مہاراشٹر مندر مہاسنگھ نے وزیراعلیٰ سے شکایت کی کہ منڈے کارروائی کے نام پر مندروں سے تعصب برت رہے۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 12:37 PM IST | Ali Imran | Nagpur
مہاراشٹر مندر مہاسنگھ نے وزیراعلیٰ سے شکایت کی کہ منڈے کارروائی کے نام پر مندروں سے تعصب برت رہے۔
ریاست میں فوڈ اینڈ ڈرگس ڈپارٹمنٹ کے کمشنر تکارام منڈے جہاں ایک طرف اشیاء خوردنوش تیار کرنے والی کمپنیوں، ہوٹلوں، گٹکھا اور تمباکو مصنوعات تیار و فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہیں دوسری طرف ایف ڈی اے مندروں کے احاطے میں واقع پیڑا اور پرساد بیچنے والی دکانوں پر بھی کارروائیاں کررہی ہے۔ حال ہی میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے بلڈانہ ضلع کے شیگاؤں میں سنت گجانن مہاراج مندر کے آس پاس کھلے میں فروخت کیے جانے والے پرساد اور پیڑا فروشوں کے خلاف چھاپہ مار کر کارروائی کی۔ یہی نہیں ایف ڈی نے مندروں سے تقسیم ہونے والے ’مہا پرسادم‘ کی بھی جانچ کی۔ اس کے علاوہ ایف ڈی اے نےگنیش اُتسو اور نوراتری کے پیش نظر بھی فوڈ سیفٹی سے متعلق کچھ ہدایات جاری کی ہیں۔ تاہم ان کارروائیوں اور فرمان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مہاراشٹر مندر مہا سنگھ اور مختلف مندروں کے ٹرسٹیوں نے الزام لگایا ہے کہ فوڈ سیکورٹی کے نام پر ہندو مذہبی پروگراموں کے دوران منعقد ہونے والے مہا پرسادم، لنگر اور کھانے کے عطیات پر یکطرفہ پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’اراکین پارلیمان کیلئے کثیر منزلہ عمارتیں اورطلبہ بے گھر‘‘
ضلع کلکٹر کے توسط سے وزیر اعلیٰ کو دی گئی تحریری شکایت میں مندر مہاسنگھ نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوڈ سیفٹی رولز گرچہ ضروری ہیں لیکن انہیں مذہب، فرقہ یا تہوار کی تفریق کے بغیر سب کے لئے یکساں طور پر لاگو کیا جانا چاہیے۔ مندر مہاسنگھ اور شہر کے مختلف مندر کے ٹرسٹیوں کے ایک وفد نے پیر کو ضلع کلکٹر کمار آشیرواد سے ملاقات کی۔ مہا سنگھ نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو محفوظ اور معیاری خوراک ملنا ضروری ہے اور فوڈ سیفٹی رولز پر عمل کیا جانا چاہیے، وہ اس کی مخالفت نہیں کرتی۔ تاہم، مہاسنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان ہدایات میں ہندو مذہبی پروگراموں میں’ مہا پرساد‘،’ بھنڈارا ‘اور’انّادان‘ کا خاص طور پر ذکر ہے اور لائسنس، رجسٹریشن اور کارروائی کی تنبیہ کی گئی ہے۔ فوڈ سیفٹی رولز کو نافذ کرتے ہوئے کسی ایک مذہب کے تہواروں اور تقریبات کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برسلز میں بے گھر افراد کی تعداد میں مزید ۲۵؍ فیصد اضافے کا خدشہ
تحریری شکایت میں اور کیا کہا گیا؟
شکایت گزاروں کا کہنا ہے کہ قانون کا نفاذ سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ مہا پرساد اور لنگر جو مندروں میں عقیدت مندوں کے عطیہ کے ذریعے منعقد کیے جاتے ہیں، مذہبی اور سماجی روایات کا حصہ ہیں۔ لہٰذا مطالبہ کیا گیا کہ اشیائے خوردونوش کی فروخت کا معیار لگا کر ان پر غیر ضروری انتظامی پابندیاں نہ لگائی جائیں۔ وزیر اعلی کو دیئے گئے مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ فوڈ سیفٹی کے نام پر ان مخیرانہ سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔