مرحومہ نے اپنے ۳۳؍سالہ تدریسی خدمات کےدوران ہزاروں طالبات کو بڑی محنت سے پڑھایا، ان سے پڑھی ہوئی ہزاروں طالبات انہیں مثالی ٹیچر مانتی ہیں۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 4:15 PM IST | Mumbai
مرحومہ نے اپنے ۳۳؍سالہ تدریسی خدمات کےدوران ہزاروں طالبات کو بڑی محنت سے پڑھایا، ان سے پڑھی ہوئی ہزاروں طالبات انہیں مثالی ٹیچر مانتی ہیں۔
انجمن اسلام گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج باندرہ کی سابقہ کارگزار پرنسپل ریحانہ ریاض الدین خطیب کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا ۔ ان کی عمر ۷۴؍ سال تھی۔ پسماندگان میں ۲؍بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ۔ ان کی تدفین بدھ کو جوگیشوری کے اوشیوارہ قبرستان میں ہوئی ۔
مرحومہ ریحانہ خطیب ذیابیطس اور بلڈ پریشر کےمرض میں مبتلا تھیں۔ ان امراض سے آنے والی کمزوری کےسبب گزشتہ ۲؍ ڈھائی سال سے صاحب فراش تھیں ۔دو تین مہینوں سے طبیعت زیادہ خراب تھی۔انہوںنے منگل کی شام ۵؍بجے اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی ۔ عزیز و اقارب اور تدریسی شعبے سےتعلق رکھنے والوںکی موجودگی میں انہیں سپر د خاک کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ۳۴؍ فیصد ویٹ لیز بسوں میں اسٹیئرنگ اور بریک کی خامیاں پائی گئیں: رپورٹ
ریحانہ خطیب کا تعلق اورنگ آباد (مہاراشٹر) سے تھا ۔ انہوں نے اپنی پوری تعلیم اورنگ آباد سے مکمل کی تھی ۔ وہ شادی کے بعد ۱۹۷۶ء میں اورنگ آباد سے ممبئی منتقل ہوئی تھیں۔ انہوں نے ۱۹۷۶ء میں بحیثیت معلمہ انجمن اسلام باندرہ گرلز ہائی اسکول جوائن کیا تھااور ۲۰۰۹ء میں اسی ادارہ سےبطور کارگزار پرنسپل سبکدوش ہوئی تھیں ۔ اپنے ۳۳؍سالہ تدریسی خدمات کے دوارن انہوں نے بڑی محنت سے طالبات کی تعلیم و تربیت کافریضہ انجام دیا ۔ اسکول ھٰذا کی ہزاروں طالبات ، جو اُن کے دور میں پڑھ رہی تھیں، اُنہیں اپنا مثالی ٹیچر مانتی ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: تیز رفتار کار نے تین موٹر سائیکل کو ٹکر ماری، ایک جاں بحق، ۲؍شدید زخمی
مرحومہ ایک معروف معلمہ کے علاوہ بہتر ین ادیبہ اور مقرر تھیں۔ ۱۹۷۵ءمیں مراٹھواڑہ یونیورسٹی سے جرنلزم کاکورس بھی کیا تھا۔اورنگ آبا د سے شائع ہونے والے اخبار ’آج ‘ کے بچوں کے صفحے کیلئے لکھا بھی کرتی تھیں ۔ علاوہ ازیں ۲۰۰۹ء سے روزنامہ انقلاب کے معروف اوڑھنی صفحےکیلئے بھی کافی عرصہ تک لکھتی رہیں ۔انہوں نے اوڑھنی میں شائع ہونے والے اپنے مضامین کو اپنی کتاب ’عکس زندگی ‘ میں بھی شامل کیا تھا ۔انقلاب کے علاوہ دیگر رسالوں میں بھی ان کے افسانے شائع ہوتے رہےہیں ۔ ان کے چھوٹے بھائی پرویز قاضی نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ میری بڑی بہن متعدد خوبیوں کی مالک تھیں ۔ تدریسی خدمات کے علاوہ علم و ادب سے انہیں شغف تھا ۔ وہ متعدد ادبی انجمنوں سے وابستہ تھیں ۔ انہیں اُردو مضامین اور افسانے لکھنے کابڑا شوق تھا ۔ وہ ایک بہترین اور اچھی مقرر تھیں ۔ان کی موت ہمارےاہل خانہ کیلئے بڑانقصان ہے۔‘‘