Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوازالدین صدیقی نے اپنی محنت اور لگن سے اعلیٰ مقام حاصل کیا

Updated: May 19, 2026, 10:00 AM IST | Agency | Mumbai

نوازالدین صدیقی ہندوستانی سنیما کے اُن اداکاروں میں شمار کئےجاتے ہیں جنہوں نے اپنی محنت، صبر اور غیر معمولی اداکاری کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ کامیابی کیلئے صرف خوبصورت چہرہ یا فلمی خاندان سے تعلق ضروری نہیں ہوتا۔

Nawazuddin Siddiqui Has Played A Variety Of Roles.Photo;INN
نوازالدین صدیقی نے کئی طرح کے رول نبھائے۔تصویر:آئی این این
نوازالدین صدیقی ہندوستانی سنیما کے اُن اداکاروں میں شمار کئےجاتے ہیں جنہوں نے اپنی محنت، صبر اور غیر معمولی اداکاری کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ کامیابی کیلئے صرف خوبصورت چہرہ یا فلمی خاندان سے تعلق ضروری نہیں ہوتا بلکہ اصل طاقت فن، لگن اور مسلسل جدوجہدمیں پوشیدہ ہوتی ہے۔ وہ اُن فنکاروں میں شامل ہیں جنہوں نےسنیما میں ’ہیرو‘ کے روایتی تصور کو چیلنج کیا اور اپنی منفرد اداکاری سے ایک الگ مقام حاصل کیا۔
 
 
نوازالدین صدیقی ۱۹؍مئی۱۹۷۴ءکو اترپردیش کے ضلع ’بڑھانا‘میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک متوسط اور زمیندار گھرانے سےتھا۔ ان کے خاندان میں زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی سے وابستہ تھے۔ ۸؍بہن بھائیوں والے اس گھر میں وسائل محدود تھے، مگر خواب وسیع تھے۔ بچپن دیہی ماحول میں گزرا جہاں سادگی، محنت اور زندگی کی تلخ حقیقتیں بہت قریب سے دیکھنے کو ملیں۔ یہی تجربات بعد میں ان کی اداکاری میں حقیقت پسندی کی شکل میں جھلکتے نظر آئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نےسائنس میں گریجویشن کیا اور کچھ عرصہ گجرات میں ایک کیمسٹ کے طور پر بھی کام کیا۔ مگر دل کہیں اور اٹکا ہواتھا۔ اندر ہی اندر اداکاری کی دنیا انہیں اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ اسی کشش نے انہیں دہلی پہنچایا جہاں انہوں نے تھیٹر کی دنیا میںقدم رکھا۔ دہلی میں انہوں نے کئی چھوٹے موٹے کام کئے، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ چوکیداری تک کرنےپر مجبورہوگئے۔ زندگی آسان نہیں تھی، مگر ان کے ارادے کمزور نہیں پڑے۔
 
 
بعد میں انہوں نے نیشنل اسکول آف ڈرامامیں داخلہ لیا۔ یہی وہ مرحلہ تھاجہاں ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو نکھرنے کا موقع ملا۔ تھیٹر نے انہیں اداکاری کی باریکیوں سے روشناس کرایا۔ مکالمے کی ادائیگی، چہرے کے تاثرات، خاموشی کا استعمال اور کردار کے اندر اتر جانے کا ہنر انہوں نے اسی دور میں سیکھا۔ممبئی پہنچنے کے بعد ان کی جدوجہد کا اصل امتحان شروع ہوا۔ فلمی دنیا میں انہیں مسلسل مسترد کیا جاتارہا۔ کئی مرتبہ انہیں یہ کہہ کر واپس کردیا جاتا کہ ان کا چہرہ ہیرو جیسا نہیں ہے۔ کچھ فلموں میں انہیں چند سیکنڈ کے معمولی کردار ملے۔ سرفروش اور شول جیسی فلموں میں وہ مختصر کرداروں میں دکھائی دیے، مگر اس وقت شاید ہی کسی نےسوچا ہوگا کہ یہی شخص ایک دن ہندوستانی سنیما کا بڑا اداکار بن جائے گا۔ان کی زندگی میں اصل تبدیلی بلیک فرائی ڈے سے آئی۔اس کے بعد گینگز آف واسع پورنے تو گویا ان کی قسمت بدل دی۔ دی لنچ باکس،بدلاپور، مانجھی: دی مائونٹین مین،رمن راگھو اورمنٹو جیسی فلموں میں انہوں نے ایسے کردار ادا کئےجنہیں آسانی سے بھلایا نہیں جاسکتا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سلمان خان کی ’کِک‘،’بجرنگی بھائی جان‘،عامر کی ’تلاش‘ میں بھی انہوںنے اہم کردار ادا کئے۔ انہوں نے صرف فلموں ہی میں نہیں بلکہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر بھی اپنی زبردست موجودگی درج کرائی۔ سیکرڈگیمزنےانہیں عالمی سطح پر نئی پہچان دی۔ ان کا اندازِ گفتگو، مکالمے اور کردار کی پیچیدگی ناظرین کو بے حد پسند آئی۔انہیں متعدد اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ نیشنل ایوارڈز سے لےکر آئیفا، فلم فیئرایوارڈ اوربین الاقوامی فلمی میلوں تک، ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ روایتی ہیرو کے بجائے ایسے کرداروںکو ترجیح دی جو سماج کے حقیقی چہروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK