Inquilab Logo Happiest Places to Work

نصرت بھروچا نے جانوروں پر ظلم کے خلاف آواز بلند کی

Updated: June 10, 2026, 2:02 PM IST | Mumbai

نصرت نے فلم ’’جانے تو یا جانے نہ‘‘ فیم اداکارہ منجری فڈنیس کی ایک جذباتی انسٹاگرام ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں ایک کمیونٹی ڈاگ مکی کی مبینہ ہلاکت کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Nushrat Bharucha.Photo:INN
نصرت بھروچا۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ اداکارہ نصرت بھروچا نے جانوروں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے فلم ’’جانے تو یا جانے نہ‘‘ فیم اداکارہ منجری فڈنیس کی ایک جذباتی انسٹاگرام ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں ایک کمیونٹی ڈاگ مکی کی مبینہ ہلاکت کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ویڈیو کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ری پوسٹ کرتے ہوئے نصرت نے اس واقعہ پر افسوس اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا’’یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے! یہ وہ دنیا نہیں ہو سکتی جس میں ہم رہیں! میرا دل ٹوٹ گیا ہے اور میں شدید غصے میں ہوں!‘‘

یہ بھی پڑھئے:تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے نے ہدایتکار بھارتی راجا کو خراج عقیدت پیش کیا


ویڈیو میں منجری فڈنیس نے بتایا کہ ان کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے افراد کئی دنوں سے مکی کی تلاش کر رہے تھے۔ اسے ڈھونڈنے کی امید میں پوسٹر لگائے گئے اورسیکوریٹی گارڈز سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ منجری نے مکی کو ایک ’بہت پیارا کتا‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ سوسائٹی کے ایک رہائشی نے اس پر سوتے ہوئے بے رحمانہ حملہ کرنے کا اعتراف کیا۔منجری کے مطابق مبینہ طور پر کتے کے سر پر لوہے کی راڈ سے وار کیا گیا، اسے گھسیٹا گیا اور مزید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اداکارہ نے اس واقعہ کو نہایت جذباتی انداز میں بیان کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور کمیونٹی جانور کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے:نائیجر کے صحرا میں ٹرک خراب ہونے کے بعد کم از کم ۴۹؍ افراد پیاس سے ہلاک


نصرت بھروچا کی جانب سے ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد جانوروں کی فلاح و بہبود اور آوارہ جانوروں کے خلاف تشدد کا مسئلہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین بھی ایسے واقعات میں سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ منجری کی اس اپیل کو شیئر کرکے نصرت نے ان آوازوں کی حمایت کی ہے جو جانوروں کے ساتھ ہمدردی، جوابدہی اور ان کے بہتر تحفظ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK