت جمع ہونے لگی۔

یہ بھی پڑھئے: این بی سی پول: امریکی جین زی میں فلسطینیوں کے لیے زبردست ہمدردی

بعد ازاں، ۲۱؍ ویں صدی میں ایک نیا پل تعمیر کیا گیا تاکہ پانی دوبارہ آزادانہ بہہ سکے اور جزیرے کا اصل سمندری کردار بحال ہو سکے۔ اس اقدام نے نہ صرف ماحولیاتی توازن بہتر کیا بلکہ اس تاریخی مقام کی اصل شناخت کو بھی زندہ رکھا۔ آج بھی مونٹ سینٹ مشیل اسی قدرتی تال کے ساتھ زندہ ہے، کچھ گھنٹوں کے لیے یہ سرزمین کا حصہ محسوس ہوتا ہے، اور پھر سمندر اسے دوبارہ ایک تنہا جزیرے میں تبدیل کر دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK