Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستانی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی، آسٹریلیا نے دوسرا ون ڈے جیتا

Updated: June 03, 2026, 6:04 PM IST | Lahore

آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میں پاکستان کو ۴۱؍ رنز سے ہرادیا، ۲۳۲؍ رنز کے ہدف کے جواب میں پاکستانی ٹیم ۱۹۰؍ رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔

Australiain Player.Photo:X
آسٹریلیا کا کھلاڑی۔ تصویر:ایکس

آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میں پاکستان کو ۴۱؍ رنز سے ہرادیا، ۲۳۲؍ رنز کے ہدف کے جواب میں  پاکستانی ٹیم ۱۹۰؍ رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔قذافی اسٹیڈیم لاہور میں آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف دوسرے ون ڈے میں مقررہ ۵۰؍ اوورز میں ۹؍ وکٹوں کے نقصان پر ۲۳۱؍ رنز بنائے۔ ۲۳۲؍ رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم شدید مشکلات کا شکار ہوگئی اور صرف ۵۸؍ رنز پر اپنی ۵؍ اہم وکٹیں گنوا بیٹھی، شاداب خان کی مزاحمت بھی ٹیم کو فتح نہیں دلواسکی۔ 
شاداب خان نے انتہائی مشکل حالات میں۱۰۴؍ گیندوں پر ۷۱؍ رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جس میں ایک چوکا اور ۳؍ چھکے شامل تھے۔ ان کی یہ اننگز ایسے وقت میں آئی جب پاکستان کی ابتدائی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام ہو چکی تھی اور ٹیم مسلسل دباؤ کا شکار تھی۔ 
پاکستانی اوپنرز صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت  نے اننگز کا آغاز کیا، لیکن اننگز کے پہلے ہی اوور میں آسٹریلیا کو بڑی کامیابی مل گئی، معاذ صداقت بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے، ان کے بعد بابر اعظم کریز پر آئے، دوسرے اوور میں صاحبزادہ فرحان بھی صرف ۳؍ رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ 
ابتدائی دو وکٹیں گرنے کے بعد بابر اعظم اور غازی غوری نے محتاط انداز میں اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ بابر اعظم نے ۱۶؍ رنز کی مختصر اننگز کھیلی جس میں دو چوکے شامل تھے، تاہم نیتھن ایلس کی ایک اندر آتی ہوئی گیند ان کے لیے مشکلات کا باعث بن گئی۔ بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد سلمان علی آغا کریز پر آئے، لیکن وہ بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے، اور ۷؍ رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے، جس کے بعد عبدالصمد بھی ۲؍رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ آسٹریلیا کے بولر نیتھن ایلس نے ۴؍ اور میتھیو شارٹ نے ۳؍ وکٹ حاصل کئے۔ اس سے قبل پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، آسٹریلوی ٹیم کو ایک مرحلے پر بڑا اسکور بنانے کی امید تھی، تاہم پاکستانی بولرز نے وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرکے مہمان ٹیم کو کُھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ اگرچہ آسٹریلیا کی جانب سے چند اہم شراکتیں قائم ہوئیں، لیکن پاکستانی بولنگ اٹیک مسلسل دباؤ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ 

یہ بھی پڑھئے:رنویـر سنگھ تنازع پر کنگنا نے کہا: جب حیثیت بڑھتی ہے تو دشمن بھی بڑھتے ہیں


آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن میں سب سے نمایاں کارکردگی جوش انگلس اور کیمرون گرین نے دکھائی، جنہوں نے نصف سنچریاں اسکور کیں، کیمرون گرین نے ۵۳؍رن، جوش انگلس نے ۵۱؍ رنز بنائے۔   کیمرون گرین نے مشکل وکٹ پر انتہائی محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی اننگز کو سنبھالا، جبکہ میٹ رینشا بھی اچھے فارم میں نظر آئے اور ٹیم کے مجموعے میں اہم رنز کا اضافہ کیا، میٹ رنشا نے ۴۳؍ اور اولیور پیکے نے ۳۲؍ گیندوں پر ۳۱؍ رنز بنائے، جس میں ایک چوکا اور دو چھکے شامل تھے۔ انہوں نے آخری اوور میں حارث رؤف کے خلاف ایک شاندار چھکا اور چوکا لگا کر اسکور کو ۲۳۰؍رن   کے پار پہنچایا۔ پاکستان کی جانب سے بولنگ میں عرفات منہاس ایک بار پھر متاثر کن ثابت ہوئے اور انہوں نے ۲۷؍ رنز دے کر ۲؍ وکٹیں حاصل کیں۔ ابرار احمد نے بھی نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے سے روکے رکھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں نافذ کیے جانے والے نئے قوانین کیا ہیں؟


فاسٹ بولرز میں شاہین شاہ آفریدی نے اختتامی اوورز میں عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ۳؍ اہم وکٹیں حاصل کیں، جن میں میتھیو کوہنی مین اور ناتھن ایلس کی وکٹیں بھی شامل تھیں۔ حارث رؤف نے بھی ڈیتھ اوورز میں اپنی رفتار اور درست یارکرز سے آسٹریلوی بلے بازوں کو پریشان رکھا۔ انہوں نے اننگز کی آخری گیند پر اولیور پیکے کو شاندار یارکر پر بولڈ کر کے آسٹریلیا کی اننگز کا اختتام کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تین میچوں کی سیریز ایک، ایک سے برابر ہوگئی، آخری میچ ۴؍  جون کو لاہور میں ہی کھیلا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK