اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ’’ایران پر دبائو ڈالنے کی مل کر کوشش کریں گے۔‘‘
EPAPER
Updated: April 26, 2026, 10:02 AM IST | Mumbai
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ’’ایران پر دبائو ڈالنے کی مل کر کوشش کریں گے۔‘‘
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یا ہو نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک بہترین ٹیلی فون کال کی ہے۔انہوں نے ایک ویڈیو خطاب میں یہ بھی کہا کہ ہم تہران پر دباؤ ڈالنے کیلئے ٹرمپ کے ساتھ مکمل تعاون سے کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سفارتی کوششیں تیز ،ایرانی وزیر خارجہ کی شہباز شریف اور عاصم منیر سے ملاقات
بیروت کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے بعد اپنے پہلے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ہم نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک تاریخی امن تک پہنچنے کا راستہ شروع کر دیا ہے اور یہ ہمارے لئے واضح ہے کہ حزب اللہ اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے جمعرات کو واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکراتی سیشن کے بعد جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا تھا لیکن حزب اللہ نے پارلیمنٹ میں اپنے رکن علی فیاض کے ذریعے یہ موقف اختیار کیا کہ جاری جارحانہ کارروائیوں کے پیش نظر اس توسیع کا کوئی مطلب نہیں ہے۔علی فیاض نے ایک بیان میں مزید کہا کہ کسی بھی لبنانی ہدف کے خلاف ہر اسرائیلی جارحیت، اس کی نوعیت کچھ بھی ہو، ہمیں متناسب جواب دینے کا حق دیتی ہے۔ دریں اثنا لبنانی وزارت صحت نے بتایا کہ جمعہ کو جنوبی لبنان کے قصبے تولین پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سزائے موت پر پابندی ختم، پوپ لیو نے مذمت کی
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے تعلق سے مذاکرات کی کوشش ہو رہی ہے حالانکہ یہ جنگ اسرائیل نے شروع کی تھی اور نیتن یاہو اب بھی جنگ بندی کے حق میں نظر نہیں آ رہے ہیں۔