Inquilab Logo Happiest Places to Work

نائٹ کلب تنازع: شرابی کلچر نے بین اسٹوکس کی کپتانی خطرے میں ڈال دی

Updated: June 09, 2026, 8:09 PM IST | London

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس کا مستقبل ایک بار پھر سنگین بحران کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ کرکٹ حکام نے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

Ben Stokes.Photo:INN
بین اسٹوکس۔ تصویر:آئی این این

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس کا مستقبل ایک بار پھر سنگین بحران کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ کرکٹ حکام نے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں انگلینڈ کے مشہور کلب ساراسینز کا ایک رگبی کھلاڑی بھی ملوث تھا۔
لارڈز کے تاریخی میدان پر نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شاندار فتح کے چند گھنٹوں بعد ہی، پیر کی علی الصباح بین اسٹوکس اور ان کے ساتھی فاسٹ بولر گس اٹکنسن نے ٹیم پروٹوکول اور قوانین کی خلاف ورزی کی، جس پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے انکوائری بٹھا دی ہے۔انگلش ٹیم کے لیے یہ تازہ ترین تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں سال جنوری میں ختم ہونے والے ایشیز سیریز کے آسٹریلیا دورے پر بھی ٹیم کو شرابی کلچر اور نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں انگلینڈ کو۱۔۴؍ سے شرمناک شکست ہوئی تھی۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی۔ای سی بی نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے اختتام کے بعد ٹیم پروٹوکولز کی خلاف ورزی کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ بین اسٹوکس اور گس اٹکنسن پیر کی علی الصباح ایک نائٹ کلب میں موجود تھے جہاں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ ہم مزید معلومات جمع کر رہے ہیں  اور اوول میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے اسکواڈ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق، اس نائٹ کلب میں ساراسینز رگبی کلب کے کھلاڑی بھی موجود تھے جو سیزن کے اختتام کی پارٹی منا رہے تھے۔ رگبی کلب نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ ان کا ایک اکیڈمی کھلاڑی اس واقعہ میں ملوث تھا اور وہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔اگر ای سی بی بین اسٹوکس کو کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ کرتا ہے، تو اگلے ہفتے لندن کے دی اوول گراؤنڈ پر شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں وائٹ بال (محدود اوورز) کے کپتان ہیری بروک کو ٹیم کی قیادت سونپی جا سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیری بروک خود بھی ماضی میں ایسے ہی تنازعات کا شکار رہ چکے ہیں۔ پچھلے سال اکتوبر میں ویلنگٹن (نیوزی لینڈ) کے ایک نائٹ کلب کے باؤنسر سے جھگڑے اور دیر رات تک پارٹی کرنے پر ان پر جرمانہ اور سرزنش کی گئی تھی، جس کے بعد ٹیم پر رات ۱۲؍ بجے کا کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کے موشن پوسٹر میں تقسیم کے درد کو دکھایا گیا


اتوار کے روز انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو چوتھے دن لنچ سے قبل ۱۱۵؍ رنز سے شکست دے کر سیریز میں  ۰۔۱؍ گول کی برتری حاصل کی تھی۔ اس میچ میں گس اٹکنسن نے دوسری اننگز میں ۳۰؍ رنز دے کر ۵؍ وکٹ حاصل کی تھیں۔میچ جیتنے کے بعد پریس کانفرنس میں اپنی ۳۵؍ ویں سالگرہ منانے والے بین اسٹوکس نے کہا تھا میں جھوٹ نہیں بولوں گا، میں اس جیت سے بہت خوش ہوں اور اب میں لڑکوں (ٹیم ممبرز) کے ساتھ بیٹھ کر بیئر شیئر کرنے کا منتظر ہوں۔ لیکن ان کا یہ جشن چند ہی گھنٹوں بعد ایک بڑی مصیبت میں بدل گیا۔

یہ بھی پڑھئے:کیا امریکہ اب بھی عظیم ہے؟ ایک چوتھائی شہریوں نے اسے دنیا کا بہترین ملک قرار دیا


بین اسٹوکس کے لیے نائٹ کلب کے تنازعات نئے نہیں ہیں۔ اس سے قبل ۲۰۱۷ء میں برسٹل کے ایک نائٹ کلب کے باہر مارپیٹ کے واقعہ کے بعد ان پر غنڈہ گردی اور نقصِ امن کا مقدمہ چلا تھا، جس کی وجہ سے وہ۱۸/۲۰۱۷ء کی اہم ایشیز سیریز سے باہر ہو گئے تھے۔ اگرچہ اگست ۲۰۱۸ء میں عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا، لیکن اس تازہ واقعہ نے ان کی کپتانی اور مستقبل پر ایک بار پھر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK