Updated: February 26, 2026, 3:57 PM IST
| Colombo
انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان جمعہ کی رات آر پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا سپر ایٹ مرحلے کا مقابلہ انتہائی دلچسپ ہونے کی توقع ہے۔ جہاں انگلینڈ کی ٹیم سیمی فائنل میں جگہ یقینی بنانے کے بعد اپنی جیت کی لے برقرار رکھنے کے لیے پرسکون ہو کر میدان میں اترے گی۔
انگلینڈ کی ٹیم۔ تصویر:پی ٹی آئی
انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان جمعہ کی رات آر پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا سپر ایٹ مرحلے کا مقابلہ انتہائی دلچسپ ہونے کی توقع ہے۔ جہاں انگلینڈ کی ٹیم سیمی فائنل میں جگہ یقینی بنانے کے بعد اپنی جیت کی لے برقرار رکھنے کے لیے پرسکون ہو کر میدان میں اترے گی، وہیں نیوزی لینڈ کے لیے یہ مقابلہ کسی امتحان سے کم نہیں ہوگا کیونکہ ٹورنامنٹ میں ان کی بقا کا دارومدار صرف جیت اور رن ریٹ کی ریاضی پر منحصر ہے۔
انگلینڈ اس میچ میں اس خود اعتمادی کے ساتھ اترے گا جیسے اسے پہلے ہی سیمی فائنل کی مہک آ رہی ہو۔ انہوں نے سخت محنت کی ہے، آگے کا ٹکٹ بک کر لیا ہے، اور اب تھوڑی آزادی سے کھیل سکتے ہیں - بالکل ویسے ہی جیسے کوئی بّلے باز اپنا اسکور ۱۰۰؍ رنز مکمل کرنے کے بعد بے خوف ہو کر شاندار اسٹروک کھیلنا شروع کر دیتا ہے۔ انگلش کیمپ کو امید ہوگی کہ بڑے مقابلوں سے پہلے وہ اس میچ کو ایک آخری مشق کے طور پر استعمال کرے اور اپنے سینئر اسٹارز سے بّلے بازی میں تسلسل برقرار رکھوائے۔
تاہم، نیوزی لینڈ یہ میچ ایک ایسی ٹیم کی طرح کھیلے گا جس کی کمر دیوار سے لگی ہو لیکن دل اب بھی لڑائی میں پوری طرح لگا ہو۔ ان کے کوالیفکیشن کی مساوات نتائج اور نیٹ رن ریٹ کی ریاضی پر منحصر ہے۔ ایک جیت انہیں پورے اعتماد کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچا دے گی؛ لیکن، ہار انہیں کولمبو کے آسمان پر چھانے والے بارش کے بادلوں کی طرح دوسرے نتائج کا انتظار کرنے پر بے چین کر سکتی ہے۔
انگلینڈ کی بّلے بازی کا محور ایک بار پھر کپتان ہیری بروک ہوں گے۔ بروک پہلے ہی دکھا چکے ہیں کہ وہ پلک جھپکتے ہی ایک جارحانہ کھلاڑی بن سکتے ہیں، خاص طور پر ٹورنامنٹ کے آغاز میں جب انگلینڈ کا ٹاپ آرڈر لڑکھڑا رہا تھا، تب انہوں نے ۵۰؍ گیندوں میں سنچری بنائی تھی۔ انگلینڈ کے لیے واحد تشویش ٹاپ آرڈر میں تسلسل ہے - وہ ایسی شروعات چاہتے ہیں جو صرف شاندار نہ ہو بلکہ ٹھوس بھی ہو۔
انگلینڈ سے توقع ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح وائٹ بال کرکٹ کھیلے گا، پاور پلے میں جارحانہ، درمیانی اوورز میں کلینیکل، اور پھر آخری پانچ میں دھماکہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ گیند بازی کے شعبے میں بھی کچھ تبدیلی ہو سکتی ہے کیونکہ مینجمنٹ کی نظریں ناک آؤٹ مرحلے پر ہیں۔
راچن رویندر کی ہمہ جہت کارکردگی سے نیوزی لینڈ کی امیدیں کافی بڑھ گئی ہیں۔ وہ ان کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جن کا اعتماد دباؤ بڑھنے پر مزید بڑھ جاتا ہے۔ جب وکٹیں گریں، تو رویندرنے بّلے بازی سے استحکام دیا اور پھر گیند کو اثر دار طریقے سے گھما کر ضروری بریک تھرو دلائے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنے مڈل آرڈر کی مضبوطی کی وجہ سے خاص طور پر نمایاں رہی ہے۔ جب وہ مشکل میں پڑے، تو گھبرائے نہیں - انہوں نے بس شراکت داریاں بنائیں، اسکور بورڈ کو آگے بڑھایا، اور مومینٹم کے اپنے حق میں آنے کا انتظار کیا۔
پریماداسا کے حالات میں ایک اچھا کرکٹ مقابلہ ہونا چاہیے۔ اس گراؤنڈ پر اب تک ہوئے ۵۵؍ سے زیادہ ٹی ۲۰؍ انٹرنیشنل میچوں میں سے، ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیموں نے۲۹؍ میچ جیتے ہیں، جبکہ پہلے بّلے بازی کرنے والی ٹیموں نے ۲۴؍ جیتے ہیں۔ پہلی اننگز کا اوسط اسکور تقریباً ۱۴۴؍رن ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ۱۶۰؍سے اوپر کا کوئی بھی اسکور حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:چیٹ جی پی ٹی صحت سے جڑے سنگین معاملات میں ہنگامی حوالہ جات سے محروم ہے؛ احتیاط کرنا ضروری: تحقیق
موسم کی پیش گوئی کے مطابق، کرکٹ کے لیے یہ ایک خوبصورت شام ہوگی، جس میں درجہ حرارت ۲۸؍ ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہے گا، نمی تقریباً ۷۵؍ فیصد ہوگی اور بارش کا خطرہ بہت کم ہے۔ ایسے حالات میں، بّلے باز اپنے شاٹس کھیل سکتے ہیں، لیکن جو گیند باز مسلسل اپنی لینتھ پر ہٹ کریں گے، وہ حاوی رہ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رشمیکا مندانا اور وجے دیورا کونڈا شادی کے بندھن میں بندھ گئے
حکمت عملی کے لحاظ سے، گیم میں تین جانے پہچانے ابواب ہونے چاہئیں - زبردست پاور پلے بّلے بازی، درمیانی اوورز میں ڈسپلن کے ساتھ اسپن گیند بازی، اور ڈیتھ اوورز میں بھرپور ہٹنگ۔ انگلینڈ جارحانہ کرکٹ پسند کرتا ہے، جبکہ نیوزی لینڈ اپنا آخری حملہ شروع کرنے سے پہلے نپے تلے انداز میں اننگز کی بنیاد کو ترجیح دیتا ہے۔ مجموعی طور پر، دو بہترین ٹیموں کے درمیان ایک سخت مقابلے کی توقع ہے ۔